| 92695 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص اپنی منگیتر سے قسم کھا کر یہ کہے کہ ’’میں تم سے پانچ مہینے کے اندر شادی کروں گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر کبھی تم سے شادی نہیں کروں گا، پھر اپنے والدین کے گھر رہو‘‘۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس شخص کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے مذکورہ قسم کے ساتھ پانچ مہینے کے اندر شادی نہ کرنے پر ساری عمر پھر شادی نہ کرنے کی قسم کھائی تھی یا نہیں۔اس سلسلے میں جب اس شخص نے اپنی منگیتر سے دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ ’’مجھے محض اتنا یاد ہے کہ آپ نے صرف اس بات پر قسم کھائی تھی کہ پانچ ماہ بعد ہر حال میں مجھ سے شادی کریں گے؛ البتہ مجھے یہ یاد نہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ یہ بھی قسم کھائی تھی یا نہیں کہ اگر پانچ ماہ بعد شادی نہ ہوئی تو پھر ساری زندگی مجھ سے شادی نہیں کریں گے۔‘‘
اب اگر کسی وجہ سے پانچ ماہ بعد اس شخص کی اپنی منگیتر سے شادی نہ ہو سکی۔ تو:
- کیا مذکورہ قسم کی وجہ سے پانچ ماہ گزرنے کے بعد چاہے ایک یا دو سال بعد، بلکہ کسی بھی وقت، اسی منگیتر سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟
- اگر مذکورہ شخص نے قسم توڑ دی اور اس کا کفارہ ادا نہیں کیا تو کیا اس سے آئندہ ہونے والے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ یعنی نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟
- اس صورت میں کفارۂ قسم کب لازم ہوگا: پانچ ماہ کی مدت مکمل ہوتے ہی یا نکاح کے بعد؟
- اگر کفارہ لازم ہو تو اسے کب ادا کرنا ضروری ہوگا، اور اس معاملے میں کتنے کفارے لازم ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پانچ مہینے کے اندر شادی نہ کرنے کی وجہ سے قسم ٹوٹ جائے گی جس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا ۔:
1. قسم کے کفارہ ادا کرنے کے بعد مذکورہ شخص کسی بھی وقت اپنی منگیتر سے نکاح کرسکتا ہے۔
2. کفارہ اگر ادا نہ کیا ہو تو کفارہ اس کے ذمے باقی رہے گا تاہم عدم ادائیگی سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔نکاح صحیح ہوگا۔
3. پانچ مہینے پورے ہوتے ہی مذکورہ شخص کے حانث ہونے کی وجہ سے کفارہ لازم ہوجائے گا۔
4. کفارہ پانچ مہینے کی مدت پوری ہونے پر لازم ہوگا اور اس صورت میں ایک قسم ہونے کی وجہ سے ایک ہی کفارہ لازم ہوگا۔جو کہ صاحب استطاعت ہونے کی صورت میں دس مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے دینا ہے۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو پھر تین دن مسلسل روزے رکھنے ہوں گے۔
’’اگر پانچ ماہ بعد شادی نہ ہوئی تو پھر کبھی تم سے شادی نہیں کروں گا‘‘ محض وعدے یا اپنی بات کی یقین دہانی کے طور پر کہا گیا ہے، اس لیے اس سے شرعی قسم منعقد نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 52):
والشرط الصالح ما يكون معدوما على خطر الوجود، والجزاء الصالح ما يكون متيقن الوجود، أو غالب الوجود عند وجود الشرط، وذلك بأن يكون مضافا إلى الملك، أو إلى سببه، وأن يكون الجزاء مما يحلف به حتى لو لم يكن كذلك لا يكون يمينا كالوكالة، والإذن في التجارة فإنه إذا قال: إن فعلت كذا فقد، وكلتك، أو أذنت لك في التجارة لا يكون يمينا كذا ذكره الإمام خواهر زاده هكذا في شرح تلخيص الجامع الكبير......وأما الحلف بالطلاق، والعتاق، وما أشبه ذلك فما يكون على أمر في المستقبل فهو كاليمين المعقود، وما يكون على أمر في الماضي فلا يتحقق اللغو، والغموس، ولكن إذا كان يعلم خلاف ذلك، أو لا يعلم فالطلاق واقع، وكذلك الحلف ينذر؛ لأن هذا تحقيق، وتنجيز كذا في الإيضاح.
مختصر القدوري (ص210):
وكفارة اليمين: عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار.وإن شاء كسا عشرة مساكين كل واحد ثوبا فما زاد وأذناه ما تجزئ فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار فإن لم يقدر على أحد الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 311):
وَلَوْ قَالَ حَقًّا لَا يَكُونُ يَمِينًا؛ لِأَنَّ الْمُنَكَّرَ مِنْهُ يُرَادُ بِهِ تَحْقِيقُ الْوَعْدِ فَكَأَنَّهُ قَالَ: أَفْعَلُ كَذَا حَقِيقَةً لَا مَحَالَةَ وَهَذَا قَوْلُ الْبَعْضِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ إنْ أَرَادَ بِهِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى يَكُونُ يَمِينًا كَذَا فِي الْخَانِيَّةِ، وَفِي الْمُجْتَبَى وَحَقًّا، أَوْ حَقًّا اخْتِلَافُ الْمَشَايِخِ وَالْأَكْثَرُ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِيَمِينٍ.
الموسوعة الفقهية(35/45):
ذهب الفقهاء إلى أن من حلف على أمور شتى بيمين واحدة،فكفارته كفارة يمين واحدة كمالوقال:والله لن أكل ولن أشرب ولن ألبس فحنث بالجميع فكفارته واحدة،لأن اليمين واحدة والحنث واحد ،فإنه يفعل واحد من المحلوف عليه يحنث وتنحل اليمين .
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/ جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


