| 92124 | شفعہ کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
محمد عیسی اور نورا دونوں ایک ایسے زمیں کے متصل پڑوسی ہے جو 2016 میں فروخت ہوئی، جس پر دونوں حقِ شفعہ رکھتے تھے۔ محمد عیسیٰ نے نورا کے کہنے پر صرف اس اعتماد پر اپنا حقِ شفعہ چھوڑ دیا کہ نورا یہ زمین اپنے لیے لے رہا ہے۔ بعد میں نورا نے دھوکے سے وہ زمین اپنے نام کے بجائے ایک اجنبی شخص (رحیم بخش) کو منتقل کروا دی، جبکہ رحیم بخش کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت یا گواہ نہیں کہ عیسیٰ نے اس کے حق میں شفعہ چھوڑا تھا۔ 2022ء میں محمد عیسیٰ کا انتقال ہو گیا۔ جب ان کے بیٹوں کو اس دھوکے کی خبر ملی، تو انہوں نے فوراً شرعی طریقہ کار (طلبِ مواثبت و اشہاد) کے مطابق رحیم بخش کو اصل قیمت پیش کی، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ دوسری طرف ایک اور شخص علو، جو دو تین کھیت دور ہے اور صرف راستے یا پانی میں شریک ہے،بھی شفعہ کا دعویٰ کر رہا ہے۔ تو ایسی صورتحال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
تنقیح:محمد عیسیٰ کو زندگی میں اس دھوکے کا علم نہ ہو سکا، جبکہ ان کے بیٹوں نے علم ہوتے ہی حقِ شفعہ کا دعویٰ کر دیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں چونکہ محمد عیسیٰ کے ساتھ دھوکہ ہوا اور انہوں نے صرف نورا کے حق میں شفعہ چھوڑا تھا، اس لیے رحیم بخش کے لیے ان کا حقِ شفعہ ساقط نہیں ہوا۔ بعد میں جب محمد عیسیٰ کے بیٹوں کو رحیم بخش کی خریداری کا علم ہوا، تو انہوں نے فوراً شرعی طریقہ کار کے مطابق طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد بھی کر لیا، لہٰذا اس بنیاد پران کا حقِ شفعہ قائم ہے۔ اور علو چونکہ متصل پڑوسی نہیں ہے، بلکہ صرف راستے اور پانی میں شریک ہے۔ اس کے مقابلے میں محمد عیسیٰ (اور ان کے بیٹے) متصل پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ راستے اور پانی میں بھی شریک ہیں، اس لیے شرعاً ان کا حق زیادہ مضبوط اور پہلا ہے۔
لہٰذا اس صورت میں محمد عیسیٰ کے بیٹوں کا حقِ شفعہ اب بھی بحال ہے اور علو کے مقابلے میں انہی کو ترجیح اور پہلا حق حاصل ہے۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه - 2340
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري أبو المغلس، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، حدثنا إسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى أن : " لا ضرر ولا ضرار ".
الهداية شرح بداية المبتدي(53/3)
قال: وإذا قيل له: إن المشتري ،فلان فسلّم الشفعة، ثم علم أنه غيره فله الشفعة؛
"الفتاوى الهندية" (5/ 165):
"أسباب الشفعة إذا اجتمعت يراعى فيها الترتيب فيقدم الأقوى فالأقوى فيقدم الشريك على الخليط والخليط على الجار فإن سلم الشريك وجبت الشفعة للخليط وإذا اجتمع خليطان يقدم الأخص ثم الأعم وإن سلم الخليط وجبت للجار وهذا جواب ظاهر الرواية وهو الصحيح؛ لأن كل واحد من هذه الأشياء الثلاثة سبب صالح للاستحقاق إلا أنه يرجح البعض على البعض لقوته في التأثير".
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
09/ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


