| 92398 | شرکت کے مسائل | معاصر کمپنیوں کے مسائل |
سوال
ہماری کمپنی میں ورکرز کے لیے WPPF یعنی Workers' Profit Participation Fund کی مد میں 5 فیصد رقم جمع کی جاتی ہے۔ باہمی سمجھوتے اور طے شدہ ٹائم فریم شیڈول کے مطابق کمپنی کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
پہلی قسط ہر سال اگست کے مہینے میں ادا کی جائے۔ دوسری قسط کمپنی کا سالانہ آڈٹ مکمل ہونے کے بعد ادا کی جائے۔ گزشتہ ایک سال سے کمپنی نے دونوں اقساط کی رقم اپنے پاس روک لی تھی اور ورکرز کو وقت پر ادا نہیں کی۔
اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کمپنی نے ایک سال تک یہ رقم روک کر اپنے کاروبار میں استعمال کی، جس پر قانونِ وقت کے مطابق موجودہ سال کے بینک انٹرسٹ ریٹ + ڈھائی فیصد کے حساب سے تاخیری ہرجانہ / جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
نوٹ: کمپنی نے یہ رقم وقت پر ادا کرنے کے بجائے ایک سال تک اپنے کاروبار میں استعمال کی اور اس سے نفع کمایا،
- کیا ایسی صورت میں کمپنی پر اس رقم سے حاصل ہونے والا حقیقی منافع ( یعنی کمپنی نے اپنے عام حصص (Ordinary Shares) پر جو ڈیوڈنڈ دیا ہو، اس کا 75 فیصد) یا بینک انٹرسٹ ریٹ + 2.5 فیصد میں سے زیادہ کی ادائیگی لازم ہوگی اور کیا مزدوروں کے لیے اسے لینا درست ہوگا؟
- کیا یہ اضافی رقم جو تاخیر کی وجہ سے مزدوروں کو ملے گی سود کی مد میں شمار ہوگی یا نہیں؟ شرعی نقطہ نظر سے اس کی کیا حقیقت ہے؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1- یہ ضابطہ گو کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے تاہم اس کی بنیاد سرمایہ کاری کا موقع ضائع ہونے (opportunity cost) کے فلسفے پر ہے جو مالی جرمانہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ لہٰذا کسی بھی اصول کے مطابق اس رقم پر دیا جانے والا اضافہ ناجائز ہے اور مزدوروں کے لیے لینا جائز نہیں۔
البتہ کمپنی کے مالکان کو چاہیے کہ کمپنی کے استعمال کے لیے فنڈ سے رقم لیتے وقت ایسا راستہ اختیار کریں جس سے فنڈ کو ملنے والے منافع حلال ہوں۔ اسی طرح جب فنڈ کی رقم اپنی کمپنی کے علاوہ کہیں اور استعمال کرنی ہو تو وہاں بھی ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جو حلال ہوں۔ چونکہ دیگر اداروں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ٹرسٹیز کی اجازت درکار ہوتی ہے، لہٰذا ٹرسٹیز اور کمپنی مالکان دونوں پر لازم ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے حلال طریقہ اور حلال جگہ اختیار کریں، تاکہ مزدوروں کو ملنے والے منافع حلال ہوں اور مزدوروں کا نقصان بھی نہ ہو، بصورتِ دیگر ٹرسٹیز اور کمپنی مالکان گنہگار ہوں گے۔
2- مذکورہ بالا صورت میں مزدوروں کو ملنے والی اضافی رقم سود شمار ہوگی۔
حوالہ جات
القرآن الکریم: (آل عمران، الآیۃ: 130)
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo
تبيين الحقائق: (4/ 85)
اعلم أن الربا نوعان: ربا الفضل وربا النساء فالأول فضل مال على المقدر الشرعي وهو الكيل والوزن عند اتحاد الجنس والثاني فضل الحلول على الأجل وفضل العين على الدين في المكيلين والموزونين عند اختلاف الجنس أو في الجنس غير المكيلين والموزونين اهـ
بدائع الصنائع: (5/ 183)
فالربا في عرف الشرع نوعان: ربا الفضل، وربا النساء. (أما) ربا الفضل فهو: زيادة عين مال شرطت في عقد البيع على المعيار الشرعي، وهو الكيل، أو الوزن في الجنس عندنا وعند الشافعي هو: زيادة مطلقة في المطعوم خاصة عند اتحاد الجنس خاصة. (وأما) ربا النساء فهو فضل الحلول على الأجل، وفضل العين على الدين في المكيلين، أو الموزونين عند اختلاف الجنس، أو في غير المكيلين، أو الموزونين عند اتحاد الجنس عندنا وعند الشافعي رحمه الله هو فضل الحلول على الأجل في المطعومات، والأثمان خاصة، والله تعالى أعلم.
