03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار بیٹے،دوبیٹیوں،ایک بھائی اورایک مرحوم بیٹے کی اولاد و بیوہ میں تقسیم میراث
76835میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری والدہ کا انتقال مؤرخہ 17 اپریل 2022 کو ہوا،جن کے ورثاء میں ہم 4 بھائی اور دو بہنیں شادی شدہ ہیں ۔والدہ کی زندگی میں ایک بھائی کا انتقال ہوگیاتھا جن کے 4 بیٹے اور ایک بیوہ بھی ہیں۔والدہ کا ایک بھائی بھی ہے جو ملک سے باہر ہے اور اس بھائی کے بیوی بچے نہیں ۔

مرحومہ کےشوہر یعنی ہمارے والد 30 سال قبل فوت ہوچکے تھے۔والدہ کے ترکے میں کچھ زیورات تھے جن کی مالیت بوقت وفات ایک لاکھ ستر ہزارتھی ۔ترکہ کن ورثاء میں اور کس شرح سے تقسیم کرنا ہوگا؟براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کی وفات کے وقت ان کی ملکیت میں جتنا بھی چھوٹا اور بڑا سازو سامان تھا وہ سب کا سب ان کا ترکہ شمار ہوگا۔اگر مرحومہ کے ذمے کوئی بھی مالی حق واجب الاداء  رہ گیا تھا توسب سے پہلے ترکے سے اسے ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو باقی بچے گا اس میں ان کے ورثاء میں سے چاروں حیات بیٹوں میں سے ہر ایک کو 20 فیصد،اور ہر حیات بیٹی کو 10 فیصد حصہ ملے گا،جبکہ مرحومہ کے بھائی اور مرحوم بیٹے کی اولاد و بیوہ کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

(والأحق الابن ثم ابنه، وإن سفل) أي أولاهم بالعصوبة جزء الميت، وإن سفل وغيرهم محجوبون بهم لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11]

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 15شوال1443 ہجری

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب