| 92248 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
وضو کے بعد اعضاء کو خشک کرنا سنت سے ثابت ہے یا نہیں؟ کپڑے پہنتے یا اتارتے وقت پہلے دائیں آستین اتاری جائے پھر بائیں، سنت طریقہ کیا ہے؟ کنگھی ایک دن چھوڑ کر کی جائے، غالباً علماء ایک دن بعد کرنا بتلاتے ہیں، بیچ کی مانگ نکالنا چاہیے، سنت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وضو کے بعد اعضاء کو تولیہ یا رومال وغیرہ سے خشک کرنا (پونچھنا) اور نہ پونچھنا (یوں ہی چھوڑ دینا) دونوں ہی صورتیں احادیث مبارکہ اور سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہیں البتہ اعضاء خشک کرتے وقت اعضاء کو بہت زیادہ شدت سے نہیں رگڑنا چاہیے تاکہ وضو کا کچھ اثر اور طہارت کا احساس باقی رہے۔
لباس پہننے اور اتارنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہنتے وقت دائیں (سیدھی) طرف سے ابتدا کی جائے (یعنی پہلے دائیں ہاتھ کو آستین میں ڈالا جائے) جبکہ اتارتے وقت اس کے برعکس پہلے بائیں (الٹی) طرف سے آستین اتاری جائے اور اس کے بعد دائیں طرف سے۔
نبی کریم ﷺ نے روزانہ بلا ضرورت ہر وقت بناؤ سنگھار اور کنگھی کے اہتمام میں لگے رہنے سے منع فرمایا ہے، اور حدیث شریف میں "إلا غباً" یعنی ایک دن چھوڑ کر ایک دن کنگھی کرنے کی ہدایت آئی ہے۔ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ ہر وقت شیشہ اور کنگھی لے کر تزیین و آرائش میں غلو کرنا مکروہ تنزیہی ہے؛ البتہ ضرورت اور حاجت کے وقت روزانہ کنگھی کرنے میں مضائقہ نہیں، لیکن مسنون طریقہ اعتدال کے ساتھ کنگھی کرنا ہی ہے ۔
سر کے بالوں میں درمیان (بیچ) سے بالکل سیدھی مانگ نکالنا سنت نبوی ﷺ ہے اور اس کے برعکس ٹیڑھی مانگ نکالنا یا غیر مسلم اقوام و فیشن کی تقلید کرنا خلاف سنت ہے ۔
حوالہ جات
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " كَانَ لِرَسُولِ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ ".
(الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ،23/ 306)
عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لبس قميصا بدأ بميامنه.
(سنن الترمذي ،3/ 291)
والمنقول في معراج الدراية وغيرها أنه لا بأس بالتمسح بالمنديل للمتوضئ والمغتسل إلا أنه ينبغي أن لا يبالغ ويستقصي فيبقى أثر الوضوء على أعضائه ولم أر من صرح باستحبابه إلا صاحب منية المصلي فقال ويستحب أن يمسح بمنديل بعد الغسل الإشارة الثالثة أن جميع السنن والمندوبات في الوضوء ثابتة في هذا الوضوء والغسل فتسن النية ويندب التلفظ بها.
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ، 1/ 54)
سر کے بیچ میں مانگ نکالنا اچھا ہے۔
( فتاویٰ محمودیہ، 392/24)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03 /ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


