| 92301 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
1-علی نے طلاق کی نیت سے صرف لفظ "میں" بولا اور باقی علی نے نہیں کہا کہ" طلاق دیتا ہوں" کیا علی کی بیوی کو طلاق ہوئی؟
2-علی نے طلاق کی نیت سے''اف'' کہا ،کیا اس کی بیوی مطلقہ ہوگی؟
3-علی یوٹیوب پر فلم دیکھ رہا تھا ،ہاتھ میں موبائل تھا ۔علی نے دل میں سوچا ''اگر پوری فلم نہ دیکھی تو راشدہ کو طلاق ''علی نے فلم پوری نہیں دیکھی، کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
4-علی نے سنا کہ طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق نہیں ہوتی ،علی کی بیوی کا نام راشدہ ہے اس نے طلاق کےجھوٹے اقرار کی نیت سے جملہ بولا طوبی میری بیوی ہے پھر بولا ایمن میری بیوی ہے علی کو پتہ تھا کہ یہ جملے فضول ہیں، کیونکہ وہ ذہن سے طلاق کا وہم ہٹانا چاہتا تھا کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی ؟جبکہ اس نے بولا طوبی میری بیوی ہے اور پھر بولا ایمن میری بیوی ہے، یہ بات اس نے طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کی نیت سے بولی۔
5-کیا یہ بات درست ہےکہ طلاق کا جھوٹا اقرار تب ہوتا ہے جب علی کہے کہ میں نے راشدہ کو طلاق دی ہے یا علی بولے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ؟فرضی سوال پوچھنے والے کی بیوی کو طلاق تو نہ ہوگی اگر وہ کہے کہ علی بولے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ۔یا طلا ق کے وہم کی وجہ سے علی کے منہ سے نکل گیا طلاق ہوگئی ،جبکہ اس وقت وہ اکیلا تھا صرف وہم کی وجہ سے اس کو لگا ،اور اس کی زبان پر آگیا ؟
6-علی نے زبان سے کہا :اشرف نے کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، جبکہ ایسا نہ تھا ۔کیا علی کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
7-کیا یہ بات درست ہے علی کی بیوی اگر کہے مجھے طلاق دو علی نے کہا ''ٹھیک ہے'' تو طلاق نہ ہوگی اگر علی کی نیت نہ ہو؟
8-علی نے خود کلامی میں کہا میں کب تلک ٹھیک ہوں گا ''تلک'' کہنے سے اس کی بیوی مطلقہ تو نہ ہوگی؟
9-علی نے طلاق کی نیت سے ٹی وی کا ریموٹ پکڑا ہوا تھا، کوئی بٹن نہیں دبایا، فنکار عثمان نے ٹی وی پر کہا میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ،فنکار عثمان کا یہ جملہ تحریری طور پر بھی سکرین پر ظاہر ہوا کیا ریموٹ کنٹرول کو طلاق کی نیت سے پکڑنے پر علی کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
10-علی نے کہا عثمان میری زندگی کے ہر معاملے کا وکیل ہے ،جبکہ اس کی نیت عثمان کو طلاق کا وکیل بنانے کی نہ تھی اس
نےویسےہی بغیر نیت بول دیا ۔کیا اس طرح عثمان اس کی بیوی کو طلاق دینے کا حق بھی رکھتا ہے؟
11-حسین دارلافتاء کو سوالات بھیج رہا تھا اس نے لکھا کہ زید نے کہا میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ،حسین نے جب سوال کے باقی کالم پر کیے تو ایک جگہ سوال پوچھنے والے کا شہر پوچھ رہے تھے ،حسین فیصل آباد کا تھا اس نے پہلے فیصل آباد لکھا پھر اس کو وہم آیا کہ اس طرح اپنےشہر کا نام لکھنے سے حسین کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، جبکہ حسین کو یہ علم تھا کہ یہ وہم ہے اس نے وہم دور کرنے کے لیے لکھا اوکاڑہ اور زبان سے کہا اب طلاق نہیں ہوگی ؟ کیا حسین کی بیوی مطلقہ تو نہیں بن جائے گی؟
12-حسین نے بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا کہ اس دل میں وسوسہ آیا کہ اگر زینب کو گیٹ تک اٹھا کر نہ گیا تو ریشم کو طلاق۔ زینب کو اس نے گیٹ تک نہ اٹھایا ،غیر اختیاری حسین کی زبان سے نکل گیا'' قسم تو گیٹ تک اٹھا کر لے جانے کی تھی ''حسین کو علم تھا یہ وہم ہے اس طرح تعلیق منعقد نہیں ہوتی، لیکن جو اس کی زبان سے غیر اختیاری جملہ نکلا کہ'' قسم تو گیٹ اٹھا کر لے کر جانے کی تھی ''حسین نے دل میں جو وسوسے کے الفاظ سوچے ،لیکن اس کی زبان پر جاری ہوگیا ،اس کی مراد قسم سے تعلیق طلاق کا اقرار کرنے کی نہ تھی وہ صرف وہم کو ذہن سے نکال رہا تھا،کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجائےگی؟