فقہ البیوع علی مذاہب الأربعۃ: (2/381-2-3)
إن حامل السهم يجب عليه أن يرفع صوته في الجمعية العمومية ضد الإقراض او الاقتراض الربوى، ولكم إذا رفض صوته بالاغلبية ودخل هذا الكسب المحرم فى أرباح الشركة ، فإنه يجب عليه أن يتخلص من هذا الكسب المحرم بالتصدق بما يساوى حصته من الإيراد الذي دخل في الشركة تبعاً من خلال هذا الإيداع …
ردالمحتار علی الدرالمختار: (3/14)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية...أن هارون أمرهما [أبايوسف ومحمد] أن يكبرا بتكبير جده، ففعلا ذلك ؛ امتثالا له ، لا مذهبا واعتقادا، قال في المعراج : لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة.(
تکملۃ فتح الملھم : (3/323)
و إن المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباح، فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، و إن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ.
تکملۃ فتح الملھم : (3/323)
ولکن ھذہ الطاعۃ کماأنھامشروطۃ بکون أمرالحاکم غیرمعصیۃ،فإنھا مشروطۃ أیضا بکون
الأمر صادرا عن مصلحۃ لا عن ھوی أو ظلم، لأن الحاکم لا یطاع لذاتہ، و إنما یطاع من حیث أنہ متول لمصالح العامۃ، فإن أمر بشیء اتباعا لھوی نفسہ دون نظر إلی مصالح المسلمین، فإنہ أمر صدر عن ذاتہ و شخصہ لا من حیث کونہ حاکما، فلا یقع بمثابۃ أمرہ من حیث کونہ حاکما، ولذالک قال الفقھاء: (تصرف الإمام علی الرعیۃ منوط بالمصلحۃ) و قد فصل إبن نجیم ھذہ القاعدۃ فی الأشباہ و النظائر.
The Sindh Companies Profits (Workers' Participation) Act, 2015.pdf
Investment of Fund. –
(1) The amount allocated or accruing to the Fund shall be available to the company for its business operations. The company may, however, request the Board to utilize the amount in the Fund for investment under sub- paragraph (7) and the Board may decide to invest the amount.
(2) The company shall pay to the Fund in respect of the amount in the Fund available to it for its business operations as aforesaid interest at the rate of 2-1/2 percent above the bank rate or 75 percent of the rate at which dividend is declared on its ordinary shares, whichever is higher. In case there is more than one class of ordinary shores on which different rates of dividend have been declared then the weighted average of the different rates of dividend shall be taken for the purpose of determining the rate of interest. The interest to the Fund shall accrue on and from the first day of the year next succeeding the year in which the scheme becomes applicable to the company. Even when the company does not wish to utilize the amount available to it under sub-paragraph (1), the interest at the rate aforesaid shall be payable by the company for the period between the date of allocation of any amount to the Fund and the date of its investment under sub- paragraph (7).
Investment of Fund. -
(7) The amount in the Fund which, under sub-paragraph (1), the company has requested to be utilized for investment under this paragraph may be invested by the Board for the purchase of any of the following, namely: --
(a) National Investment Trust (Unit) Certificates;
(b) Government securities including Defence and Postal Savings Certificates;"
"(3) If, at any time after the establishment of the Fund, the company raises any additional capital, otherwise than through the issue of bonus or bonus shares, the Fund shall have the first option to convert any amount available to the company under sub-paragraph (1) or any of the assets of the Fund into ordinary equity capital..."
Disbursement of benefits. --The disbursement of the benefits from the Fund shall be as under:
(a) 100 percent of the annual income of the Fund, including capital gains realized, shall be distributed each year to workers in proportion to their units of entitlement.
(b) A worker who voluntarily leaves the employment of the company or whose services are terminated shall be entitled to receive 100 percent of the net asset value of the units standing in his name.
provided, that a worker while in employment may choose to encase all the units standing in his name at any time at his discretion.
زبیر احمد
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
21 /04 /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


