03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے کپڑوں اور دیگر استعمالی اشیاء کا حکم
91755میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میت کے جو استعمال کی چیزیں ہیں، جیسے کپڑے وغیرہ، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا تمام ورثہ کی اجازت سے وہ   صدقہ کیے جاسکتے ہیں؟   (یہ بھی سنا  کہ استعمال کی چیزوں کو ٹھنڈا کرنا ضروری ہے، جادو وغیرہ سے بچنے کے لیے ۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 میت کے کپڑے اور اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے ترکے میں شامل ہے، جسے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا واجب ہے۔ تقسیم سے پہلے کسی وارث کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دیگر ورثہ کی رضامندی کے بغیر مشترکہ ترکے میں کوئی تصرف کرے۔ البتہ اگر تمام ورثہ عاقل و بالغ ہوں اور ان میں کوئی بھی نابالغ نہ ہو (کیونکہ نابالغ کے بالغ ہونے سے پہلے اس کی رضامندی معتبر نہیں ہوتی)، اور وہ باہمی رضامندی سے میت  کے استعمال شدہ کپڑے وغیرہ مستحقین کو صدقہ کرنا چاہیں، تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے۔ لیکن اسے واجب یا ضروری سمجھنا بدعت ہے۔اورمیت کے   استعمال کی چیزوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔یہ عوام میں مشہور غلط نظریات میں سے ہے۔ ان توہمات سے بچنا چاہیے۔

حوالہ جات

 صحيح البخاري (7/ 135):

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:  لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر.

البحر المحيط  شرح صحيح الإمام مسلم  (17/ 269):

أن البِدَعَ التي لا أصل لها من الكتاب والسنة شرُّ الأمور، وأنها هي الضلالة بعينها، فيجب اجتنابها، والحذر منها، والبعد عن أهلها، حتى لا يقع العاقل في مهواتها، فيكون مأواه نار جهنم وبئس المصير.

قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار  (7/ 350):

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال .

مجلة الأحكام العدلية (210):

المادة (2 9 0 1) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم.

احکام میت (۲۱۷)

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق   (3/ 324):

وأما شرطه فهو الشرط في سائر التبرعات من كونه حرا عاقلا بالغا.

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب