| 92738 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
ایک ادارے "Barakah Abaya" کی کاروباری شرائط (Terms of Service) کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔ یہ ادارہ زیادہ تر 'استصناع' (آرڈر پر لباس اور عبایا تیار کرنے کے معاہدے) کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔
اس ادارے نے اپنی پالیسیوں کو AAOIFI (ایوفی) کے شرعی معیارات کے تناظر میں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں، ان کا شرعی جائزہ مطلوب ہے:
1۔ادارہ آرڈر کنفرم کرنے سے پہلے گاہک سے ڈپازٹ لیتا ہے۔ یہ طریقہ کار "ہامش الجدیۃ" کے تصور پر مبنی ہے۔ AAOIFI معیار کے مطابق یہ اس شرط پر جائز ہے کہ گاہک کی جانب سے معاہدہ منسوخ ہونے پر ادارہ صرف اپنے "اصل نقصان" (Actual Loss) کے برابر رقم روکے، اور بقیہ واپس کر دے۔ اس ادارے کی پالیسی بالکل اسی اصول پر عمل کرتی ہے۔
2۔ اگر کپڑا کاٹنے یا کام شروع ہونے سے پہلے آرڈر کینسل ہو جائے تو گاہک کو پوری رقم واپس کی جاتی ہے۔ چونکہ ابھی کوئی محنت یا مالی نقصان نہیں ہوا، اس لیے پوری رقم روکنا ناجائز (غیر مستحق آمدنی) شمار ہوگا، لہٰذا مکمل واپسی کی جاتی ہے۔
3۔ کام شروع ہونے کے بعد منسوخی کی صورت میں ادارہ صرف وہ رقم کاٹتا ہے جو واقعی خرچ ہو چکی ہو (مثلاً کپڑا اور مزدوری)، اور باقی واپس کر دیتا ہے۔ نقصان ہامش الجدیہ سے پورا کیا جاتا ہے۔ یہ اصول عین اسلامی مالیاتی قواعد کے مطابق ہے جس میں کوئی زیادتی یا ناجائز نفع شامل نہیں۔
4۔ کسٹم سائز کا لباس چونکہ کسی اور گاہک کو باآسانی فروخت نہیں ہو سکتا، اس لیے اس پر ادارے کا اصل نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے آرڈر کی منسوخی پر زیادہ رقم کاٹی جاتی ہے، لیکن یہ کٹوتی من مانی نہیں بلکہ "اصل نقصان" کے اصول پر ہی مبنی اور منصفانہ ہے۔
5۔ پوری قیمت پیشگی ادا کرنے پر ادارہ ڈسکاؤنٹ دیتا ہے۔ چونکہ قیمت معاہدے کے وقت ہی طے اور فکس ہو جاتی ہے، اس لیے اس میں کوئی 'غرر' (ابہام) نہیں رہتا کہ خریدار کو بعد میں پتا چلے کہ دو مختلف قیمتیں تھیں۔ یہ طریقہ "ایک معاہدہ، ایک طے شدہ قیمت" کے اصول پر پورا اترتا ہے۔
6۔ اس پالیسی کا ایک اہم اور مثبت پہلو یہ ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر پر کوئی مالی جرمانہ (Late fee, interest, or penalty) نہیں لگایا جاتا، رقم کی عدم ادائیگی پر محض آرڈر روک دیا جاتا ہے۔ یہ ربا (سود) سے مکمل اجتناب ہے۔
7۔ اگر چیز خراب، ٹوٹی پھوٹی یا غلط پہنچے، تو ادارہ بغیر وقت کی قید کے مکمل رقم کی واپسی یا تبدیلی کی سہولت دیتا ہے۔ شریعت میں 'خیار العیب' کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری ہمیشہ بیچنے والے پر ہی ہوتی ہے، جس پر یہاں عمل کیا گیا ہے۔
8۔ کارڈ سے ڈپازٹ کی وصولی ون ٹائم واٹس ایپ کوڈ (OTP) کی تصدیق کے بعد ہوتی ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی تصدیق کا طریقہ ہے۔ البتہ اگر گاہک ادائیگی کے لیے سودی کریڈٹ کارڈ استعمال کرتا ہے، تو اس کی شرعی ذمہ داری خود گاہک پر ہے۔
مفتیانِ کرام سے گزارش ہے کہ مندرجہ بالا تفصیلی طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شرعی حکم اور فتویٰ عنایت فرمائیں کہ کیا اس ادارے (Barakah Abaya) کا یہ کاروباری ماڈل شریعت کے مطابق واقعی درست اور جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں ذکر کردہ تمام شرائط و ضوابط کی مکمل پابندی کی جاتی ہے تو یہ کاروباری ماڈل جائز اور درست ہے ۔البتہ دارالافتاء صرف اصولی شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے ، کسی کاروبار میں شرعی اصولوں کی مکمل پابندی ہوتی ہے یا نہیں ، اس کی ذمہ داری دارالافتاء کے دائرہ کار میں داخل نہیں ۔
حوالہ جات
«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (14/ 184 بترقيم الشاملة آليا):
«وأما المستصنع فلأنه لو لم يجبر على القبول يتضرر به الصانع؛ لأنه عسى لا يشتريه غيره منه أصلاً، أولاً يشتري بذلك القدر من الثمن فيجبر على القبول؛ دفعًا للضرر عن الصانع.
وأما قوله: لو أتى بمصنوع صنعه قبل العقد لم يجبر على العمل، قلنا: المقصود من العمل المعمول، فإذا سلم [المعمول] سقط عنه العمل، هذا كله من الذخيرة.»
«الاختيار لتعليل المختار» (2/ 8):
«قال: (وتجوز الزيادة في الثمن والسلعة، والحط من الثمن ويلتحق بأصل العقد)»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (4/ 14):
«واعلم أن للبائع حق حبس المبيع إلى أن يستوفي الثمن؛ لأن قضية العقد المساواة بين العاقدين اهـ»
«الاختيار لتعليل المختار» (2/ 18):
«فصل [خيار العيب] مطلق البيع يقتضي سلامة المبيع، وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب، وإذا اطلع المشتري على عيب فإن شاء أخذ المبيع بجميع الثمن، وإن شاء رده،»
المعيار الشرعي رقم (5) التضمينات، بند (6/8/2):
"يجوز أخذ مبلغ من العميل الآمر بالشراء لتوثيق وعده إذا كان الوعد ملزماً للعميل، ويسمى «هامش الجدية»، وهو أمانة وليس عربوناً لعدم وجود العقد، وتطبق عليه الأحكام المبينة في 6/8/1، ولا يؤخذ منه عند النكول إلا مقدار الضرر الفعلي، وهو الفرق بين التكلفة وثمن البيع للغير"۔
المعيار الشرعي رقم (58) إعادة الشراء، بند (5/1/7):
"وفي حالة نكول الواعد... يحق للموعود المطالبة بالتعويض عن الضرر الفعلي... والضرر الفعلي يقدر بالفرق بين التكلفة والثمن الذي تباع به لغيره"
المعيار الشرعي رقم (58) إعادة الشراء، بند (5/1/7):
"والضرر الفعلي يقدر بالفرق بين التكلفة والثمن الذي تباع به لغيره"
المعيار الشرعي رقم (8) المرابحة، بند (5/9):
"يجوز للمؤسسة أن تحط جزءاً من ثمن البيع إذا سدد العميل قبل الحلول بشرط أن لا يكون ذلك متفقاً عليه في العقد"۔
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
11/جمادی الاولی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