13-ایک دیوار پر ارشد نے لکھا تھا ''میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں'' عثمان اپنی بیوی ساجدہ کو طلاق دینے کی نیت سے دیوار کے سامنے کھڑا ہوگیا، سی سی ٹی وی کیمروں نے اس کی تصویر بنا لی ،عثمان نے جو طلاق کی نیت سے تصویر کھنچوائی کیا اس کی بیوی مطلقہ ہوگی ؟جبکہ اس نے زبان سے ایک بھی لفظ نہیں کہا؟
14-علی نے کہا میزان بنک اس کے ہر معاملے کا وکیل ہے ،علی کی نیت میزان بنک کو طلاق کا وکیل بنانے کی نہ تھی ،کیا میزان بنک اس کی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے؟
15-ریحان نے طلاق کی نیت سے ایک مرتبہ کہا ''خیر ہے'' پھر طلاق کا اقرار کرنے کی نیت سے کہا ''خیر ہے'' ریحان نے خیر ہے کہ علاوہ کچھ نہیں کہا، کیا یہ بات درست ہے ''خیر ہے'' نہ طلاق کا کنایہ جملہ ہے اور نہ ہی طلاق کا صریح جملہ ہے ،اس وجہ سے طلاق نہیں ہوگی؟
16-عثمان نے طلاق کی نیت سے کہا'' میں ''اور کچھ نہیں کہا اور عثمان نے دل میں سوچا'' طلاق دیتا ہوں ''کیا عثمان کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
17-علی نے کہا اگر روزہ توڑا تو َ....اور پھر دل میں سوچا کہ رضیہ کو طلاق ،علی نے روزہ توڑ دیا کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
18-اگر علی طلاق کی نیت سےکاغذ پر نقطہ لکھے تو اس کا کیا حکم ہے نقطے کی شکل یوں تھی (.)
19-علی نے طلاق کی نیت سے منہ کے اندر ہی آپس میں اپنے دانت رگڑے جس سے رگڑ کی آواز بھی نکلی ،کیا اس طرح علی کی بیوی کو طلاق ہوگی؟
20- علی کی بیوی کا نام راشدہ ہے اس کی شکل اس کی سابقہ محبوبہ آمنہ سے ملتی ہے علی نے تنہائی میں کہا''راشدہ میری آمنہ ہے'' پھر کچھ دن بعد اس نے کہا آمنہ کو طلاق ،جبکہ علی نے اپنی بیوی راشدہ کو طلاق کی نیت سے آمنہ کو طلاق نہیں کہا ،اس نے آمنہ کا خیال ذہن سے نکالنے کے لیے کہا ہے۔ اس نے جو راشدہ کو تنہائی میں اپنی آمنہ کہا تھا اس کی وجہ سے آمنہ کو طلاق کہنے سے اس کی بیوی کو طلاق تو نہ ہوگی؟
سوالات جن کی تصدیق کروانی ہے جن کے جوابات دیوبند مسلک کے مشہور مدرسوں نے دیے ہیں جن میں جامعہ بنوریہ جامعۃ الرشید اور دارلعلوم دیوبند ہیں۔
سوال نمبر1:
اشرف نے زاہد کا طلاق نامہ لکھا، اشرف نے لکھا'' میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں' 'اشرف کی بھی دوران تحریر طلاق کی نیت بن گئی، اشرف نے جملہ میں' 'اپنی بیوی''کے لکھنے تک طلاق کی نیت نہیں کی، لفظ "کو" لکھتے وقت محض لفظ ''کو ' 'میں موجود "ک " کے اوپر والی ڈنڈی کو جو کہ لکیر کی شکل میں ہوتاہے، طلاق کی نیت سے لکھا، اور فورا اپنی نیت بدل ڈالی، کیا محض''ک '' کے اوپر والی ڈنڈی جو کہ لکیر کی شکل میں ہوتاہے، اگر اشرف طلاق کی نیت سے لکھے گا تو اشرف کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی ؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ یا تو طلاق کا لفظ زبان سے ادا کیاجائے، یا اگر تحریری طورپر طلاق دے رہاہو تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریر واضح ہواور باضابطہ ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں "ک" کی اوپری لکیر لکھتے وقت طلاق کی نیت کرنے سے مذکورہ شخص(اشرف) کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
کیا یہ فتوی درست ہے اگر یہ درست نہیں ہے تو بتائیں؟
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/sirf-talaq-ki-niyat-se-talaq-ka-hukum-144411100665/28-05-2023
سوال نمبر 2:
ساجد ایک وقت میں دو کام کررہا تھا، جب وہ یہ دل میں اقرار کر رہا تھا کہ ساجد تیری طلاق ہوگئی ہے، اسی وقت اس نے
