03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مبیع پر قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا
90482خرید و فروخت کے احکامبغیر دیکھے خریدنے بیچنے کے مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب،میں ایک آن لائن بزنس شروع کرنا چاہتا ہوں اور اس کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ میرا بزنس ماڈل کچھ اس طرح ہے کہ میں اپنی پروڈکٹس Etsy اور Amazon جیسے آن لائن پلیٹ فارمز پر لسٹ کروں گا۔ جب کوئی کسٹمر آرڈر کرے گا تو وہ پہلے پلیٹ فارم کو پیمنٹ کرے گا، یہ رقم میرے پاس نہیں آئے گی بلکہ پلیٹ فارم کے پاس امانت کے طور پر رکی رہے گی۔ اس کے بعد میں وہی پروڈکٹ کسی تھرڈ پارٹی سپلائر (مثلاً چین / AliExpress) سے خرید کر سیدھا کسٹمر کو بھجوا دوں گا۔ جب کسٹمر کو پروڈکٹ مل جائے گی اور وہ اپنی تسلی ظاہر کرے گا، تب پلیٹ فارم مجھے پیمنٹ جاری کرے گا۔ میں پروڈکٹ کو اپنی ملکیت میں لیے بغیر پہلے ہی لسٹ کر دیتا ہوں۔ مجھے پیمنٹ اس وقت ملتی ہے جب کسٹمر مطمئن ہو جائے۔ اگر کسٹمر کو پروڈکٹ پسند نہ آئے تو اسے مکمل رقم واپس مل جاتی ہے۔ میں صرف حلال اشیاء ہی فروخت کروں گا۔

میرا سوال ہےکہ کیا اس طرح کا بزنس شریعت کے مطابق جائز ہے؟ یا اس میں بغیر ملکیت کے مال بیچنے کی وجہ سے کوئی شرعی قباحت ہے؟ اگر اس میں کوئی مسئلہ ہو تو براہِ کرم اس کو جائز بنانے کا صحیح طریقہ بھی بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیرا

تنقیح: سائل نے بتایا کہ AliExpress ایسی صورت میں پروڈکٹ واپس قبول کرتا ہے جب وہ کسٹمر کو پسند نہ آئے ( پالیسی کے مطابق)۔ راستے میں اگر سامان خراب ہو جائے یا ڈیلیوری کے دوران کوئی مسئلہ ہو، تو اس کا نقصان AliExpress کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ پروڈکٹ کی موجودگی کے بارے میں ہم کسٹمر کو کوئی خاص وضاحت فراہم نہیں کرتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورتِ مسئولہ میں آپ نے جس طریقہ کار کا ذکر کیا ہے، وہ شرعی اصطلاح میں بیع قبل القبض (چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے بیچنا) اور بیع مالا یملک (جو چیز ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنا) کے زمرے میں آتا ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا محض تصویر دیکھ کر اور قبضے کیے بغیر آگے بیچنا جائز نہیں ہے۔

اس کاروبار کو شرعی اصولوں کے مطابق جائز بنانے کے لیے درج ذیل دو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں:

1۔ وکالت یا بروکری (Affiliate Marketing / Simsar): اس صورت میں آپ اشیاء کے بائع (Seller) نہیں، بلکہ AliExpress کے ایجنٹ یا بروکر کے طور پر کام کریں گے۔ آپ Etsy یا Amazon پر یہ وضاحت کریں (مثلاً Terms & Conditions میں) کہ آپ یہ اشیاء کسی دوسرے سپلائر سے فراہم کرواتے ہیں۔ اس صورت میں AliExpress کی اصل قیمت اور آپ کی لسٹڈ قیمت کے درمیان جو فرق ہوگا، وہ آپ کی سروس فیس یا کمیشن کہلائے گا۔ اس میں چیز پر آپ کا قبضہ کرنا شرط نہیں ہے، کیونکہ آپ محض ایک واسطہ (Middleman) کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

3۔ وعدۂ بیع (Promise to Sell): اگر آپ خود کو بائع (Seller) کے طور پر ہی متعارف کروانا چاہتے ہیں، تو کسٹمر کے آرڈر دینے پر آپ کا اس کے ساتھ کیا گیا سودا بیع نہیں بلکہ وعدۂ بیع کہلائے گا۔ جب کسٹمر آرڈر کرے، تو شرعی طور پر وہ سودا مکمل نہ ہو بلکہ صرف ایک وعدہ ہو۔ آپ AliExpress سے وہ چیز خرید کر قبضہ کے بعد آپ کسٹمر کو وہ چیز فروخت کر سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا صورتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں قبضہ (Possession) حاصل کرنے کے لیے آپ سپلائر سے روانگی پر مبنی شرائط Departure-based sales جیسے مثلا EXW، FCA، CPT یا CIP پرمعاملہ کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جیسے ہی سپلائر مال کو کوریئر کمپنی (جو آپ کے وکیل کے طور پر کام کرے گی) کے حوالے کر کے رسید جاری کرے گا، آپ کا 'حکمی قبضہ' متحقق ہو جائے گا۔ اب چونکہ اس مال کا نفع و نقصان (ضمان) آپ کا ہے، اس لیے آپ اسے کسٹمر کو منافع کے ساتھ آگے بیچ سکتے ہیں۔ جبکہ لوکل مارکیٹ میں قبضہ ثابت کرنے کی صورت بلٹی ریٹ (Transshipment) یا اڈہ ڈلیوری (Ex-Factory) پر خریداری کرنا ہے۔ جیسے ہی سپلائر ٹرانسپورٹ اڈے پر مال پہنچا کر یا دکان سے مال روانہ کر کے آپ کے نام کی بلٹی کٹوا لے گا، آپ کا ضمان (Risk) شروع ہو جائے گا اور آپ کا قبضہ تسلیم کر لیا جائے گا۔یاد رہے ان صورتوں میں کہ AliExpress سے کسٹمر تک پہنچنے کے دوران اگر چیز ٹوٹ جائے یا گم ہو جائے، تو اس کا ضمان (Risk) آپ کو اٹھانا ہوگا، کیونکہ نفع اسی صورت میں حلال ہے جب آپ نقصان کی ذمہ داری لیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (7/ 93):

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.َ.... (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

 درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 272):

إذا باع الدلال مالا بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقة وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه أو من المشتري أخذت منه أو من الاثنين أخذت منهما  أما إذ باع الدلال المال فضولا لا بأمر صاحبه فالبيع المذكور موقوف ويصبح نافذا إذ أجاز صاحب المال وليس للدلال أجرة في ذلك لأنه عمل من غير أمر فيكون متبرعا (طحطاوي - در المختار - رد المحتار)

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (371/7)

(لا) يصح ... (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه ... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز ... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما ... (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد.

https://www.icertis.com/contracting-basics/what-are-incoterms/-Date Accessd [05-05-2026]

 Departure-based sales: The goods travel at the buyer’s risk during the main transport. This category includes eight Incoterms:

Multimodal Incoterms: EXW, FCA, CPT, CIP

Maritime Incoterms: FAS, FOB, CFR, CIF

Arrival-based sales: In this case, the seller assumes the risks and costs related to the main transport. Three Incoterms are concerned: DAP, DPU, DDP.

https://www.trade.gov/know-your-incoterms-Date Accessd [05-05-2026]

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24 ذو القعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب