03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹا ، دو بیٹیاں اور ایک اہلیہ کے درمیان وراثت کی تقسیم
91837میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

    میرے والد صاحب کا دو دن پہلے انتقال ہوا ہے۔ ورثہ میں ایک بیٹا (میں)، دو بیٹیاں اور ایک اہلیہ ہیں۔

    ۱۔  والد صاحب کے پاس موجود رقم کی تقسیم ہم چار لوگوں میں  کس حساب سے ہوگی؟

    ۲۔ گھر کا جو سامان  والد صاحب  کا خریدا ہوا ہے یا  جو انہیں گفٹ ملا ، اس کی تقسیم کس حساب سے ہوگی؟

    ۳۔ والد صاحب کے پاس پرائز بانڈز اور اس کے پیسے  بھی تھے، ان کا کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔ مرحوم نے انتقال کے وقت منقولہ ، غیر منقولہ  جائیداد میں سےجو کچھ چھوڑا ہے وہ اور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تووہ قرض سب ان  کا ترکہ ہے۔ اس ترکے  میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا ۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ ان تمام اخراجات کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

بیان کردہ صورت کے مطابق ورثہ میں بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ چنانچہ کل ترکہ میں سے بیوی کو 12.5فیصد، بیٹے کو 43.75 فیصد، اور ہر بیٹی کو 21.875 فیصد حصہ ملے گا، جس کا نقشہ درج ذیل ہے:

ورثہ

بیوی

بیٹا

بیٹی

بیٹی

مجموعہ

عددی حصہ

4

14

7

7

32

فیصدی حصہ

12.5%

43.75%

21.875%

21.875%

100%

 

   

 

 

 

۲  ۔  یہ سامان  بھی  میت کے ترکے میں شمار ہوگا، اور ان چیزوں کی  تقسیم بھی مذکورہ شرعی حصص کے مطابق ہوگی۔

۳۔ پرائز بانڈز کی خرید و فروخت شرعاً ناجائز ہے۔ یہ سود اور قمار (جوئے) پر مشتمل ہوتے ہیں؛ کیونکہ ان کی رقم درحقیقت حکومت کو دیا گیا قرض ہوتی ہے، اور اس قرض پر قرعہ اندازی کے ذریعے اضافی رقم (انعام) حاصل کرنا قانوناً و عرفاً مشروط ہوتا ہے، جو سود ہے، جبکہ انعام کا حصول قرعہ اندازی پر موقوف ہونے کی وجہ سے اس میں قمار کی قباحت بھی پائی جاتی ہے۔

لہٰذا آپ کے والدِ مرحوم کے پرائز بانڈز سے حاصل شدہ منافع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ہوگا۔ نیز جتنے پرائز بانڈز موجود ہیں، انہیں اصل قیمت کے عوض فروخت کرکے یا نیشنل بینک میں واپس کرکے اصل رقم وصول کی جائے، اور اسے ترکے میں شامل کیا جائے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم  (سورة النساء: 11):

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .

القرأن الكريم  (سورة النساء: 12):

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق   (8/ 558):

إذا مات الرجل يبدأ من تركته بتكفينه وتجهيزه بالمثل والمثل ما يلبس عند الخروج ........، ثم الدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل دين المرض، وإن كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض فإن كان الكل سواء لا يقدم البعض على البعض، وإن كان الدين دين الصحة والبعض دين المرض ثبت بالبينة أو المعاينة فهو دين الصحة سواء ........ وتنفذ وصاياه من ثلث ماله، وفي الفرائض للحسامي، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.

قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350):

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال .

مجلة الأحكام العدلية (210):

المادة (2 9 0 1) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم.

القرآن الکریم (المائدۃ : 90):

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 403):

(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.

بحوث في قضایا فقهیة معاصرة: (بیع الدین والأوراق المالیة: 2/ 111):

السند (BONDS) في الإصطلاح المعاصر وثیقة یصدرها المدیون لمقرضه اعترافًا منه بأنّه استقرض من حاملها مبلغًا معلومًا یلتزم بأدائه في وقت معلوم… وإنّ هذہ السندات، سواء أصدرتها الشرکات أو أصدرتها الحکومة إنّما تلتزم بأداء فوائد ربویة إلی من یحملها، فالسند الّذي قیمتة الإسمیة مائة ربیة مثلاً تستحق أن یدفع لحاملها مائة و عشرة بعد سنة.

القرأن الكريم(البقرۃ :289):

وإن تبتم فلکم رؤوس أموالکم  لا تظلمون ولا تظلمون .

فتاوی عثمانی(۳/۳۰۷) :

مفتی محمدتقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں: انعامی بانڈ پر جو رقم بطور انعام ملتی ہےوہ سود اور قمار پر مشتمل ہونے کی بناپرناجائزہے اوراسکاوصول کرناحرام ہے۔اگربانڈخریدلیاہوتوصرف اپنی دی ہوئی اصل رقم وصول کرسکتےہیں۔

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب