| 91742 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میری پہلی شادی ہوئی تھی لیکن طلاق ہوگئی ،اب دوسری شادی کرنی ہے لیکن والدین نہیں کررہے۔میں بے روزگار ہوں، بہت غمگین ہوں ، بہت پریشان ہوں ، میری عمر 24 سال ہے ۔ میری والدہ کی زمین بھی ہے۔تو اس صورت میں والدین پر کیا شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اولاد کے بالغ ہونے پر ان کے لیے مناسب رشتے کی تلاش اور شادی کی فکر و کوشش کرنا والدین کی ایک اہم شرعی ذمہ داری ہے۔ تاہم، جب بیٹا بالغ ہو جائے (اگر وہ معذور نہ ہو اور کمانے کی صلاحیت رکھتا ہو)، تو اس کا کسی بھی قسم کا معاشی بوجھ یا خرچہ شرعاً والدین پر عائد نہیں ہوتا۔
چنانچہ شادی اور اس کے بعد کے تمام تر اخراجات (جن میں بیوی کا مہر، نفقہ اور رہائش وغیرہ شامل ہیں) آپ کے والدین کے ذمے لازم نہیں ہیں، بالخصوص اس صورت میں جب وہ پہلے ہی ایک مرتبہ آپ کی شادی کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ لہٰذا اب ان تمام امور کا بندوبست آپ کو خود کرنا ہوگا۔ البتہ، اگر آپ کے والدین اپنی استطاعت کے مطابق برضا و رغبت آپ کی شادی کے اخراجات میں مالی تعاون کرنا چاہیں، تو وہ بخوشی ایسا کر سکتے ہیں۔ والدین کا یہ عمل آپ پر محض ایک تبرع و احسان شمار ہوگا ۔
ان احکامات اور حالات کے پیشِ نظر، آپ کے لیے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ آپ اپنے بل بوتے پر اخراجات اٹھانے کے لیے سنجیدگی سے کسی اچھے روزگار کی تلاش جاری رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر آپ کے والدین واقعی مالی استطاعت رکھتے ہیں، تو آپ انہیں انتہائی ادب، حکمت اور مؤثر انداز میں مالی تعاون کی ترغیب بھی دیتے رہیں۔ اور جب تک شادی کے اسباب مہیا نہیں ہو جاتے، شریعت کی رو سے آپ کے لیے یہ ہدایت ہے کہ اپنے نفس اور جذبات پر قابو پانے کے لیے روزوں کا اہتمام کریں۔
حوالہ جات
«مشكاة المصابيح» (2/ 939):
وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه»
«مشكاة المصابيح» (2/ 927):
3080 -[1] (متفق عليه)عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 563):
«ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان. ونفقة زوجة الابن على أبيه إن كان صغيرا فقيرا، أو زمنا؛ لأنه من كفاية الصغير وذكر في المبسوط لا يجبر الزوج على نفقة زوجة الابن كذا في الاختيار شرح المختار.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 141):
«(ولا يطالب الأب بمهر ابنه الصغير الفقير) أما الغني فيطالب أبوه بالدفع من مال ابنه لا من مال نفسه (إذا زوجه امرأة إلا إذا ضمنه) على المعتمد (كما في النفقة) فإنه لا يؤخذ بها إلا إذا ضمن»
«الجامع لفوائد بلوغ المرام» (2/ 488):
«وباب النفقات من محاسن الإسلام، وهي من جنس ما يسمى بالتكافل الاجتماعي، وتكون واجبة ومستحبة، فتجب للزوجة على زوجها»
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٢٠ /صفرالمظفر/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


