| 90964 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کہ متعلق کے عارف کو ایک بندہ دبی میں اپنی گاڑی دیتا ہے کہ آپ اسے چلائیں اور ایک ماہ میں جو کمائی ہوگی ،وہ ہم دونوں آدھی آدھی کریں گے۔ لیکن اس نے عارف کے ساتھ یہ شرط رکھی ہے کہ آپ ہر مہینے مجھے ڈیزل کی مد میں 5800 درہم ادا کریں گے اور کل کمائی میں سے باقی رقم آدھی آدھی ہوگی۔ اس بندے نے جب گاڑی لی ،تو اس کی ڈیزل کی ٹینکی میں ایک آٹومیٹک اکاؤنٹ لگا ہوا تھا ،جب بھی ڈیزل ڈلواتے ،تو اس اکاؤنٹ سے اتنی رقم کٹ جاتی لیکن یہ رقم اس کے اکاؤنٹ سے کٹتی ہے جس نے یہ اکاؤنٹ لگوایا تھا اور عارف نہیں جانتا کہ یہ اکاؤنٹ سسٹم کس نے لگوایا تھا۔ اب عارف00 58 درہم اس بندے کو دیتا ہے لیکن وہ بندہ آگے کسی کو پیسے نہیں دیتا ،بلکہ خود استعمال کرتا ہے ۔میرا سوال یہ ہے کہ عارف کے لیے یہ گاڑی اس شرط پر چلانا شرعی اعتبار سے کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ عقد، عقدِ فاسد ہےاس کا حکم یہ ہے کہ اسے ختم کیاجائے۔اس عقد کے نتیجے میں حاصل شدہ تمام آمدنی گاڑی کےمالک کی ہے اور ڈرائیور کو اس کے عمل کی اجرت ِمثل (مناسب تنخواہ کی صورت میں) دی جائےگی ۔ چونکہ ساری آمدنی مالک کی ملکیت ہوگی ،اس لیے پیٹرول کے سارے اخراجات بھی مالک کے ذمے ہوں گے ۔
البتہ اس عقد کے جواز کی ایک متبادل صورت یہ ہے کہ اجارے کا معاملہ کیا جائے ،یعنی گاڑی کا مالک ،"گاڑی" کا ماہانہ کرایہ متعین کرے۔ مثلا: ماہانہ 10ہزار درہم ۔ اس صورت میں متعین کرایہ مالک وصول کرے گا اور باقی حاصل شدہ آمدن ڈرائیور کی ملکیت ہوگی اور معمول کے اخراجات جیسے پٹرول، پنکچروغیرہ، ڈرائیور کے ذمے جبکہ بڑے اخراجات جیسے انجن کا کام کروانا ،ٹیکس وغیرہ ادا کرنا ،مالک کے ذمے ہوں گے۔ اس طریقے سے کیا ہوا عقد جائز ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہوگی کہ ڈرائیور کی ماہانہ تنخواہ مقرر کر لی جائے، وہ اس کا حقدار ہوگا ،آمدن سب گاڑی کے مالک کی ہوگی۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (11/ 219):
قال: (رجل دفع دابته إلى رجل يؤجرها على أن ما أجرها به من شيء فهو بينهما نصفان؛ فهذه الشركة فاسدة)؛ اعتبارا للعقد الوارد على المنفعة به بالعقد الوارد على الدين. ولو دفع الدابة إليه ليبيعها على أن الثمن بينهما نصفان؛ كان فاسدا، فكذلك الإجارة، والأجر كله لرب الدابة؛ ولأن المدفوع إليه وكيله في إجارتها، وإجارة الوكيل كإجارة الموكل، وللذي أجرها أجر مثله؛ لأنه ابتغى عن منافعها عوضا، ولم ينل ذلك لفساد العقد؛ فكان له أجر مثله. وكذلك السفينة والبيت بمنزلة الدابة في ذلك.
مجلۃ الاحکام العدلیۃ،۲۶۹
إذا عقد اثنان شركة الأعمال ولأحدهما بغل وللآخر جمل على تقبل وتعهد نقل الحمولة متساوياً فيصح ويقسم الكسب الحاصل والأجرة بينهما مناصفة ولا ينظر الى زيادة حمل الجمل لأن استحقاق البدل في شركة الأعمال يكون بضمان الشريكين العمل ، لكن إذا لم يعقدا الشركة على تقبل العمل بل على إيجار البغل والجمل عيناً وتقسيم الأجرة الحاصلة بينهما فالشركة فاسدة وأي يؤجر من بغل أو جمل تكون أجرته عائدة إلى صاحبه لكن إذا أعان احدهما الآخر في التحميل والنقل فيأخذ أجر مثل عملہ.
المبسوط للسرخسي (11/ 219):
قال: (وليست الشركة في إجارة الدواب بأعيانها مثل الشركة في عمل أيديهما بأدائهما)، حتى إذا اشترك قصاران، لأحدهما أداة القصارين، وللآخر بيت على أن يعملا بأداة هذا في بيت هذا، على أن الكسب بينهما نصفان؛ كان جائزا؛ لأن استحقاق الأجر هناك باعتبار تقبل العمل، والعمل بالتقبل يصير مضمونا على كل واحد منهما، والتوكيل في ذلك صحيح، فكذلك الشركة. وهنا استحقاق الأجر بمقابلة منفعة الدابة، فإذا كان كل واحد منهما مختصا بملك منفعة دابته؛ لم يجز للشركة بينهما فيهما.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6 1 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