زبان سے کہا: یاسر نے طلاق دے دی ہے ،ساجد کو وہم تھا کہ اس کی طلاق ہوگئی ہے، کیا دیانتۃ اور قضاءساجد کی بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟ جبکہ ساجد کو وہم تھا اس نے زبان سے جو الفاظ بولے وہ یاسر کے لیے تھے۔ لیکن اسی وقت وہم کے اثر کی وجہ سے اس نے دل میں طلاق کا اقرار بھی کیا؟
جواب
مذکورہ صورت میں ساجد کی بیوی کو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
کیا یہ فتوی درست ہے اگر اس میں کوئی غلطی ہے تو بتائیں؟
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/dil-mee-talaq-k-iqrar-ka-hukum-144411101995/11-06-2023
سوال 3:
تنہائی میں کوئی شخص بیوی بھی موجودنہیں صرف وہ اکیلا ہے، ''طلاق ''کہا تو تو کیا طلاق ہوجائے گی؟ اگر تنہا ئی میں طلاق دینی ہوتو کیا الفاظ کہنے سے طلاق ہو جائے گی؟
جواب: اگر اس نے تنہائی میں لفظ طلاق اپنی بیوی کی نیت سے کہا ہو تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
https://darulifta-deoband.com/home/ur/talaq-divorce/1810
سوال نمبر4:
امجدکولگاکہ اس کی بیوی کوطلاق ہوگئی ،تواس نےزبان سےکہاکہ :ایک ہوگئی،اس کی بیوی نےسنا،وہ سمجھی کہ امجدکوایک دن کی چھٹی ملی ہے،توکیااس صورت میں طلاق ہوجائےگی؟
جواب : مذکورہ صورت میں چونکہ امجدکےمنہ سےصرف یہ جملہ"ایک ہوگئی" نکلاہے،اوراس میں طلاق کانہ صراحۃً
اورنہ کنایۃً تذکرہ ہے؛لہذااس سےامجدکی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/aek-hogay-se-talaq-ka-hukum-144411101996/11-06-2023
(سوال )کیا مذکورہ بالا فتوی درست ہے کیا اس اس بارے میں آپ کا اختلاف ہے اگر ہے تو بتائیں؟
سوال نمبر5:
اگر میاں بیوی کا جھگڑا ہو جائے، اور بیوی بولے:’’ مجھے طلاق دے دو‘‘، اور شوہر بولے:’’ٹھیک ہے‘‘ اور یہ اس لیے
بولے؛ تاکہ بات اور آگے نہ بڑھے، تو کیا طلاق ہو جائے گی؟جواب:۔ صورتِ مسئولہ میں جب بیوی نے شوہر سے یہ کہا کہ ’’مجھے طلاق دے دو‘‘، اور شوہر نے کہا کہ:’’ ٹھیک ہے‘‘، تو ان الفاظ سےاگر شوہر کی نیت طلاق کی نہ تھی ،بلکہ یہ نیت تھی کہ ٹھیک ہے ،طلاق دے دوں گا،توایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے،اور اگر ان الفاظ سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی کہ ٹھیک ہے ،طلاق دے دی ،تو اگر عورت مدخولہ ہے ،یعنی نکاح کے بعد رخصتی یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہےتو ان الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ،جس میں دورانِ عدت رجوع کی گنجائش ہے،رجوع کرنے کی صورت میں نکاح بحال رہے گا،اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہےتو پھر ایک طلاق بائنہ ہوکر نکا ح ٹوٹ جائے گا،اس صورت میں گھر بسانے کے لیے نکاح کی تجدید ضروری ہے،بہرحال رجوع یا تجدید نکاح ،دونوں صورتوں میں شوہر آئندہ کے لیے دو طلاق کا مالک رہے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوالات میں سے کسی بھی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی،البتہ آپ کو چاہیے کہ اس طرح کے وساوس اور خیالات سے بچنے کے لیے اپنا نفسیاتی علاج کسی اچھے ڈاکٹر سے ضرور کروائیں تاکہ اس قسم کے خیالات سےچھٹکارا مل سکے،اللہ تعالی آپ کو صحت عطا فرمائے۔
جہاں تک بات ان فتاوی کی تصدیق کی ہے جو آپ نے بھیجے ہیں تو ان میں سے شروع کے چار بالکل درست ہیں ، البتہ پانچویں سوال میں دارالافتاء جامعۃ الرشید کے کا مؤقف یہ ہے کہ اگر طلاق کی نیت سے بھی ''ٹھیک ہے'''کہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
فتح القدیر(4/4):
ولا بد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناه أو بالنسبة إلى الغائبة كما يفيده. فروع: هو أنه لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي طلاقا لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال: ثم وقف وكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه.
