| 92250 | علم کا بیان | علم اور علماء کی تعظیم کا بیان |
سوال
جماعت اسلامی عام رفاہی کام کرتی ہے، عرصہ دراز سے کرتی آ رہی ہے؛ جبکہ عموماً لوگ ان سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں۔کیا مودودی بھی عالم ہیں؟اور وہ باقاعدہ کسی دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہیں یا نہیں؟ کچھ حضرات کی نظر میں ان کے سامنے کسی بھی دیوبندی عالم کی کوئی اہمیت ہی نہیں، حتیٰ کہ ان کی تضحیک کرتے ہیں، باوجود منع کرنے پر بھی باز نہیں آتے۔ اس صورت میں ان حضرات سے احتراز( اعراض )کیا جائے یا نہیں؟ کہیں انتشار کی صورت نہ پیدا ہو جائے؟ صراحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جماعت اسلامی کا عوامی و رفاہی کاموں میں حصہ لینا اپنی جگہ ظاہر ہے، لیکن علمائے دیوبند کے نزدیک کسی بھی تحریک یا فرد کا حق پر ہونا ان کی رفاہی تنظیم کے بجائے کتاب و سنت اور اسلاف کی اتباع پر موقوف ہے؛ جہاں تک مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کا تعلق ہے تو وہ کسی باقاعدہ دینی ادارے یا مدرسے کے فارغ التحصیل اور سند یافتہ عالم نہیں تھے، بلکہ انہوں نے از خود مطالعہ اور جدید و قدیم علوم سے کچھ حصہ پایا تھا، جیسا کہ انہوں نے خود اپنی تحریرات میں اس کا اعتراف کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جمہور اکابرین دیوبند کے نزدیک ان کی فکر اور تحریروں میں متعدد ایسے تفردات، شذوذ اور افکار پائے جاتے ہیں جو سلف صالحین، صحابہ کرام کی عظمت اور جمہوراہل سنت والجماعت کے مسلمہ مسلک سے انحراف کا باعث ہیں؛ لہٰذا جو لوگ مولانا مودودی کی عقیدت میں اکابر علمائے دیوبند کی تضحیک و تحقیر کرتے ہیں، ان کا یہ رویہ شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ علمائے کرام کی توہین و تحقیر ہلاکت کا باعث ہے، تاہم ایسی صورت حال میں ان کے ساتھ الجھنے، لڑنے یا طعن و تشنیع کرنے کے بجائے حکمت، نرمی اور اعراض (پرہیز و سکوت) کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تا کہ معاشرے میں باہمی انتشار، تفرقہ اور فتنہ پیدا نہ ہو، چنانچہ اگر کوئی شخص فہم و تفہیم کا مخلصانہ رویہ رکھتا ہو تو اسے سنجیدگی اور احترام سے بات سمجھائی جائے، اور اگر وہ ہٹ دھرمی، تکرار اور اکابرین کی تضحیک پر اتر آئے تو اس سے مباحثہ ختم کر کے اعراض کرنا ہی بہترہے۔
حوالہ جات
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُذِ العَفْوَ وَأْمُرْ بِالعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الجَاهِلِينَ﴾ .
(سورة الأعراف: 199)
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ لاَ نَبْتَغِي الجَاهِلِينَ﴾.
(سورة القصص: 55)
عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا، وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وببيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه»
(سنن أبي داود ،4/ 253)
وفی الذخيرة ومن شتم عالما أوفقيها من غير سبب خیف علیہ الكفر ۔
(الفتاوی التاتارخانية ، 508/5 )
ويخاف عليه الكفر اذاشتم عالما او فقيها من غير سبب ۔
(الفتاوی الهندية ، 270/2)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03 /ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


