03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میریٹل ریپ کا حکم
90849نان نفقہ کے مسائلنان نفقہ کے متفرق مسائل

سوال

ایک نہایت اہم اور حساس شرعی مسئلہ جسے عصرِ حاضر میں میریٹل ریپ (Marital rape )یعنی ازدواجی عصمت دری سے تعبیر کیا جاتا ہے، کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔ آج کل مختلف ذرائع ابلاغ اور مباحث میں یہ تاثر عام ہے کہ شوہر کا بیوی کی رضامندی کے بغیر، یا اس کے واضح انکار کے باوجود، جسمانی قوت، دھمکی یا خوف دلا کر جنسی تعلق قائم کرنا،ریپ یا جنسی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس تصور کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا درست فہم حاصل کرنے اور مختلف اشکالات کو دور کرنے کے لیے درج ذیل سوالات کے قرآن و سنت اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں مدلل جوابات عنایت فرمائیں:

سوال 1: حدیثِ مبارکہ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ» کا صحیح سیاق و سباق کیا ہے؟ کیا یہ حدیث ہر صورت میں (بشمول جبر و تشدد) لاگو ہوتی ہے، یا صرف بلاعذر انکار کی مذمت کرتی ہے؟

سوال 2: کیا نکاح کے بعد حقوقِ زوجیت کی ادائیگی کے لیے بیوی کی مستقل رضامندی فرض کر لی جاتی ہے یا ہر مرتبہ قربت کے وقت اس کی رضامندی یا کم از کم عدمِ کراہت شرط ہے؟

سوال 3: اسلام میں زوجین پر حقِ زوجیت ادا کرنا واجب قرار دیا گیا ہے، لیکن کیا یہ وجوب مطلق ہے؟ بیوی کی بیماری، حیض، نفاس، جسمانی تکلیف، نفسیاتی صدمے، یا شوہر کی طرف سے مار پیٹ کے خوف کی صورت میں انکار کا کیا حکم ہے؟

سوال 4: اگر شوہر طاقت اور دھمکی سے جنسی تعلق قائم کرے تو کیا عورت اس ظلم کو روکنے کے لیے فقہی اصول «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (نہ خود نقصان اٹھاؤ نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ) کا سہارا لے سکتی ہے؟ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیل وسلم کے ارشادات «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ» اور «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا» اس جبری رویے کی کس حد تک نفی کرتے ہیں؟

سوال 5: کیا شوہر کا بیوی کی مرضی کے خلاف، جبر اور طاقت کے استعمال سے جنسی تعلق قائم کرنا شرعاً جائز ہے یا حرام؟ کیا ایسا کرنے والا شوہر ظالم اور گناہ گار تصور ہوگا جس پر توبہ لازم ہے؟

سوال 6: کیا شوہر کا یہ جبری اور پرتشدد رویہ عورت کے لیے فسخِ نکاح یا خلع کا شرعی سبب بن سکتا ہے؟

سوال 7: پاکستان میں اس وقت میریٹل ریپ کے حوالے سے کوئی واضح قانون موجود نہیں۔ مقاصدِ شریعت (خاص طور پر حفظِ نفس اور حفظِ عِرض) کی روشنی میں، کیا ایک اسلامی ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نوعیت کے خاندانی جبر کے خلاف قانون سازی کرے اور زوجہ کو قانونی تحفظ فراہم کرے؟

سوال 8: قرآن مجید کی آیات؛ ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (النساء: ۱۹)، ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (البقرہ: ۲۲۸) اور ﴿لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ (الروم: ۲۱) کی روشنی میں کیا معروف اورمودت و رحمت میں بیوی کی رضامندی اور اس کا جسمانی و نفسیاتی تحفظ شامل نہیں؟ کیا جبر معروف کے صریح خلاف نہیں؟

براہِ کرم ان سوالات کے تفصیلی جوابات مرحمت فرمائیں تاکہ عوام الناس میں اس حساس مسئلے پر واضح اور درست اسلامی مؤقف سامنے آ سکے۔ جزاکم اللہ خیراً!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح سے شریعتِ مطہرہ کا اصل مقصد فریقین کی عفت و پاکدامنی اور ایک دوسرے سے جنسی تسکین (حقِ استمتاع) کا جائز حصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جائز امور میں بیوی پر شوہر کی اطاعت اور ازدواجی تعلقات کے لیے آمادگی واجب ہے، اور اس معاملے میں عورت کی بلاوجہ کوتاہی، ضد یا ٹال مٹول پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔تاہم، اگر بیوی کو کوئی بیماری، شدید تھکاوٹ یا کوئی اور شرعی و طبعی عذر لاحق ہو، تو شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کی رعایت کرے،تاکہ ایک انسان کے طور پر عورت کے جائز حقوق کابھی تحفظ ہو سکے۔

1): چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، اگر شوہر بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ بغیر کسی شرعی عذر کے انکار کر دے، تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اسی طرح سننِ ترمذی میں ہے کہ اگر عورت تنور پر (مصروف) ہو اور شوہر اسے اپنی حاجت کے لیے بلائے، تو اسے چاہیے کہ وہ سب چھوڑ کر شوہر کی جائز خواہش پوری کرے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مرد میں جنسی خواہش کی شدت کے باعث، عدمِ تسکین سے ذہنی دباؤ اور کج روی کا اندیشہ ہوتا ہے، جس کا حتمی نقصان خاندانی نظام کی تباہی اور خود عورت کی محرومی ہے۔ چونکہ اسلام نے نان و نفقہ، رہائش اور زچگی جیسے تمام مالی اخراجات مرد کے ذمے ڈالے ہیں، اسی لیے شوہر کی موجودگی میں اس کی رضامندی کے بغیر بیوی کے لیے نفلی روزہ رکھنا تک ممنوع ہے تاکہ حقِ استمتاع متاثر نہ ہو۔

2): فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ شوہر کے بلانے پر بستر پر آنا بیوی پر واجب ہے۔ اگر بیوی جماع کے لیے دلی طور پر آمادہ نہ بھی ہو، تب بھی اس پر لازم ہے کہ وہ خود کو شوہر کے سپرد کرے اور اس کی خواہش کا احترام کرے اور اگر شوہر بیوی کی دلی رضا کے بغیر بھی تعلق قائم کرے،بشرطیکہ اس سے بیوی کو کوئی جسمانی نقصان نہ پہنچ رہا ہو،تو شرعاً اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

4-3) : تاہم، اگر بیوی بہت تھکی ہوئی ہو، کسی وقتی دباؤ کا شکار ہو یا اس کی طبیعت مائل نہ ہو، تو شوہر کو چاہیے کہ وہ زبردستی کے بجائے صبر، محبت اور حسنِ اخلاق سے اس کا دل جیتے اور اسے آمادہ کرے۔ البتہ اگر بیوی جسمانی اعتبار سے شدید بیمار، نحیف یا اتنی کمزور ہو کہ وہ جماع کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اسے جسمانی نقصان یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو، یا وہ حیض، نفاس، زچگی کے مراحل یا کسی گہرے نفسیاتی صدمے کی حالت میں ہو، تو اسے شوہر کو روکنے کا پورا شرعی حق حاصل ہے اور ایسی حالت میں شوہر کے لیے زبردستی جماع کرنا ہرگز جائز نہیں ،اور اعذار کی حالت میں اس کا انکار جائز ہے۔ بلکہ بعض اوقات انکار واجب ہوگا۔ جیسے حیض و نفاس، فرض روزہ، احرام وغیرہ کی صورت میں۔