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 230):
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية... وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته، فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه.
البحر الرائق(3/359):
ولوقال لغيره وكلتك في جميع أموري فطلق الوكيل امرأته اختلفوافيه،والصحيح أنه لايقع،وفي فتاوى الفقيه أبي جعفرلوقال وكلتك في جميع أموري وأقمتك مقام نفسي لم تكن الوكالةعامة، وإن كان أمر الرجل مختلفا ليس له صناعة معروفة فالوكالة باطلة، وإن كان الموكل تاجرا ينصرف التوكيل إلى التجارة.
قال رحمه الله: ولو قال وكلتك في جميع أموري التي يجوز بها التوكيل كانت الوكالة عامة في جميع البياعات، والأنكحة وكل شيء وعن محمد لو قال هو وكيلي في كل شيء جائز صنعه كان وكيلا في البياعات، والهبات، والإجارات وعن أبي حنيفة أنه يكون وكيلا في المعاوضات دون الهبات، والعتاق وقال مولانا وهذا كله إذا لم يكن في حال مذاكرة الطلاق فإن كان في حال مذاكرة الطلاق يكون وكيلا بالطلاق كذا في الخانية.
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 230):
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية... وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته، فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 219):
"لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف ."
صحيح مسلم (1/ 81):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الّله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به.
فتح القدیر(4/4):
ولا بد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناه أو بالنسبة إلى الغائبة كما يفيده.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق(8 / 245):
وفي البزازية قالت له أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قالت طلقني فقال نعم لا، وإن نوى.
الأشباه والنظائر - حنفي – (1 / 178):
القاعدة الحادية عشرة : السؤال معاد في الجواب۔۔۔۔
و فيها من كتاب الطلاق : قالت له : أنا طالق لا فقال : نعم تطلق ولو قالت : طلقني فقال : نعم لا وإن نوى.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر ( 2 / 400):
( 5 ) قوله : قالت له أنا طالق فقال : نعم إلخ .
الفرق بين المسألتين أن معنى "نعم" بعد قولها :أنا طالق "نعم أنت طالق "ومعناها بعد قولها: طلقني "نعم أطلقك "فيكون وعدا بالطلاق، لأنها لتقرير ما قبلها.
سوال
حوالہ نمبر: 83734
سوال:مسئلہ یہ ہےکہ ایک توانہوں نےخلع لیا تھا،جس کےبعد احتیاطا تجدید نکاح ہوا،دوسرایہ ہےکہ وہ لڑکی مجھ سےبہت بدتمیزی کرتی ہے،ہرچیز کی ناشکری کرتی ہے،کسی حال میں خوش نہیں،یہاں تک کہ الگ گھر بھی کرکےدےدیاپھربھی روزروزکےلڑائی جھگڑے،بدتمیزیاں اوررشتہ داروں سےقطع تعلقی،ایک دفعہ ہنگامہ کیاتوگھرمیں پڑوس کےلوگ جمع ہوئے،جن کےسامنےبھی طلاق مانگی گئی ،تقربیا کم وبیش وہ مجھ سے10 سے15 مرتبہ طلاق مانگ چکی ہے،اس کےبدلےمیں اگرمیں نےکہا کہ "ہاں ٹھیک ہے"یا"صحیح ہے جاؤ"ایسےکنائی الفاظ سے طلاق ہوگی یانہیں ؟
مجھےبالکل یادنہیں کہ کیا کہا ،لیکن یہ یاد پڑتاہےکہ غصےمیں اس کےمطالبہ پرشاید میں نےایسا کچھ کہاہوتواس میں کیاحکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کی طرف سےطلاق کےمطالبہ کےبعدشوہر کے"ہاں ٹھیک ہے"کہنےسےطلاق واقع نہ ہوگی ،اگرچہ طلاق کی نیت ہو۔
البتہ اگرشوہرنےجواب میں کہا "صحیح ہےجاؤ"تواس صورت میں شوہرسےمعلوم کیاجائے،اگرطلاق کی نیت ہوتوایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ورنہ نہیں ۔
صورت مسئولہ میں شوہرپرلازم ہوگاکہ امانت ودیانت کا خیال رکھتےہوئےاچھی طرح سوچ کر بتائےکہ لفظ کہا کیاتھا،اوراس وقت نیت کیاتھی ،جوبھی نیت ہوگی ،اسی کےمطابق فیصلہ ہوگا۔
حوالہ جات
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق"8 / 245:
وفي البزازية قالت له أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قالت طلقني فقال نعم لا، وإن نوى۔
"الأشباه والنظائر - حنفي –" 1 / 178:
القاعدة الحادية عشرة : السؤال معاد في الجواب۔۔۔۔
و فيها من كتاب الطلاق : قالت له : أنا طالق لا فقال : نعم تطلق ولو قالت : طلقني فقال : نعم لا وإن نوى
"غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر " 2 / 400:
( 5 ) قوله : قالت له أنا طالق فقال : نعم إلخ .
الفرق بين المسألتين أن معنى نعم بعد قولها أنا طالق نعم أنت طالق ومعناها بعد قولها طلقني نعم أطلقك فيكون وعدا بالطلاق لأنها لتقرير ما قبلها ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
26/شوال 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 230):
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية... وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته، فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 219):
"لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف ."
صحيح مسلم (1/ 81):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الّله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به.
فتح القدیر(4/4):
ولا بد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناه أو بالنسبة إلى الغائبة كما يفيده. فروع: هو أنه لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي طلاقا لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال: ثم وقف وكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق(8 / 245):
وفي البزازية قالت له أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قالت طلقني فقال نعم لا، وإن نوى۔
"الأشباه والنظائر - حنفي – (1 / 178):
القاعدة الحادية عشرة : السؤال معاد في الجواب۔۔۔۔
و فيها من كتاب الطلاق : قالت له : أنا طالق لا فقال : نعم تطلق ولو قالت : طلقني فقال : نعم لا وإن نوى
"غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر ( 2 / 400):
( 5 ) قوله : قالت له أنا طالق فقال : نعم إلخ .
الفرق بين المسألتين أن معنى نعم بعد قولها أنا طالق نعم أنت طالق ومعناها بعد قولها طلقني نعم أطلقك فيكون وعدا بالطلاق لأنها لتقرير ما قبلها .
البحر الرائق(3/359):
ولو قال لغيره وكلتك في جميع أموري فطلق الوكيل امرأته اختلفوا فيه، والصحيح أنه لا يقع، وفي فتاوى الفقيه أبي جعفر لو قال وكلتك في جميع أموري وأقمتك مقام نفسي لم تكن الوكالة عامة، وإن كان أمر الرجل مختلفا ليس له صناعة معروفة فالوكالة باطلة، وإن كان الموكل تاجرا ينصرف التوكيل إلى التجارة.
قال رحمه الله: ولو قال وكلتك في جميع أموري التي يجوز بها التوكيل كانت الوكالة عامة في جميع البياعات، والأنكحة وكل شيء وعن محمد لو قال هو وكيلي في كل شيء جائز صنعه كان وكيلا في البياعات، والهبات، والإجارات وعن أبي حنيفة أنه يكون وكيلا في المعاوضات دون الهبات، والعتاق وقال مولانا وهذا كله إذا لم يكن في حال مذاكرة الطلاق فإن كان في حال مذاكرة الطلاق يكون وكيلا بالطلاق كذا في الخانية.
الفتاوى الهندية(8/157):
ولو قال: امراته الحبشية طالق ولا نية له في طلاق امراته، وامراته وليست بحبشية لا يقع عليها.وعلى هذا اذا سمى بغير اسمها ولانيةله في طلاق امراته، فإن نوى طلاق امراته في هذه الوجوه طلقت امراته، كذا في الذخيرة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/279):
ولو قال امراته الحبشية طالق وامراته ليست بحبشية لا يقع. وفي المحيط: الأصل أنه متى وجدت النسبةوغير اسمها بغيره لا يقع لأن التعريف لا يحصل بالتسمية متى بدل اسمها،لأن بذلك الاسم تكون امرأة أجنبية ولو بدل اسمها وأشار إليها يقع.
محمد وجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
13/ربيع الثاني /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


