| 77218 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
محترم مفتیان کرام
میں بطور سپاہی بلوچستان پولیس میں بھرتی ہوا ہوں۔مجھے کچھ مسائل کے بارے میں راہنمائی درکار ہے۔
کچھ سپاہی پیسے دے کر گھر پر رہتے ہیں یا کوئی کاروبار کرتے ہیں ،میں نے بھی اسی طرح پیسے دے کر ایک سال گھر پر گزارا ہے۔اگر میں گناہ گار ہوں تو کیا اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کرسکتا ہوں کہ میری 20 ماہ یعنی 600 دن سے زائد کی چھٹیاں باقی ہیں ان میں سے گھر پر گزارے ہوئے ایک سال یعنی 365 دن اس نیت سے چھوڑ دوں اور یہ اس گھر میں گزارے ہوئے ایک سال کا بدلہ ہوجائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
غیرقانونی طور پررشوت دے کر ملازمت سے غیر حاضر رہنا جائز نہیں ۔لہذا آپ نے جتنے دن بغیر ڈیوٹی کے گزارے ان کی تنخواہ لینا آپ کے لیے جائز نہیں تھا اور جو چھٹیاں آپ کی باقی ہیں وہ محض آپ کی نیت وارادے سے ان غیرقانونی چھٹیوں کے بدل کر طور پرمنہا نہیں ہوسکتیں،البتہ ادارے کی پالیسی میں اس بات کی گنجائش موجود ہو اورجن ذمہ داروں کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہو وہ اجازت دے دیں تو درست ہوگا۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 458)
الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.
ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل.أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة، فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة.
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
7ذوالقعدہ1443 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


