| 92071 | حج کے احکام ومسائل | میقات کابیان |
سوال
عرض یہ ہے کہ ہم تین افراد اور ایک نو سال کا بچہ عمرے کے لیے کراچی سےفلائی جناح سے گئے۔ ہم نے احرام ایئرپورٹ ہی سے باندھ لیا تھا اور نیت میقات پر کرنے کا ارادہ تھا۔ پچھلے تجربات کی بنا پر یہی خیال تھا کہ جہاز میں اعلان ہو جائے گا۔ جہاز میں اعلان ہوا کہ30 منٹ بعد میقات سے گزریں گے۔ اس دوران ہم نے عملے سے پوچھا بھی کہ میقات کے بارے میں بتائیں گے یا نہیں؟ تو جواب ملا کہ بتا دیں گے۔ اب ہوا یوں کہ میقات کا اعلان تو نہیں کیا گیا، بلکہ جدہ لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ جس پر ہم نے وہیں (جدہ ہی) سے نیت کی۔ نیٹ سروس بھی دستیاب نہیں تھی کہ رات کو کسی سے رہنمائی لے سکتے۔اب یہ پوچھنا ہے کہ بظاہر ہماری تو کوئی ایسی غلطی نہیں تھی، تو کیا ہم سب پر دم واجب ہوتا ہے؟ مکے میں چار دن کے قیام کے دوران ہم نے مسجدِ عائشہ سے ایک اور عمرہ کیا، پھر مدینہ منورہ چلے گئے اور وہاں سے واپسی پر بھی عمرہ کیا۔
دم کے حوالے سے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ ہم سب پر لازم ہوگا یا نہیں؟ اور کیا نو سالہ بچے پر بھی دم لاگو ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حج یا عمرہ کرنے والے شخص کے لیے میقات سے بغیر احرام (نیت اور تلبیہ) کے گزرنا شرعاً ممنوع ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص بغیر احرام کے میقات سے آگے بڑھ جائے تو اس پر واپس میقات جا کر احرام باندھنا لازم ہوتا ہے۔ اگر وہ واپس نہ جائے اور وہیں سے احرام باندھ کر طواف کا پہلا چکر مکمل کر لے تو دم واجب ہوگا، واپس جانے سے دم ساقط نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں جب پہلاعمرہ مکمل ہو چکا ہے، تو تینوں پر الگ الگ ایک ایک دم واجب ہے۔ البتہ نو سالہ بچہ چونکہ شرعاً مکلف نہیں ہے، اس لیے اس پر کوئی دم واجب نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (161/4)
والمواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق ولأهل الشام الجحفة ولأهل نجد قرن ولأهل اليمن يلملم " هكذا وقت رسول الله عليه الصلاة والسلام هذه المواقيت لهؤلاء. وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها لأنه يجوز التقديم عليها بالاتفاق.
(ولأهل نجد قرن)... ونجد بفتح النون ، قال صاحب المطالع : هي من عمل اليمامة، وفي مناسك الطبري : قرن ميقات نجد اليمن، ونجد الحجاز، ونجد تهامة، ونجد الطائف، وقرن شرقي مكة، بينهما اثنان وأربعون ميلاً …
رد المحتار على الدر المختار (479/3)
(والمواقيت) أي المواضع التي لا يجاوزها مريد مكة إلا محرما.. (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم۔
قال ابن عابدين: (قوله مريد مكة) أي ولو لغير نسك كتجارة ونحوها كما يأتي (قوله إلا محرما) أي بحج أو عمرة... (قوله وحرم إلخ) فعليه العود إلى ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه، وإلا فعليه دم.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
05 /ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


