| 91065 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
مفتی صاحب مسجد کا گیٹ ہر جماعت کی نماز کھڑے ہونے سے کتنی دیر پہلے کھولنا چاہیے؟ اگر فجر کی جماعت کی نماز 4:30 پر ہوتی ہے تو شریعت کیا کہتی ہے کہ مسجد کس وقت کھولنی چاہیے؟ اسی طرح ظہر کی نماز 1:30پر، عصر کی 5:30 پر ،مغرب کی نماز 7:30 پر ، عشاء کی نماز 9:20 پر ہوتی ہے ۔مفتی صاحب آپ بالکل exact ٹائم بتا دیں۔ میں نے مسجد کے خادم صاحب کو دکھانا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فتوے میں exact ٹائم نہیں لکھا۔مفتی صاحب بہت مشکل ہوتی ہے جب میں عصر کی نماز کے لیے 5 بجے مسجد کے گیٹ کے باہر کھڑا ہوتا ہوں اور گیٹ بند ہوتا ہے ۔ مفتی صاحب اور نمازوں میں بھی بہت مشکل ہوتی ہے، ہر نماز میں نہیں لیکن ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں مسجد کا دروازہ بند رکھنا مکروہ ہے ، البتہ مسجد اور اس میں رکھے سامان کی سیکیورٹی، اسی طرح دیگر کسی ضرر و فساد سے حفاظت کے پیش نظر نماز کے علاوہ اوقات میں مسجد کا دروازہ بند رکھنا جائز ہے ۔اسی بناء پر دورِ حاضر میں عموماً مساجد کے دروازے بند رکھے جاتے ہیں ۔
جہاں تک نمازوں کے اوقات میں مسجد کا دروازہ کھولنے کی بات ہے تو شریعت کی طرف سے اس کا کوئی متعین وقت مقرر نہیں ہے، یہ ایک انتظامی امر ہے ۔ البتہ نمازیوں کی سہولت کے پیش نظرزیادہ مناسب یہی ہے کہ کم از کم جماعت کھڑی ہونے سے آدھا گھنٹہ قبل مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے ، تاکہ اس میں نماز کی تیاری، وضو وغیرہ اور جماعت سے قبل سنن کی ادائیگی بھی تسلی سے کی جاسکے ۔ اسی طرح اس میں بوڑھے اور معذور افراد کی رعایت بھی ہو جاتی ہے ۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (1/ 656):
«غلق الباب يغلقه لغية رديئة في أغلقه. اهـ. قال في البحر: وإنما كره لأنه يشبه المنع عن الصلاة، قال تعالى - {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} [البقرة: 114]- ومن هنا يعلم جهل بعض مدرسي زماننا من منعهم من يدرس في مسجد تقرر في تدريسه، وتمامه فيه. (قوله إلا لخوف على متاعه) هذا أولى من التقييد بزماننا لأن المدار على خوف الضرر، فإن ثبت في زماننا في جميع الأوقات ثبت كذلك إلا في أوقات الصلاة، أو لا فلا، أو في بعضها ففي بعضها، كذا في الفتح. وفي العناية: والتدبر في الغلق لأهل المحلة، فإنهم إذا اجتمعوا على رجل وجعلوه متوليا بغير أمر القاضي يكون متوليا انتهى بحر ونهر»
«المحيط البرهاني» (5/ 318):
«قال: ويكره لأهل المسجد أن يغلقوا باب المسجد؛ لأن المسجد أعد لذكر الله تعالى فيه قال الله تعالى: {في بيوت أذن الله أن ترفع، ويذكر فيها اسمه} (النور:36) ، فإذا أغلقوا باب المسجد فقد منعوا عن الصلاة والذكر فيه، فدخلوا تحت قوله تعالى: {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} (البقرة:114) قال مشايخنا: وهذا في زمانهم، أما في زماننا، فلا بأس بإغلاق أبواب المساجد في غير أوان الصلاة؛ لأنه لا يؤمن على متاع المسجد وبنائه وحصره من قبل السارق؛ لأن الغلبة في زماننا لأهل الفسق والحكم يختلف باختلاف أحوال الناس، ألا ترى أن النساء كن يحضرن الجماعة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم منعن ذلك لفساد أحوال الناس، وهو الصواب كذا في مسألتنا.»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (1/ 168):
«وقيل لا بأس بالغلق في زماننا في غير أوان الصلاة صيانة لمتاع المسجد وهذا هو الصحيح لأن الحكم قد يختلف باختلاف الزمان كما قلنا في منع جماعة النساء في زماننا لفساد أحوال الناس وقيل إذا تقارب الوقتان لا يغلق كالمغرب والعشاء ونحو ذلك ويغلق بعد العشاء إلى طلوع الفجر ومن طلوع الشمس إلى الظهر.»
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٢٢/محرم الحرام/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


