| 91499 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے والد مرحوم کے موروثی پلاٹ کو فروخت کرنے کے لیے سوسائٹی کو بعض فیسیں ادا کی گئیں۔اسی طرح فروخت کے سلسلے میں مرحوم کی اہلیہ کا ایف بی آر ٹیکس ادا کیا گیا، اور ٹیکس کم لاگو ہونے کے لیے انہیں فائلر بنانے کی غرض سے ٹیکس وکیل (Tax Lawyer) کو بھی فیس دی گئی۔ کیا یہ سوسائٹی فیسیں، ٹیکس اور وکیل کی فیس بھی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے منہا کی جائے گی یا نہیں؟
تنقیح:پلاٹ کے کاغذات مرحوم کی اہلیہ کے نام پر تھے اور نان فائلز کی جانب سے پلاٹ فروخت کرنے کی صورت میں ٹیکس زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فروخت کی تکمیل یا ٹیکس وغیرہ میں قانونی طور پر رعایت حاصل کرنے کے لیے جو فیسیں یا قانونی اخراجات ناگزیر تھے، انہیں فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے پہلے منہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو خالص رقم بچے گی، وہ شرعی ورثاء کے درمیان ان کے مقررہ حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 90)
(المادة 87) الغرم بالغنم
الغرم بالغنم … أي أن من ينال نفع شيء يجب أن يتحمل ضرره مثلا أحد الشركاء في المال يلزمه من الخسارة بنسبة ما له من المال المشترك كما يأخذ من الربح.
وإليك فيما يلي بعض المسائل المتفرعة عن هذه القاعدة كل مسألة تحت عنوان من نوعها…الشركة - إذا احتاج ملك مشترك للتعمير والترميم فعلى كل واحد من الشركاء أن يدفع من النفقات بنسبة حصته في الملك
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11صفر 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


