03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کے آمدن کے اصول و ضوابط
90481وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

 خدمتِ عالی جناب مفتیانِ کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد از عرضِ ادب گزارش ہے کہ میں ایک دینی مدرسہ کا مہتمم و منتظم ہوں۔ میں نوجوان ہوں، الحمدللہ مجھے عصری (اسکول) تعلیم بھی حاصل ہے اور دینی (مدرسہ) تعلیم بھی، مگر اس کے باوجود میں نے کسی ملازمت یا کاروبار کو اختیار کرنے کے بجائے اپنی پوری جوانی، وقت اور صلاحیتیں مکمل طور پر اسی مدرسے کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔ مدرسے کے تعلیمی، انتظامی اور مالی امور میں پورا دن مصروف رہتا ہوں اور اس کے علاوہ میرا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہیں، صرف مدرسے سے ملنے والی ایک محدود تنخواہ ہی میرا سہارا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہمارا مدرسہ قومی یا عوامی مدرسہ نہیں بلکہ میرا ذاتی قائم کردہ مدرسہ ہے۔ مدرسے کے لیے ایک گھر کرائے پر لیا گیا ہے جس کا کرایہ میں خود ادا کرتا ہوں۔ مدرسے کی نہ کوئی کمیٹی ہے اور نہ شوریٰ مدرسے کے تمام انتظامی، تعلیمی اور مالی فیصلے میری ذمہ داری ہیں۔ چندہ وصول کرنا، قواعد و ضوابط بنانا اور اساتذہ و طلبہ کے لیے سہولیات مقرر کرنا سب کچھ میرے ہی ذمہ ہے مزید یہ کہ مدرسہ عمومی چندہ نہیں کرتا، البتہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے چندہ دے جائے تو وہ قبول کر لیا جاتا ہے۔ مدرسے کی آمدن کا بنیادی ذریعہ طلبہ کی معمولی فیس اور کھانے میں سوکھی روٹی وغیرہ کی بچت سے حاصل ہونے والی رقم ہے، جو ان محدود وسائل سے مدرسے کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ ہمارا مدرسہ ایک دوسرے ضلعے میں واقع ہے، اس وجہ سے مختلف اضلاع سے آنے والے حضرات، خصوصاً ہمارے اپنے ضلعے کے لوگ، عموماً مدرسہ ہی میں بطور مہمان قیام کرتے ہیں ۔ شرعاً مہمان نوازی ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے، لیکن میری محدود آمدن کے باعث ذاتی خرچ سے مستقل مہمان نوازی کرنا شدید مالی تنگی کا سبب بنتا ہے۔ مندرجہ بالا تمام حالات کے پیش نظر درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

کیا مدرسے میں آنے والے ایسے مہمان جو دینی، تعلیمی یا عرفی طور پر مدرسے سے متعلق سمجھے جاتے ہوں، ان کی مہمان نوازی مدرسے کے فنڈ یا دستیاب آمدن سے کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور اگر مہمان محض ذاتی تعلق سے آئیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

مدرسے کے اساتذۂ کرام کے مہمان، خواہ وہ دینی و انتظامی نوعیت سے آئیں یا محض ذاتی رشتہ دار ہوں، ان کی مہمان نوازی مدرسے کے فنڈ سے کن صورتوں میں جائز اور کن صورتوں میں ناجائز ہے؟

مدرسے کے طلبۂ کرام کے والدین یا دیگر رشتہ دار اگر مدرسہ آئیں تو کیا ان کی مہمان نوازی مدرسے کے فنڈ سے کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

کیا مہتمم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مدرسے کے فنڈ یا آمدن سے اساتذۂ کرام، ملازمین اور طلبۂ کرام کے لیے علاج و معالجہ، رہائش، سفری اخراجات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کر سکے؟ اگر جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟

اسی طرح کیا خود مہتممِ مدرسہ کے لیے، جبکہ وہ مکمل طور پر مدرسے کے لیے وقف ہو اور اس کا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہ ہو، مدرسے کے فنڈ سے علاج، رہائش، سفری سہولیات اور دیگر ضروری اخراجات لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ اسلامی اور اصولِ امانت و تصرف فی المال کی روشنی میں واضح اور مدلل جواب عنایت فرما کر عندالله ماجور ہوں۔ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں اگر مدرسہ باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یا عرفِ عام میں اسے ایک مستقل تعلیمی ادارے کی حیثیت حاصل ہے، تو شرعی اعتبار سے یہ ایک شخصِ قانونی ہے، یعنی مدرسے کی اپنی ایک مستقل مالیاتی حیثیت ہے۔ اس صورت میں طلبہ سے لی جانے والی فیس مدرسے (ادارے) کی ملکیت ہے، جو مدرسے کے جملہ اخراجات (تنخواہیں، کرایہ، یوٹیلیٹی بلز اور مدرسہ کی مصالح) کے لیے استعمال ہوگی۔

جبکہ مہتم بطور متولی وقف مدرسے کے طلبہ کا وکیل ہوتا ہے اور مہتمم صاحب کا مدرسہ کے طلبہ کے لیے زکاۃ، صدقات، عطیات و غیره لینا درست ہے، اور اسی رقم کو مدرسہ کے طلبہ کی ضروریات مثلاً: کھانے، پینے، علاج معالجہ اور دیگر ضروریات میں بحسب شرائط مدرسے کے مصالح اور معاونین کی منشا کے مطابق خرچ کرنا لازم ہو گا۔

مذکورہ اصولوں کی روشنی میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

مہمانوں کی ضیافت کا حکم: جو مہمان تعلیمی یا انتظامی ضرورت (مثلاً معاینہ، دینی مشاورت یا مدرسے کے مفاد) کے لیے تشریف لائیں، ان کی اعتدال کے ساتھ ضیافت مدرسہ فنڈ (فیس کی آمدن) سے کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ مدرسے کی مصلحت میں داخل ہے۔ البتہ جو مہمان محض ذاتی تعلق یا قرابت داری کی بنیاد پر آئیں، ان پر مدرسے کے فنڈز سے خرچ کرنا جائز نہیں۔ ایسے مہمانوں کی ضیافت مہتمم کو اپنی ذاتی جیب سے کرنی چاہیے۔

اساتذہ اور طلبہ کے متعلقین کی آمد: اساتذہ کے ذاتی مہمانوں یا طلبہ کے والدین کی ضیافت کا بوجھ عمومی طور پر مدرسے پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ تاہم، اگر مدرسے کے ضوابط میں پہلے سے یہ طے ہو کہ اساتذہ کو معینہ حد تک ضیافت کی سہولت دی جائے گی، یا عرف میں اسے مدرسہ کی سہولیات کا حصہ مانا جاتا ہو، تو مدرسہ فنڈ سے اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔

اساتذہ و طلبہ کی دیگر سہولیات (علاج، سفر وغیرہ): بطور مہتمم آپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے علاج معالجہ، رہائش اور سفری سہولیات فراہم کریں۔ چونکہ مدرسہ ایک شخصِ قانونی کی حیثیت سے فیس وصول کرتا ہے، اس لیے اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے ملازمین (مدرسین) کی جائز ضروریات اور تنخواہوں کا بھی ضامن ہو۔ یہ تمام اخراجات فیس کی آمدن سے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ کی رقم اس میں صرف نہیں کی جا سکتی، سوائے اس کے کہ مستحق طلبہ پر براہِ راست خرچ کی جائے۔

مہتمم کے ذاتی اخراجات اور مراعات: چونکہ بطور متولی وقف آپ نے اپنی صلاحیتیں اور وقت مدرسے کے لیے وقف کر رکھا ہے اور آپ کا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن بھی نہیں ہے، اس لیے آپ مدرسے سے اپنی خدمات کے عوض اجرتِ مثل (عرف کے مطابق مناسب تنخواہ) لینے کے حقدار ہیں۔لیکن وہ متعین ہونی چاہیے، اور باقاعدہ تحریری شکل میں اس کا ریکارڈ بھی رکھا جائے تا کہ کل کو بدعنوانی کا داغ نہ لگے۔

حوالہ جات

جامع الترمذي – 1352

حدثنا الحسن بن علي الخلال  , حدثنا أبو عامر العقدي  ، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني  , عن أبيه  , عن جده  , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : " الصلح جائز بين المسلمين , إلا صلحا حرم حلالا , أو أحل حراما , والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا , أو أحل حراما "  . قال أبو عيسى : هذا حديث حسن صحيح .

رد المحتار:( 9/ 76)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله:قوله:( ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار، وزاد بعضهم الأذان والإقامة والوعظ وذكر المصنف معظمها، ولكن الذي في أكثر الكتب الاقتصار على ما في الهداية فهذا مجموع ما أفتى به المتأخرون۔

بدائع الصنائع(263/6)

التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير… 

المحيط البرهاني(140/7)

وليس للقيم أن يسكن فيها أحداً بغير أجر ؛ لأنه إتلاف منافع الوقف بغير عوض..

رد المحتار(561/7)

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين فتح. فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا فيعطى المشروط لهم۔

(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحةكالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح۔ هذا إذا لم يكن معيناً؛ فإن كان الوقف معيناً على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اهـ . قال في البحر والسراج بالكسر : القناديل ومراده مع زيتها والبساط بالكسر أيضاً الحصير، ويلحق بهما معلوم خادمهما وهو الوقاد والفراش فيقدمان، وقوله إلى آخر المصالح : أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر، ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع .اهـ. ملخصاً. ثم لا يخفى أن تعبير الحاوي بثم يفيد تقديم العمارة على الجميع كما هو إطلاق المتون فيصرف إليهم الفاضل عنها خلافاً لما يوهمه كلام البحر ؛ نعم كلام الفتح الآتي يفيد المشاركة ويأتي بيانه فافهم قوله : (بقدر كفايتهم أي لا بقدر استحقاقهم المشروط لهم والظاهر أن قول الحاوي : هذا إذا لم يكن معيناً الخ، راجع إليه كما فهمه في شرح الملتقى وقال : إن فرض المسألة فيما إذا كان الوقف على جملة المستحقين بلا تعيين قدر لكل فلو به فلا ينبغي جعل الحكم كذلك اهـ : أي بل يصرف إلى كل منهم القدر الذي عينه الواقف، ثم قال في شرح الملتقى: ويمكن أن يقال : لا فرق بين التعيين ،وعدمه لأن الصرف إلى ما هو قريب من العمارة كالعمارة وهي مقدمة مطلقاً، ، ويقوّيه تجويزهم مخالفة شرط الواقف في سبعة مسائل منها : الإمام لو شرط له ما لا يكفيه يخالف شرطه اهـ

الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري(38/2)

ولو وقف على دهن السراج للمسجد لا يجوز وضعه الجميع الليل، بل بقدر حاجة المصلين، ويجوز إلى ثلث الليل، أو نصفه إذا احتيج إليه للصلاة فيه. وهل يجوز أن يدرس الكتاب على سراج المسجد؟ ينظر: إن كان وضع لأجل الصلاة، فلا بأس بذلك إلى أن يفرغوا من الصلاة

مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر(338/2)

و أما حكمها: فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده و وجوب أدائه عند طلب مالكه، و شرعية الابداع بقوله تعالى إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

03 ذوالحجہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب