| 92155 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام ! ہم بھائی اور بہنیں اپنے والد محترم کے ترکہ سے متعلق ایک شرعی مسئلہ در پیش ہونے کی وجہ سے فقہ حنفی کی روشنی میں اس کا حکم معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ براہ کرم تمام تفصیل اور منسلک دستاویزات ملاحظہ فرما کر واضح اور مدلل شرعی حکم مرحمت فرمائیں۔
مرحوم اور ورثاء کی تفصیل:
ہمارے والد محترم حافظ عبد الرشید ارشد ولد محمد ابراہیم صاحب کا انتقال من 2026ء میں ہوا۔ ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیٹا حافظ ارشد محمود اور چھ بیٹیاں ہیں۔ ہماری ایک بہن والد محترم کی وفات سے پہلے ہی فوت ہو چکی تھیں، جبکہ ہماری والدہ بھی والد محترم کی وفات سے پہلے انتقال کر چکی تھیں۔ ہماری معلومات کے مطابق اس کے علاوہ کوئی دوسر اوارث موجود نہیں ہے۔
زمین اور مکان کی تفصیل :
1۔ ہمارے والد محترم حافظ عبد الرشید ارشد صاحب کو ان کے والد محمد ابراہیم صاحب کی طرف سے ایک زمین وراثت میں ملی تھی۔
2۔ مذکورہ زمین کا قبضہ انتظام اور عملی تصرف ہمارے والد محترم کے پاس تھا۔ بعد میں ہمارے والد محترم نے مذکورہ زمین اپنے بیٹے حافظ ارشد محمود کے نام منتقل کروادی۔
3۔ بعد ازاں مذکورہ زمین فروخت کی گئی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم بیٹے حافظ ارشد محمود کے ذاتی بینک اکاوئنٹ میں جمع کروادی گئی بعد ازاں اسی رقم سے ایک پلاٹ خریدا گیا، جس پر زیر بحث مکان تعمیر کیا گیا۔
4۔۔ اس مکان کی تعمیر میں صرف مذکورہ زمین سے حاصل ہونے والی رقم ہی استعمال نہیں ہوئی بلکہ ہمارے والد محترم کا ساہیوال میں ایک ذاتی مکان بھی تھا جو انہوں نے خود خرید ا تھا اور ان کے اپنے نام تھا۔ انہوں نے وہ مکان بھی فروخت کیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم بھی زیر بحث مکان کی تعمیر میں استعمال کی۔
5۔ اس طرح زیر بحث مکان کی تعمیر میں ایک حصہ اس زمین سے حاصل ہونے والی رقم کا تھا جو ہمارے والد محترم کو ان کے والد سے وراثت میں ملی تھی اور انہوں نے وہ بیٹے کے اکاوئنٹ میں جمع کرو دی تھی جبکہ دوسرا حصہ ہمارے والد محترم کے اپنے ذاتی مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا تھا۔
6۔ زیر بحث مکان کی رجسٹری / کاغذات بیٹے حافظ ارشد محمود کے نام کیے گئے تھے۔
7۔ تا ہم ہمارے والد محترم اپنی وفات تک اسی مکان میں رہتے رہے اور مکان کا عملی قبضہ اور تصرف ان ہی کے پاس رہا۔
8۔ مکان کے ایک حصہ میں کرایہ دار رہتے تھے اور اس حصہ کا کرایہ بھی ہمارے والد محترم خود وصول کرتے تھے ، جبکہ دوسرے حصہ میں وہ خود اپنی وفات تک رہائش پذیر رہے۔
سابقہ تحریر / دستاویز سن 2013ء
ہمارے والد محترم نے سن 2013ء میں ایک سابقہ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر / دستاویز بھی تیار کی تھی، جس کی نقل اس استفتاء کے ساتھ منسلک کی جارہی ہے۔ مذکورہ دستاویز میں جائیداد / زمین اور اس سے متعلق معاملات کا ذکر موجود ہے۔ براہ کرم اس سابقہ تحریر کے اصل الفاظ اور اس کی شرعی حیثیت بھی ملاحظہ فرما کر واضح فرمائیں کہ آیا اس سے کسی قسم کی ملکیت ہبہ یا انتقال ملکیت ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
بعد کی تحریر اور آخری وصیت
10۔ ہمارے والد محترم نے ایک سابقہ تحریر میں یہ الفاظ بھی لکھے تھے یہ مکان میں نے اپنے بیٹے کو دے دیا ہے۔
11۔ تاہم اپنی وفات سے قبل ہمارے والد محترم نے ایک آخری تحریری وصیت تحریر فرمانی جس میں یہ عبارت درج ہے: میں نے اپنے اعتماد اور یقین کی بنا پر انتظامی معاملات میں سہولت اور آسانی کے لئے وقتی طور پر مکان حافظ ارشد محمود کے نام پر خرید ا تھا جو کہ میری میراث ہے۔ میری وراثت کی تقسیم کے وقت میری میراث میں شامل ہے۔
12 ۔ مذکورہ آخری تحریر پر دو گواہوں کے دستخط ایک مفتی صاحب کے دستخط اور بیٹے حافظ ارشد محمود کے بھی دستخط موجود ہیں۔ بیٹے نے اس تحریر پر اپنی رضامندی سے دستخط کیے تھے اور اس وقت یہ اعتراض نہیں کیا کہ مکان پہلے ہی اس کی ذاتی ملکیت ہے۔
13۔ ہمارے والد محترم کی زندگی میں مکان کا قبضہ ، رہائش استعمال اور ایک حصہ کی کرایہ کی آمدنی عملا انہی کے اختیار میں رہی۔
14۔ اب والد محترم کے انتقال کے بعد بیٹے حافظ ارشد محمود کا موقف ہے کہ چونکہ مکان اس کے نام رجسٹر ڈ منتقل ہو چکا تھا، اس لیے مکان اس کی ذاتی ملکیت ہے اور اسے والد محترم کے ترکہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
مطلوبہ شرعی احکام:
1۔ ہمارے والد محترم کو ان کے والد محمد ابراہیم صاحب سے وراثت میں ملنے والی زمین کو والد محترم نے بعد میں اپنے بیٹے حافظ ارشد محمود کے نام منتقل کیا۔ اس منتقلی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
2۔ مذکورہ زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور والد محترم کے اپنے نام موجود ساہیوال کے ذاتی مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے جو نیا مکان تعمیر ہوا، اس مکان کی شرعی ملکیت کس کی قرار پائے گی ؟
3۔ اگر چہ مکان بیٹے کے نام رجسٹر ڈ تھا، لیکن والد محترم اپنی وفات تک اسی مکان میں رہتے رہے ، ایک حصہ کا کرایہ خود وصول کرتے رہے اور دوسرے حصہ میں خود رہتے رہے تو کیا صرف رجسٹری بیٹے کے نام ہونے سے مکان شرعا بیٹے کی ملکیت شمار ہو گا ؟
4۔ والد محترم کی سن 2013ء کی سابقہ ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویز اور بعد کی وہ تحریر جس میں لکھا گیا کہ یہ مکان میں نے اپنے بیٹے کو دے دیا ہے ، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
- 5کیا مذکورہ تحریرات کی موجودگی میں مکمل شرعی ہبہ ثابت ہوتا ہے ؟ اور ہبہ کے لیے قبضہ وغیرہ کی تکمیل کس طرح معتبر ہوگی؟
6۔ والد محترم کی آخری تحریر میں یہ واضح الفاظ موجود ہیں کہ انہوں نے اپنے اعتماد اور یقین کی بنا پر انتظامی معاملات میں سہولت اور آسانی کے لئے وقتی طور پر مکان حافظ ارشد محمود کے نام پر خرید ا تھا اور یہ بھی تحریر کیا کہ مذکورہ مکان میری میراث ہے۔ میری وراثت کی تقسیم کے وقت میری میراث میں شامل ہے ۔ اس تحریر کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مکان کو بیٹے کے نام کرنا مستقل ہبہ یا ملکیت کی منتقلی نہیں تھی ؟
7- آخری وصیت پر گواہوں، مفتی صاحب اور خود بیٹے حافظ ارشد محمود کے دستخط موجود ہونے کی کیا شرعی حیثیت ہے ۔
8-اگر شرعی طور پر یہ ثابت ہو کہ والد محترم نے اپنی زندگی میں مکان کا مکمل اور صحیح ہبہ بیٹے کو نہیں کیا تھا، تو کیا یہ مکان ان کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں شامل ہو گا ؟
9۔ اگر مکان والد محترم کے ترکہ میں شامل قرار پائے تو کیا یہ مکان بھی ان کے دیگر ترکہ کے ساتھ ایک بیٹے اور چھ بیٹیوں میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا؟
10 ۔ براہ کرم منسلک 2013ء کی سابقہ دستاویز، بعد کی تحریر اور آخری وصیت کے اصل متن دستخطوں مکان کے قبضہ و تصرف کرایہ کی وصولی اور مذکورہ تمام مالی و جائیدادی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل شرعی حکم عطا فرمائیں۔
مرفقات
1۔ سن 2013ء کی والد محترم کی ہاتھ سے لکھی ہوئی سابقہ دستاویز / تحریر کی نقل۔
2۔ والد محترم کی بعد کی تحریر وصیت ، جس میں مکان بیٹے کو دینے کا ذکر ہے۔
3۔ والد محترم کی آخری تحریری وصیت کے تمام دستیاب صفحات کی نقل۔
4 -مکان اور متعلقہ جائیداد کے دیگر دستیاب کا غذات، اگر ضرورت ہو تو پیش۔ کیے جاسکتے ہیں۔
براہ کرم تمام منسلک دستاویزات کے اصل الفاظ اور مذکورہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فقہ حنفی کے مطابق واضح ، مدلل اور تحریری شرعی فتوی مرحمت فرمائیں، تا کہ تمام ورثاء اسی کے مطابق عمل کر سکیں۔ اور بھائی اور بہنوں میں اتفاق بھی رہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں :
-1والد صاحب نے ۱۹۸۴ء میں اپنے اختیار سے موروثی زمین کا حصہ بیٹے کے نام منتقل کیا، رجسٹری و انتقال کروایا اور بعد میں ۲۰۱۲ء-۲۰۱۳ء میں باقاعدہ ونڈہ (تقسیم) کر کے حدود متعین کر کے قبضہ و تصرف کا اختیار دلا دیا۔ شرعی اعتبار سے یہ "ہبہِ تام و کامل" ہے، جو کہ والد کی حیات ہی میں نافذ ہو چکا تھا اور والد کے لیے اپنے ذی رحم محرم (بیٹے) کو دیے گئے اس ہبہ سے رجوع کرنا یا اسے منسوخ کرنا شرعاً جائز نہ تھا۔
-2چونکہ ۱۹۸۴ء کی زمین شرعاً بیٹے ہی کی ملکیت تھی، اس لیے ۲۰۱۵ء میں اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم بھی بیٹے کی ذاتی ملکیت تھی۔ اگرچہ والد صاحب نے اپنا ساہیوال والا مکان بیچ کر اس کی رقم مکان کی تعمیر کے آخری مرحلے میں صرف کی ، لیکن چونکہ انہوں نے اسے کبھی قرض قراردیا اور نہ ہی اس کی واپسی کا مطالبہ کیا تو بطورِ اعانت/تطوع (بیٹے کی مدد یا احسان) دی تھی، اس لیے وہ بیٹے پر والد کی طرف سے احسان و تبرع ہے۔۔ لہٰذا نیا مکان شرعاً بیٹے (حافظ ارشد محمود) ہی کی ملكِ خالص ہے۔
-3صرف یہ بات کہ والد صاحب وفات تک اس مکان میں مقیم رہے یا ایک حصے کا کرایہ وصول کرتے رہے، اس مکان کو والد صاحب کا ترکہ نہیں بناتی۔ بیٹے کے ذاتی مکان میں والد صاحب کا رہنا یا کرایہ وصول کرنا بیٹے کی طرف سے والد کے ساتھ خدمت، احترام اور "عاریت" (استعمال کی اجازت) کا معاملہ تھا۔ شریعت کی رو سے بیٹے کی ملکیت میں والد کے رہنے سے بیٹے کی ملکیت ختم نہیں ہوتی۔
-42013 ء کی تحریر (جس میں باقاعدہ ونڈہ/تقسیم اور حدود کی تعیین کی گئی) اور بعد کی وہ تمام تحریرات و شفاہی اقرارات جن میں والد صاحب نے فرمایا کہ "یہ مکان ارشد کا ہے"، شرعاً والد صاحب کی طرف سے صریح اقرارِ ملکیت اور ہبہ کے کامل ہونے کی شرعی حجت ہیں۔ شرعاً اقرار کے بعد اپنے ہی اقرار سے پھرنا نا قابلِ قبول ہوتا ہے۔
-5مذکورہ تحریرات، سرکاری انتقال، موقع پر جا کر حدود کی نشاندہی، اور خریدار و ٹھیکیدار سے تخلية (قبضہ) دلا کر رقم بیٹے کے اکاؤنٹ میں منتقل کروانے سے مکمل اور تام شرعی ہبہ ثابت ہو چکا تھا۔ ہبہ میں قبضہ اور تصرف کا اختیار مل جانا ہی قبضہِ شرعی کی تمامیت کی معتبر صورت ہے۔
-6والد صاحب کی ۲۰۲۵ء کی آخری تحریر میں یہ لکھنا کہ "یہ مکان انتظامی سہولت کے لیے ارشد کے نام تھا اور میری میراث میں شامل ہے"، شرعاً غیرمعتبراور غیر نافذ ہے۔ فقہِ حنفی کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ انسان صرف اپنے مملوکہ مال میں ہی وصیت کر سکتا ہے(لا تصح الوصية بملك الغير)۔ جب یہ مکان دہائیاں قبل دیے گئے ہبہِ زمین کی رقم سے خریدا گیا اور بیٹے کی ملکیت بن چکا تھا، تو والد صاحب کے لیے زندگی کے آخری ایام میں اپنی ہی دی ہوئی ملکیت کو منسوخ کر کے ترکہ قرار دینا "وصیت بملکِ غیر" ہے، جو شرعاً باطل اور کالعدم ہے۔
-7آخری وصیت پر حافظ ارشد محمود کے بطور "وصی" دستخط کرنے سے ان کا اپنا ذاتی مکان والد کے ترکے میں منتقل نہیں ہوتا اور نہ ان کا حقِ ملکیت ساقط ہوتا ہے۔ فقہی قاعدہ ہے ":الملك لا يبطل بالترك ولا بالسكوت" اپنی ملکیت محض خاموشی، ترکِ دعویٰ یا فرضی دستخط سے باطل نہیں ہوتی۔ بیٹے نے یہ دستخط بطورِ وصی والد کی بقیہ شرعی وصایا کو نافذ کرنے کے لیے کیے تھے، نہ کہ اپنا مکان والد کو تحفہ دینے کے لیے۔
-8شرعی دلائل کی رو سے یہ ثابت ہے کہ والد صاحب نے زندگی میں ۱۹۸۴ء کی زمین کا صحیح اور کامل ہبہ فرمایا تھا اور اس کی رقم سے بنا مکان بیٹے کی ملك ہے۔ لہٰذا یہ مکان والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ترکے میں شامل نہیں ہوگا۔
-9چونکہ یہ مکان والد صاحب کا ترکہ نہیں ہے، اس لیے یہ مکان دیگر ورثاء (ایک بیٹے اور چھ بیٹیوں) میں تقسیم نہیں ہوگا، بلکہ حافظ ارشد محمود کی ذاتی ملکیت رہے گا۔ البتہ والد صاحب کی چھوڑی ہوئی دیگر تمام جائیداد (دو پلاٹ، تین بینکوں میں موجود رقم، گاڑی اور دیگر زیرِ استعمال اموال) والد صاحب کا اصل ترکہ ہیں، جو تمام شرعی ورثاء (ایک بیٹے اور چھ بیٹیوں) میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوں گے۔
-102013ء کی سابقہ ونڈہ کی تحریر، بعد کے اقرار ناموں، بینک ریکارڈ، مکان کے قبضہ و تصرف اور مالی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے حتمی شرعی حکم یہ ہے کہ مذکورہ مکان حافظ ارشد محمود کی ذاتی ملکیت ہے۔ دیگر ورثاء (بہنوں) کا اس میں کوئی شرعی حق یا حصہ نہیں ہے۔تمام بہنوں اور بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ شریعتِ مطہرہ کے اس حکمِ حاكم کو دل سے تسلیم کریں، ایک دوسرے کے ذاتی اموال پر نا حق دعوے کرنے سے پرہیز کریں، اور باہم صلہ رحمی، محبت سے زندگی بسر کریں ۔
حوالہ جات
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (2/ 396):
«تنعقد الهبة والهدية والصدقة بالإيجاب والقبول وتتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية، فعلى هذا الوجه يكون الإيجاب والقبول هما ركن الهبة والصدقة والهدية كما أن الإيجاب والقبول هما ركن البيع والإجارة والعقود الأخرى»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 704):
«(والقاف القرابة، فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع)»
«تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار - ط الفكر» (7/ 350):
«قوله: (الخالية إلخ) صفة كاشفة، لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.»
«الفقه على المذاهب الأربعة» (3/ 287):
«ويشترط في الموصى به أن يكون في اختصاص الموصى فلا تصح الوصية بملك الغير»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 288):
«كذا في الخلاصة أيضا فأفاد أن غير المأكول لا يباح لهما إلا عند الاحتياج كما لا يخفى وأشار المؤلف إلى أن ما علم أنه وهب للصغير يكون ملكا له أما لو اتخذ الأب وليمة للختان فأهدى الناس هدايا ووضعوا بين يدي الولد فإن كانت الهبة تصلح للصبي مثل ثياب الصبيان أو شيء يستعمله الصبيان فالهدية للصبي وإن كانت غير تلك كالدراهم والدنانير والحيوان ومتاع البيت ينظر إلى المهدي»
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
14/ربیع الثانی/1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


