| 77130 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
محترم مفتیان کرام
ہمارے خاندان والے عید کے دن سحری سے ایک دو گھنٹے قبل روزہ رکھتے تھے اور پھر بعد میں توڑ دیتے تھے اور یہ بھی بولتے تھے کہ میں اس روزے کو توڑ رہا ہوں۔اس بارے میں کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عید کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں ۔اگر کوئی روزہ رکھ لے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے توڑ دے اور اس توڑنے کی وجہ سے اس پر کوئی قضا یاکفارہ لازم نہیں ہوگا۔ آپ کے خاندان والوں کو چاہیے کہ وہ گزشتہ عمل پر استغفار کریں اور آئندہ عید کے دن روزہ رکھنے سے مکمل اجتناب کریں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 201)
ويكره صوم يوم العيدين، وأيام التشريق، وإن صام فيها كان صائما عندنا كذا في فتاوى قاضي خان ولا قضاء عليه إن شرع فيها ثم أفطر كذا في الكنز هذا في ظاهر الرواية عن الثلاثة وعن الشيخين وجوبه كذا في النهر الفائق.
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
14ذوالقعدہ1443 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