5):اگر بیوی بلاوجہ ٹال مٹول کرےیا بیماری کی وجہ سے متحمل نہ ہو اور شوہر کو اس کا جائز حق (ازدواجی تعلق) نہ دے، تو شریعت نے مرد کو (بیک وقت) مزید تین نکاح تک کی اجازت دی ہے؛ اور اگر نکاح کے اصل مقصد میں رکاوٹ ڈال رہی ہو، تو طلاق دے کر رخصت کرنے کا اختیار بھی ہے۔ مزید یہ کہ دینی تربیت یافتہ شوہر تنبیہاً و تادیباً (حدودِ شرعیہ میں رہ کر) ہلکا سا مار مار سکتا ہے،جس میں بیوی کی بے عزتی یا تشدد سے بہر صورت بچنا لازم ہے اور بیوی کو ایسی جسمانی تکلیف پہنچانا جس سے اس کی صحت یا جان کو خطرہ لاحق ہو، سخت گناہ اور ظلم ہے۔ ایسے پُرتشدد رویے پر شوہر سخت گناہ گار ہوگا، جس پر توبہ کے ساتھ ساتھ اس کی تلافی (دلجوئی/ضمان) بھی لازم ہے۔

6): اوراگر خدانخواستہ یہ رویہ مستقل ظالمانہ صورت اختیار کر جائے اور عورت کےلیے مزید ساتھ رہنا ممکن نہ رہے،تو وہ طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے، یا شوہر کو خلع پر راضی کرے۔ شوہر کے آمادہ نہ ہونے کی صورت میں، عورت مسلم عدالت کے ذریعے فسخِ نکاح کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ایسی شدید صورتحال میں بوقتِ ضرورت مالکیہ کے اصول کے تحت ایسے ظالم شوہر کومتعنت شمار کر کے عورت کو خلاصی کا حق دیا جاسکتا ہے، کیونکہ شریعت کسی عورت کو مستقل ظلم کی چکی میں پسنے پر مجبور نہیں کرتی۔ البتہ، ایسی کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے پوری صورتِ حال لکھ کر کسی مستند دارالافتاء سے باقاعدہ شرعی رہنمائی حاصل کر لینی چاہیے۔

7):شریعتِ اسلامیہ کے مسلمہ قواعد کی رو سے میریٹل ریپ کا مغربی تصور اسلامی قانون اور خاندانی نظام کے مزاج کے صریح منافی ہے؛۔ عقدِ نکاح کے بعد شوہر کو اجنبی مرد کے مساوی رکھ کر اسی قانونی پیمانے سے ناپنا، نکاح کی افادیت کو فوت کر کے معاشرے میں شادی کے رجحان کو ختم کر دے گا۔اس تصور کے تحت ازدواجی تعلق میں جبر کو مستقل فوجداری جرم قرار دینا مسلم معاشرے میں خاندانی بکھراؤ، باہمی بلیک میلنگ اور جھوٹے مقدمات کا سبب بنے گا، جس سے معمولی خانگی تنازعات پر بھی بیرونی مداخلت کی وجہ سے گھریلو سکون یکسر برباد ہو جائے گا۔ کیونکہ بالعموم ایسے معاملات میں عورتیں جلد باز اور جذباتی ہوتی ہیں۔

8):جہاں تک شوہر کے پُرتشدد رویوں کا تعلق ہے، تو شریعت اور ملکی قوانین میں تشددکے سدِ باب کے لیے پہلے سے ہی تعزیری سزائیں اور تحفظات موجود ہیں۔ لہذا، اسلامی ریاست کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر شرعی قوانین کی بجائے، پہلے سے موجود قوانینِ کو اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورت سے مؤثر بنا کر زوجہ کو جسمانی و نفسیاتی تحفظ فراہم کرے، تاکہ قانون کے غلط استعمال کا راستہ بھی بند رہے اور مقاصدِ شریعت بھی حاصل ہوں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري - 3237

حدثنا مسدد ، حدثنا أبو عوانة ، عن الأعمش ، عن أبي حازم ، عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح " تابعه شعبة ، وأبو حمزة ، وابن داود ، وأبو معاوية ، عن الأعمش .

جامع الترمذي - 1160

حدثنا هناد ، حدثنا ملازم بن عمرو ، قال : حدثني عبد الله بن بدر ، عن قيس بن طلق ، عن أبيه طلق بن علي ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته ، وإن كانت على التنور " . قال أبو عيسى : هذا حديث حسن غريب .

الفتاوى الهندية (1/ 270):

وأما أحكامه فحل استمتاع كل منهما بالآخر على الوجه الماذون فيه شرعاً كذا في فتح القديرا... ووجوب إطاعته عليها إذا دعاها إلى الفراش...وولاية تأديبها إذا لم تطعه بأن نشزت و استحباب معاشرتها بالمعروف هكذا في البحر الرائق.

رد المحتار على الدر المختار (5/ 287):

قوله : (لو مانعته من الوطء الخ) قيده في السراج بمنزل الزوج وبقدرته على وطئها كرهاً. وقال بعضهم: لا نفقة لها؛ لأنها ناشزة .اهـ. والثاني وجبه في حق من يستحي، وهذا يشير إلى أن هذا المنع في منزلها نشوز بالاتفاق.

أحكام القرآن للجصاص (2/ 109):

وقوله تعالى( وعاشروهن بالمعروف به) امر للازواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف ان يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك اذاها بالكلام الغليظ والاعراض عنها والميل الى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب وماجرى مجرى ذلك وهو نظير قوله تعالى ( فامساك بمعروف او تسريح باحسان ) و قوله تعالى فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شيأ ويجعل الله فيه خيرا كثيرا يدل على انه مندوب الى امساكها مع كراهته لها ۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (640/3)

قال رحمه الله : ( ومن حد أو عزر فمات فدمه هدر بخلاف الزوج إذا عزر زوجته لترك الزينة، و الإجابة إذا دعاها إلى فراشه وترك الصلاة والغسل والخروج من البيت)۔

 قوله : ( وترك الصلاة سيجيء بعد أسطر عند قول الشارح ألا ترى أنه ليس له أن يضربها إلخ اهـ قال الولوالجي رحمه الله في فتاواه وفي الفصل الخامس من كتاب النكاح وللزوج أن يضرب زوجته على أربع خصال وما هو في معنى الأربع إحداها على ترك الزينة للزوج والزوج يريدها، والثاني على ترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه والثالث على ترك الصلاة وعلى ترك الغسل والرابع: الخروج من المنزل لأن الأول والثاني يخل بمقصود النكاح والثالث والرابع معصية اهـ وتنبه لقوله : وما هو في معنى الأربع فإنه نفيس والله الموفق وقال قاضيخان في باب النفقة في فصل حقوق الزوجين: للزوج أن يمنع المرأة من الغزل وله أن يضربها على أربعة منها ترك الإجابة إذا أراد الزينة والثانية ترك الإجابة إذا أراد الجماع وهي طاهرة والثالثة ترك الصلاة وفي بعض الروايات عن محمد ليس له أن يضربها على ترك الصلاة۔

البحر الرائق شرح كنز الرقائق(53/5)

(قوله بخلاف الزوج إذا عزر زوجته لترك الزينة و الإجابة إذا دعاها إلى فراشه وترك الصلاة والخروج من البيت) يعنى فاتت فإنه يكون ضامنا ولا يكون دمها هدر لأنه مباح ومنفعته ترجع اليه كما ترجع الى المرأة من وجه وهو استقامتها على ما أمر الله تعالى به وقد ظهر بهذا أن كل ضرب كان مأمورا به من جهة الشارع فإن الضارب لا ضمان عليہ ۔۔ 

الفقه الحنفي في ثوبه الجديد(134/2)

