| 92907 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک کمپنی (Endless Digital) کے نام سے ہے، جو کہ مضاربت کے نام پر لوگوں سے کم از کم پانچ (5) لاکھ روپے وصول کرتی ہے ۔ انویسٹر اور کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ جس کے مطابق کمپنی منافع کا تینتیس فیصد (33%) حصہ انویسٹر کو دیتی ہے جس کا اندازہ بتایا گیا ہے کہ پینتیس ہزار سے لے کر پینتالیس ہزار روپے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے، تو کیا شریعت کے لحاظ سے اس طرح کا منافع لینا اور دینا جائز ہے یا نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کمپنی والے اس انویسٹمنٹ سے بائنانس پر کرپٹو اسپاٹ ٹریڈنگ کا کاروبار کرتے ہیں ، جس میں وہ آن لائن کرنسیاں (currencies) خریدتے ہیں اور جب ان کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو ان کو فروخت کر دیتے ہیں، لیکن اس ٹریڈنگ میں وہ لیوریج (Leverage) نہیں لگاتے بلکہ خالص اپنی انویسٹمنٹ پر ٹریڈنگ کرتے ہیں, اس کے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں فتویٰ درکار ہے۔ باقی بائنانس (Binance) میں فیوچر (Future) ٹریڈنگ اور آن لائن ٹریڈنگ میں فاریکس (Forex) ٹریڈنگ کے بارے بھی رہنمائی درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے آن لائن ارننگ کے نام پر مختلف کمپنیاں ، ایپلیکیشنز، سوشل میڈیا پیجز اور ویب سائٹس مسلسل نئے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز کا طریقۂ کار عموماً ایک جیسا ہوتا ہے، یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری (Investment) لینا اور اس پر غیر معمولی نفع دینے کا وعدہ کرنا۔بعض پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ایسٹس کے نام پر کام کرتے ہیں، بعض روایتی کرنسیوں کے عنوان سے،بعض گولڈ وغیرہ کے عنوان سے جبکہ بعض دیگر مختلف تجارتی یا تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی اس نوعیت کی تقریباً تمام اسکیمیں دھوکہ دہی، غلط بیانی، غیر شفافیت یا کسی نہ کسی شرعی خرابی پر مشتمل پائی گئی ہیں۔
اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،ان کے مطابق اس طرح کی کمپنیز ،ایپلیکیشنز،پیجز اور ویب سائٹس وغیرہ سے متعلق عمل کیا جائے:
کمپنی کی قانونی حیثیت اور تعارف
سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ سرمایہ کاری لینے والی کمپنی:
- کن افراد یا ادارے کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان اور انتظامیہ کون ہیں؟
- کس ملک میں قائم ہے؟کیا وہ اپنے ملک کے کسی معتبر اور مجاز قانونی ادارے میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟
اگر کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو تو:
- رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی اصل اور جعلی ہونے کے اعتبار سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
- یہ معلوم کیا جائے کہ یہ سرٹیفیکیٹ کن بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے۔
- محض رجسٹریشن، کیاسرمایہ کاری لینے کے لیے کافی ہے یا لوگوں سے انویسمنٹ لینے کے لیے مزید قانونی اجازت(لائسنس وغیرہ) درکار ہوتی ہے؟
- اس رجسٹریشن کی بنیاد پر کمپنی کو کن کاموں کی قانونی اجازت حاصل ہے، اور آیا وہ عوام سے سرمایہ کاری لینے کی مجاز ہے یا نہیں؟
کمپنی کے کاروبار کی حقیقت
اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ:
- کمپنی حقیقتاً کون سا کاروبار کر رہی ہے؟
- کس ذریعے سے وہ سرمایہ کاری سے نفع کماتی ہے؟
- اس کاروبار کی تفصیلی نوعیت، طریقۂ کار اور حقیقت کیا ہے؟
- ان تمام پہلوؤں کی تحقیق کے بعد اس کاروبار کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔
سرمایہ کاری اور منافع کا طریقۂ کار
تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا جائے کہ:
- کمپنی سرمایہ کاری کس بنیاد پر لیتی ہے؟
- نفع کس شرح اور کس طریقے سے دیتی ہے؟
- نفع و نقصان کی شرائط و تفصیلات کیا ہیں؟
پھر یہ ساری تفصیلات لکھ کر کسی مستند دارالافتاء سے شرعی حکم معلوم کیا جائے۔بسا اوقات مالی فراڈ کرنے کے لیے مختلف پونزی یعنی جعلی اسکیمیں متعارف کروائی جاتی ہیں۔
پونزی اسکیمز یااسکیمز (Scams) کی پہچان کے عمومی اصول
موجودہ دور میں ماہرینِ معیشت پونزی اسکیمز اور مالی دھوکہ دہی کو پہچاننے کے جو اصول بتاتے ہیں، وہ معمولی فرق کے ساتھ وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر درج ذیل نکات شامل ہیں:
- یہ دیکھا جائے کہ کمپنی واقعی کوئی حقیقی پروڈکٹ یا سروس فراہم کر رہی ہے، یا صرف نئے ممبرز بنانے پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ محض ممبرشپ پر مبنی نظام اکثر پونزی اسکیم ہوتا ہے۔
- کمپنی کی شفافیت دیکھی جائے، کیا مالکان، انتظامیہ، مالی ڈھانچہ اور آپریشنز مکمل طور پر واضح اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں؟
- مختلف آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے کمپنی کے بارے میں تحقیق کی جائے، جیسے آڈٹ رپورٹس، میڈیا رپورٹس، متعلقہ حکومتی ادارے اور صارفین کےفیڈبیکس۔
- کمپنی کی ریگولیٹری کمپلائنس (Regulatory Compliance) کا جائزہ لیا جائے۔
- یہ پرکھا جائے کہ آیا کمپنی مارکیٹ کے عمومی اصولوں کے خلاف غیر معمولی نفع کا وعدہ تو نہیں کر رہی کیونکہ ایسا وعدہ عموماً پونزی اسکیم کی علامت ہوتا ہے۔
بنیادی اصولی باتیں ذکر کرنے کے بعد آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات درج ذیل ہیں:
1۔کسی کمپنی میں مضاربت کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے لیے مضاربت کے عمومی شرعی ضوابط کی پاسداری کے علاوہ کمپنی کے بنیادی کاروبار کا جائز و حلال ہونا شرطِ اوّل ہے۔ اگر بنیادی کاروبار جائز ہو تو سرمایہ کاری اور منافع دونوں جائز ہوں گے، ورنہ ناجائز۔ یہ کمپنی چونکہ آگے بائنانس پر کرپٹو اسپاٹ ٹریڈنگ کا کا روبار کرتی ہے ، جس میں موجودہ قیمت کے مطابق کوائنز اور ٹوکنز کا لین دین ہوتا ہے۔ اس میں کوائن اور ٹوکن کے پیچھے کبھی ناجائز پراجیکٹ ہوتا ہے اور کبھی جائز پراجیکٹ ہوتا ہے ۔اس تفصیل کے مطابق حکم درج ذیل ہے :
ان کوائنزیا ٹوکنز کی ٹریڈنگ جن کے پیچھے ناجائز(مثلاً سودی قرض یا ہیجنگ وغیرہ کا) پراجیکٹ ہو، چونکہ ان کا انتہائی استعمال بھی ان کے پراجیکٹ میں ہوتا ہے اس لیے ان کی ٹریڈنگ اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز نہیں ہے۔
وہ کوائنز اور ٹوکنز جن کے پیچھے کوئی ناجائز پراجیکٹ نہ ہو ،اس میں اگر حکومت کی طرف سے ان کی ٹریڈ ممنوع ہو،توعوام کی مصلحت پر مبنی حکومتی قانون پر عمل کرنا شرعاً لازم ہونے کی بناء پر اس کی ٹریڈ کا ناجائز ہونا واضح ہے ۔اور اگر حکومت کی طرف سے ان کی ٹریڈ کی ممانعت نہیں ہے ، مگر حکومت ان کی پشت پر بھی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں بھی بہت سے معاصر علماء کی رائے کے مطابق ،ان کی پشت پرحکومت کے نہ ہونےیا ان کے ثمن نہ ہونے اور سٹے بازی میں استعمال ہونے کی وجوہات کی بناء پر، ان کی ٹریڈناجائز ہے،لہٰذا ایسی کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کا بھی مشورہ نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ جن ممالک میں یہ ورچوئل ایسٹ کے طور پر تسلیم شدہ ہو اور حکومت اس کی اجازت دیتی ہو ، اس کی پشت پناہی بھی کرتی ہواور کلائنٹ و کسٹمر کے تحفظ کے حوالے سے ضروری قوانین پر عمل در آمد کراتی ہو ، تو وہاں کے قوانین اور حالات کے مطابق ان کے ثمن عرفی ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
2۔اسی طرح بائنانس پر فیوچر ٹریڈنگ میں عملاً لین دین نہیں ہوتا بلکہ قیمت کے حساب سے نفع نقصان برابر کیا جاتا ہے۔ یہ شرعاً قمار (جوا) ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس کی آمدن بھی حرام ہے۔
3۔ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے۔
1) )جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔
2) )لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔
3) )چیز بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
4) )عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً قبضہ کیا جائے۔
5) )کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں بوقت عقد کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔
6) )بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،لانگ یا شارٹ پوزیشن،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔
ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،buy اور sell وغیرہ کے الفاظ فقط رسمی طور پر لکھے ہوتے ہیں، حقیقتاً خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق نہیں کی جاتی،بلکہ صرف فرق برابر کیا جاتا ہے،اس لیےاس سے احتراز لازم ہےاور اس پرٹریڈنگ کرنا،شرعاًناجائز ہے ۔ (ماخوذ از تبویب 90081، 86789)۔
کرپٹو کے حوالے سے دارالافتاء کی رائے، اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق اجتناب کی ہے۔(اگرچہ اس دوران قانونی اعتبار سے کچھ ڈویلپمنٹ ہوئی ہے لیکن مکمل طور پر ابھی بھی سرمایہ کار کے اموال کی حفاظت کے حوالے سے تفصیلی قانون سازی اور نگرانی کی تفصیلات واضح نہیں ہیں،اس لیے اجتناب بہتر ہے۔)کرپٹو ٹریڈنگ ، فاریکس ٹریڈنگ کی مختلف صورتوں کی تفصیل کے لیے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی آفیشل ویب سائٹ Almuftionline.com پر موجود درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیے جائیں:
.1فتویٰ نمبر 81020 بعنوان ”: بائنانس (Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم“
.2فتویٰ نمبر 84734 بعنوان ”:کرپٹو کی ٹریڈنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم“
.3 فتویٰ نمبر85615بعنوان: ” آن لائن فاریکس ٹریڈنگ اور اسٹاک ایکسچینج میں رائج مختلف صورتوں کا حکم “
ان فتاویٰ میں فاریکس ٹریڈنگ، کرپٹو کرنسی اور ان سے متعلقہ معاملات کا شرعی حکم تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (3/ 1219)
سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ( وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه ) ( إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505):
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
14/جمادی الاولی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


