03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فقہ شافعی میں تحریری طلاق کا حکم
92574طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

درج ذیل سوالات کے بارے میں رہنمائی درکار ہے:

1۔کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فقہ شافعی میں تحریری طلاق کے الفاظ کو کنا یہ شمار کیا جاتا ہے اور اس میں طلاق کے وقوع کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے؟ مثلاً اگر کوئی زید دل میں طلاق دینے کی نیت کے بغیر یہ لکھے کہ "میں نے زینب کو طلاق دی"، تو کیا اس لکھنے سے طلاق واقع ہو جائے گی یا اس کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے؟

2۔اگر کوئی شخص تحریری طور پر ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یہ اقرار کرتے ہوئے یہ لکھے کہ "میں نے زینب کو طلاق دی تھی"، لیکن اس دوران اس کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو، تو کیا اس صورت میں اس کی منکوحہ پر طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔فقہِ شافعی میں تحریری طلاق کو کنایہ شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا طلاق کے وقوع کے لیے شوہر کی نیت کا ہونا لازم ہے۔ چنانچہ اگر زید نے زبان سے تلفظ کیے بغیر صرف یہ تحریر کیا کہ: 'میں نے زینب کو طلاق دی'، اور اس وقت اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی، تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ کیونکہ کنایہ کے ذریعے طلاق کا وقوع مکمل طور پر شوہر کے ارادے اور نیت پر موقوف ہوتا ہے۔

2۔اگر کوئی شخص تحریری طور پر ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یہ اقرار کرے کہ: 'میں نے زینب کو طلاق دی تھی'، اور اس تحریر کے وقت اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو اس صورت میں بھی اس کی منکوحہ پر طلاق واقع نہیں ہوگی؛ کیونکہ شافعی مذہب میں تحریری طلاق کو کنایہ شمار کیا جاتا ہے اور کنایہ کے ذریعے طلاق کے وقوع کا انحصار براہِ راست شوہر کی نیت پر ہوتا ہے۔

حوالہ جات

مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج» (4/ 463):

"لو كتب ناطق طلاقا، ولم ينوه فلغو، وإن نواه فالأظهر وقوعه"

روضة الطالبين وعمدة المفتين (8/ 40):

"إذا كتب القادر بطلاق زوجته، نظر، إن قرأ ما كتبه وتلفظ به في حال الكتابة، أو بعدها، طلقت، وإن لم يتلفظ، نظر، إن لم ينو إيقاع الطلاق، لم تطلق على الصحيح،"

فتاوى دار الإفتاء المصرية» (2/ 76 بترقيم الشاملة آليا):

"وأما الشافعية فقال ابن يونس، فى شرح التنبيه وإن قال الطلاق والعتاق لازم لى، ونواه لزمه، لأنهما يقعان

بالكناية مع النية، وهذا اللفظ محتمل، فجعل كناية،"

«المهذب في فقه الإمام الشافعي - الشيرازي» (3/ 9):

«باب ما يقع به الطلاق وما لا يقع

لا يقع الطلاق إلا بصريح أو كناية مع النية فإن نوى الطلاق من غير صريح ولا كناية لم يقع الطلاق"

صادق محمد

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

02  /جمادی الاولیٰ /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صادق محمد بن زرفروش

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب