| 90814 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: فقہِ حنفی میں یہ مسئلہ معروف ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس: - سونا الگ سے نصاب کو نہ پہنچتا ہو، اور چاندی بھی الگ سے نصاب کو نہ پہنچتی ہو، تو سونا، چاندی اور نقدی کو باہم ملا کر نصاب مکمل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی صرف نقد رقم ہی چاندی کی قیمت کے اعتبار سے نصاب کو پہنچ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں فقہاءِ احناف کی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ دراہم و دنانیراور ان کے قائم مقام نقدی میں زکوٰۃ مطلقاً واجب ہوتی ہے خواہ وہ نفقہ و خرچ کیلئے ہی کیوں نہ رکھی گئی ہو۔ جیسا کہ" الدر المختار" (وَثَمَنِيَّةُ الْمَالِ كَالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ) فَتَلْزَمُ الزَّكَاةُ كَيْفَمَا أَمْسَكَهُمَا وَلَوْ لِلنَّفَقَةِ)اور "بدائع الصنائع "(وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئا.) کی عبارت سے معلوم ہورہاہے۔لیکن دوسری طرف فقہاءِ احناف کی متعدد عبارات میں “حوائجِ اصلیہ” کا اعتبار بھی مذکور ہے مثال کے طور پر"تبيين الحقائق" (لأن المشغول بالحاجة الأصلية كالمعدوم)" مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" )وهو فاضل عن حوائجه الأصلية كالدين في النقود( "رد المحتار"(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگرسونا اکیلے نصاب کو نہ پہنچتا ہو، چاندی بھی اکیلے نصاب کو نہ پہنچتی ہو، لیکن سونا ،چاندی اور نقدی کو ملا کر نصاب مکمل ہوجاتا ہو، یاصرف نقد رقم ہی چاندی کی قیمت کے اعتبار سے نصاب کو پہنچتی ہو، تو کیا ایسی نقدی مطلقاً شمار کی جائے گی اگرچہ وہ ماہانہ اخراجات، علاج، کرایہ، بچوں کی ضروریات، یا دیگر حوائجِ اصلیہ کیلئے محفوظ رکھی گئی ہو؟ یا فقہاءِ احناف کے أصول" الحوائج الأصلية تمنع وجوب الزكاة "کی بنا پر ایسی رقم نصاب سے مستثنیٰ ہوگی؟ نیز "ولو للنفقة"اور "فاضل عن حوائجه الأصلية" میں تطبیق کس طرح دی جائے گی؟ برائے کرم مفتیٰ بہ قول اور دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ بات تو درست ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس کچھ سونا، چاندی ،نقدی اور مال تجارت میں سے بعض کا مجموعہ یا کل کا مجموعہ ساڑھے با ون تولے چاندی کی مالیت کے بقدر ہو ، اور یہ اموال حاجات اصلیہ سے زائد ہوں ، تو ان پر زکوۃ ہوگی اور اگر حاجاتِ اصلیہ میں مصروف ہوں،تو زکوۃ نہیں ہوگی۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس نے حاجات ِاصلیہ ادھار خرید لی ہیں اور ان کی ادائیگی اس کے ذمے واجب ہے،تو اتنی رقم منہا کی جائے گی ۔ اگر اس لیے رکھی ہوئی ہیں ،کہ آئندہ چل کر اس سے حاجات خریدوں گا یا مثلا ًمکان خریدوں گا، تو یہ حاجات اصلیہ میں مصروف نہیں ہے۔ لہذا اس رقم پر زکوۃ ہوگی۔ فقہاء کی عبارت (لأن المشغول بالحاجة الأصلية كالمعدوم) کا مطلب یہی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ ایسامال ِزکوۃ جو بالفعل حوائج اصلیہ کے ساتھ مشغول ہو ،اسےنصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا ،بلکہ "الحوائج الأصلية تمنع وجوب الزكاة"کی بنا پر حولان ِحول کے وقت ایسی رقم جو حوائج اصلیہ میں صرف کرلی گئی ہو، اسے نصاب سے مستثنیٰ قراردے کر باقی ماندہ مال اگر نصاب تک پہنچ جائے، تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی ،ورنہ نہیں ہوگی ۔ البتہ اگر کسی کو فوری حاجات اصلیہ کی طلب ہو، تو اسے چاہیے کہ زکوۃ کے حساب کی تاریخ سے پہلے پہلے وہ سامان خرید لے۔اس صورت میں زکوۃ کی تاریخ آنے پر اتنی رقم کا حساب نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ جات
حاشیۃ ابن عابدین ،:2/262
(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم. اهـ. وظاهر قوله فإذا كان له دراهم إلخ أن المراد من قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية ما كان نصابا من النقدين أو أحدهما فارغا عن الصرف إلى تلك الحوائج، لكن كلام الهداية مشعر بأن المراد به نفس الحوائج، فإنه قال: وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ. وبه يشعر كلام المصنف الآتي أيضا. وأشار كلام الهداية إلى أنه لا يضر كونها غير نامية أيضا؛ إذ لا مانع من خروجها مرتين كما خرج الدين ثانيا بقوله: فارغ عن حوائجه الأصلية، وخصه بالذكر كما قال القهستاني لما فيه من التفصيل.
قلت: على أنه لا يعترض بالقيد اللاحق على السابق الأخص، فإن الحوائج الأصلية أعم من الدين والنامي أعم منها لأنه يخرج به كتب العلم لغير أهلها، وليس من الحوائج الأصلية، لكن قد يقال: المتون موضوعة للاختصار فما فائدة إخراج الحوائج مرتين، نعم تظهر الفائدة في ذكر القيدين على ما قرره ابن ملك من أن المراد بالأول النصاب من أحد النقدين المستحق الصرف إليها، فيكون التقييد بالنماء احترازا عن أعيانها، والتقييد بالحوائج الأصلية احترازا عن أثمانها، فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.
قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 11):
ومنها كون المال فاضلا عن الحاجة الأصلية؛ لأن به يتحقق الغنى ومعنى النعمة وهو التنعم وبه يحصل الأداء عن طيب النفس إذ المال المحتاج إليه حاجة أصلية لا يكون صاحبه غنيا عنه ولا يكون نعمة إذ التنعم لا يحصل بالقدر المحتاج إليه حاجة أصلية؛ لأنه من ضرورات حاجة البقاء وقوام البدن فكان شكره شكر نعمة البدن.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07 / محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