قال : «إذا دعا الرجل امرأته إلى فِراشِه فَلَمْ تَأْتِه فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتّى تُصْبحَ (۱) . ومعنى الحديث أن اللعنة تستمر عليها حتى تزول المعصية بطلوع الفجر والاستغناء عنها أو بتوبتها ورجوعها إلى الفراش.هذا وإن بعض الزوجات ينتَهِزْن فرضةً رغبة أزواجهن في الاتصال بهن ليملين مطالبهنَّ على أزواجهن، فترى الواحدة منهن تمتنع عن زوجها حتى يلبي ،مطالبها، وقد يكون زوجها لا يستطيع تحقيق هذه المطالب لها لفقره وقلة ما في يَدِه، وقد يلجأ بعض الأزواج إلى اكتساب المال من وجوه الكسب المحرمة، إرضاءً لزوجته وتحقيقاً لمطالبها، فكم من زوج انزلق إلى مزالق الرشوة والغش والاختلاس من أجل تحقيق رغبات زوجته التي لا تنتهي، ولهذا حَرَّم الإسلام على المرأة أن تمتنع عن تحقيق رغبة زوجها بوصالها وأن تهجر فراشه وعَدَّ ذلك كبيرةً من كبائر الذنوب، قال : إذا باتت المرأة هاجرةً فراش زوجها لعنتها الملائكةُ حَتَّى
تُصْبحَ "

حیلہ ناجزۃ(72):

والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصه : ان منعهانفقة الحال فلها القیام فان لم یثبت عسرهانفق او طلق و الا طلق عليه، قال محشيه : قوله والا طلق عليه ای طلق عليه الحاکم من غیر تلوم…..الی ان قال: وان تطوع بالنفقة قریب اواجنبی فقال ابن القاسم:لها ان تفارق لان الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن:لا مقال لها لان سبب الفراق هو عدم النفقةقد انتهي وهو الذی تقضيه المدونۃ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهي.

فتاوی قاسمیہ:(16/371)

اس کے برخلاف شوہر کی طرف سے بے جا مارپیٹ اور ظلم و زیادتی کی وجہ سے بیوی...ایسی صورت میں کتب احناف میں اس سلسلے میں کوئی جزئیہ نہیں مل سکا، لیکن مالکیہ کے یہاں اس سلسلے میں شوہر کو متعنت کے درجہ میں قرار دے کر اس ظالم شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فسخ نکاح کی گنجائش ہے؛ لہٰذا ایسی ستم رسیدہ مظلوم عورت کے بارے میں قاضی یا جماعت المسلمین حالات کا جائزہ لے کر مسلک مالکی کے مطابق تفریق کردینے کا مجاز ہوگا، جیسا کہ شیخ ابو زہرہ کی ’’کتاب الاحوال الشخصیۃ‘‘ کی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے:

المنصوص علیہ فی مذہب مالک رضی اللہ عنہ أن الزوج إن تعدی علی زوجتہ بأن أذاہا إیذاء غیر سائغ لہ شرعا، ورفعت أمرہا إلی القضاء، و أثبتت الإیذاء زجرہ و اکتفی بذٰلک إن أرادت البقاء، وإن عجزت عن الإثبات و تکررت الشکویٰ أسکنہا بین قوم صالحین وإذا ادعی کل واحد منہما إضرار الآخر بہ،  وعجز کل واحد منہما عن الإثبات و أشکل الأمر علی القضاء بعث حکمین عدلین رشیدین من أہلہما إن أمکن، و إلا فمن غیرہما و أصلحا بینہما إن أمکن الإصلاح فإن لم یمکن الإصلاح کان لہما التفریق بخلع علی المہر إن تبین لہما أن الأذی أو النشوز من جانبہا، وبغیر خلع إن تبین لہما أن الأذی من جانبہ و یقدر أن الأمر إن جہلت الحال أو تبین أنہ من جانبہما، ویقع الطلاق ولو لم یطلب الزوجان أو أحدہما الطلاق، والتفریق بعمل الحکمین فی ہذا الحال یکون فی الشقاق فی ذاتہ، و إن لم یثبت الأذیٰ، و آذاہا وأثبتت الإیذاء وطلبت التفریق بناء علیہ طلق القاضی علیہ، و إثباتہا الضرر یکون بالشہادۃ علیہ۔(الأحوال الشخصیۃ للشیخ محمد أبو زہرۃ، طبع دار الفکر العربی ص:  ۳۶۲-۳۶۳)

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

08 محرم الحرام 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب