| 90840 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص کا انتقال ہوا جس کے ورثاء میں سے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ مالِ میراث بھائیوں نے آپس میں تقسیم کیا اور بہنوں کو کچھ نہ دیا۔ اب ایک بھائی اپنے حصے میں سے بہنوں کو ان کا حق دینا چاہتا ہے، تو وہ کس طرح بہنوں کو حصہ دے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس وراثت کے کل 12 حصے بنتے ہیں جن میں سے ہر بھائی کا حق دو حصے اور ہر بہن کا حق ایک حصہ ہے، لیکن چونکہ چاروں بھائیوں نے بہنوں کو محروم کر کے جائیداد آپس میں بانٹ لی، اس لیے ہر بھائی کے پاس اپنے دو حصوں کے بجائے تین حصے آ گئے۔ اب جو بھائی آخرت کی پکڑ سے بچنے کے لیے بہنوں کا حق لوٹانا چاہتا ہے، اس پر لازم ہے کہ اس کے قبضے میں جتنی بھی جائیداد یا رقم آئی ہے اس کے تین برابر حصے کرے؛ دو حصے اپنا شرعی حق سمجھ کر اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ (یعنی اپنے کل قبضے کا ایک تہائی) نکال کر اپنی چاروں بہنوں میں برابر تقسیم کر دے، اس طرح وہ عنداللہ اپنے انفرادی ذمے سے بری ہو جائے گا، البتہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے دیگر بھائیوں کو بھی اللہ کا خوف دلائے تاکہ وہ بھی بہنوں کا غصب شدہ حق واپس لوٹا کر گناہِ کبیرہ سے بچ سکیں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی :
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 11)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)
فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.
مسند أحمد مخرجا (33/ 277)
عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «على اليد ما أخذت حتى تؤديه»
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
وفيه ایضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/1/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


