| 90317 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرانام ضیاء الرحمن اورمیرے دوسرے ساتھی کا نام فرحان ہے ،میرے اوران کے درمیان ایک کاروباری معاملے ویب ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اختلاف پیدا ہوگیا ہے ،ذیل میں ہم دونوں کا موقف الگ الگ دیاگیا ہے ،اس کے مطابق ہمیں شرعی فتوی چاہیے ۔
فریق اول ضیاءالرحمن کا موقف
وضاحتِ معاملہ برائے معاہدہ و پروجیکٹ
میں اس معاملے کی وضاحت مختصر مگر واضح انداز میں پیش کر رہا ہوں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے:
معاہدے کی نوعیت:
ابتداء میں جو بات طے ہوئی تھی وہ ایک سادہ پروجیکٹ بیس معاہدہ تھا، جس کے تحت آپ نے میرے لیے پروجیکٹ تیار کرنا تھا اور اس کے بدلے میں آپ کو آمدنی کا 20% بطور سروس چارج دیا جانا تھا۔ اس معاہدے میں کہیں بھی “پارٹنرشپ” کا لفظ یا مفہوم شامل نہیں تھا۔
کام شروع کرنے کی اجازت:
جب آپ نے کام شروع کرنے کی اجازت طلب کی تو میری مراد یہ تھی کہ آپ میرے موجودہ سسٹم (ڈومین، ہوسٹنگ، اور ویب سائٹ) کے اندر رہتے ہوئے کام کریں تاکہ ہم اس کی فعالیت اور ممکنہ خامیوں کو جانچ سکیں۔ اس اجازت کا مقصد صرف تکنیکی اور عملی جانچ تھا، نہ کہ ملکیت یا مکمل کنٹرول کی منتقلی۔
ڈومین اور ہوسٹنگ کا معاملہ:
مجھے اس بات کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی کہ ڈومین یا ہوسٹنگ تبدیل کی جا رہی ہے یا پورا سسٹم کسی اور کے کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام میری اجازت کے بغیر کیا گیا، جس کی بنیاد پر بعد میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
انتظامی اجازت کی حدود:
میں نے صرف محدود انتظامی اجازت دی تھی تاکہ آپ سسٹم کو بہتر طریقے سے چیک اور چلا سکیں، خصوصاً اس وقت جب
میں ذاتی مصروفیات (گاؤں میں ہونے کی وجہ سے) کی بنا پر خود مکمل توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ اس اجازت کو مکمل اختیار یا ملکیت میں تبدیل کرنا مقصود نہیں تھا۔
وسائل کی ملکیت:
استعمال ہونے والا لیپ ٹاپ ضیا ءالرحمان یعنی میرا تھا، جومیں نے عارضی طور پر فراہم کیا تھا، جبکہ ڈومین اور ہوسٹنگ کے اخراجات بھی میری جانب سے ادا کیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بنیادی وسائل اور ملکیت کا تعلق بھی ہماری جانب ہی بنتا ہے۔
پروجیکٹ کی اصل حیثیت:
یہ ایک واضح طور پر میرا پروجیکٹ تھا، جس کا مکمل آئیڈیا ضیاء رحمان یعنی میری طرف سے آیا، اور آپ کو اس میں بطور سروس پرووائڈر شامل کیا گیا تھا۔ یہ شمولیت اس شرط کے ساتھ تھی کہ پروجیکٹ کی تکمیل اور آمدنی کی صورت میں آپ کو 20% بطور معاوضہ دیا جائے گا۔
مستقبل کی شرائط:
یہ 20% حصہ بطور سروس چارج تھا، جس میں آئندہ کی دیکھ بھال (maintenance) بھی شامل تھی، نہ کہ کسی مستقل شراکت داری یا ملکیتی حق کی بنیاد پر۔
آخر میں، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ معاملہ واضح ہو جائے اور ہر فریق اپنی اصل ذمہ داری اور حدود کو سمجھے تاکہ کسی قسم کا تنازع مزید نہ بڑھے۔
سابقہ وضاحت کے تسلسل میں، میں مزید چند اہم نکات نہایت واضح اور منظم انداز میں پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ معاملہ مکمل طور پر واضح ہو سکے:
سورس کوڈ کے حوالے سے وضاحت:
ابتداء میں جب اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوا تو باہمی گفتگو میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ اس کا سورس کوڈ کسی تیسرے فریق (third party) کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات فرحان بھائی کی طرف سے بھی کہی گئی اور میں نے بھی اس سے اتفاق کیا۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اس وقت “ملکیت” کے حوالے سے بات “ہماری” کے طور پر کی گئی تھی، نہ کہ کسی ایک فرد کی انفرادی ملکیت کے طور پر۔ بعد میں جب اختلافات پیدا ہوئے تو سورس کوڈ کی مکمل ملکیت ایک فرد کے نام سے منسوب کرنے کی بات کی گئی، جو ابتدائی مفاہمت سے مختلف ہے۔
شراکت کی نوعیت کی وضاحت:
یہ درست ہے کہ عملی طور پر یہ ایک طرح "ورکنگ پارٹنرشپ" کی صورت اختیار کر گئی تھی، جہاں ایک جانب آئیڈیا، وسائل اور رہنمائی فراہم کی جا رہی تھی، جبکہ دوسری جانب تکنیکی کام اور ڈویلپمنٹ کی جا رہی تھی۔
تاہم، باقاعدہ قانونی یا واضح الفاظ میں “پارٹنرشپ” طے نہیں ہوئی تھی، بلکہ اصل بنیاد سروس اور کارکردگی کے بدلے معاوضہ (20%) ہی تھی۔
کام کی مدت اور معاونت:
یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً 8 ماہ تک فرحان بھائی نے بغیر کسی براہِ راست ادائیگی کے کام کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، میری جانب سے لیپ ٹاپ، رہنمائی، مشاورت، اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی رہیں تاکہ کام بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
علیحدہ اکیڈمی کا قیام:
بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ فرحان بھائی اسی اکیڈمی کا نام (zee-edu) سے تبدیل کرکے( صراط المستقیم) کے نام سے قائم کی گئی، جس کے بارے میں مجھے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس پر کوئی باہمی مشاورت ہوئی تھی۔ یہ عمل بھی غلط فہمیوں میں اضافے کا باعث بنا۔
اصل نیت اور موجودہ موقف:
میری نیت شروع سے یہی رہی ہے اور اب بھی ہے کہ فرحان بھائی میرے ساتھ مل کر کام کریں اور ہم اس پروجیکٹ کو باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
بدقسمتی سے ابتدائی ابہام اور غلط فہمیوں نے اس معاملے کو پیچیدہ بنا دیا، جس سے دونوں فریق متاثر ہوئے۔
درخواست برائے فیصلہ و صلح:
آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو شریعت کی روشنی میں منصفانہ انداز میں دیکھتے ہوئے ایسا فیصلہ فرمائیں جو حق پر مبنی ہو، اور ساتھ ہی ہمیں صلح اور باہمی اتفاق کی طرف بھی رہنمائی فراہم کریں تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔جزاکم اللہ خیراً۔ بیان ختم
میں اس معاملے کومزید واضح انداز میں بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔
سب سے پہلے یہ بات واضح ہے کہ اس ویب سائٹ کا آئیڈیا، سرمایہ، وسائل اور مکمل بنیاد میری طرف سے فراہم کی گئی تھی۔ آپ نے میری ہدایت، مشاورت اور سپورٹ کے ساتھ اس ویب سائٹ کو develop کیا، جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔
ابتداء میں ہماری جو بات طے ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ:
- آپ اس پروجیکٹ میں بطور developer کام کریں گے
- اور آپ کو بطور HOD ایک مخصوص ذمہ داری دی جائے گی
- اس کے بدلے آپ کو% 20 دیا جائے گا
یہ بات کبھی طے نہیں ہوئی تھی کہ:
- ویب سائٹ کی مکمل ownership آپ کی ہوگی
- یا اس کی مکمل آمدنی آپ کے پاس جائے گی
میرا واضح مؤقف یہ ہے کہ:
- اس سسٹم کی ownership مکمل طور پر میرے پاس ہوگی
- تمام آمدنی میرے کنٹرول میں ہوگی کیونکہ مجھے پوری ٹیم کو manage کرنا ہے اور سب کو تنخواہیں دینی ہیں
- آپ کو بطور HOD اور developer وہی compensation دیا جائے گا جو طے ہوا تھا (%20 یا agreed salary structure)
اس وقت جو بات سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ آپ:
1) سورس کوڈ کی مکمل ملکیت اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں
2) سسٹم کا مکمل کنٹرول لینا چاہتے ہیں
3) اور ساتھ ہی% 20 بھی لینا چاہتے ہیں
یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ دینا کسی بھی صورت میں نہ ہماری ابتدائی بات کا حصہ تھا اور نہ ہی ایک منصفانہ طریقہ ہے۔
لہٰذا میں واضح طور پر یہ بات رکھتا ہوں کہ:
- نہ سورس کوڈ کی ملکیت دی جا سکتی ہے
- نہ مکمل آمدنی اور کنٹرول دیا جا سکتا ہے
- البتہ آپ بطور HOD اور developer اسی agreed structure کے مطابق کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
اگر اس structure پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر ہمیں باہمی رضامندی سے اس معاملے کو ختم کرنے کا طریقہ طے کرنا ہوگا۔میری نیت صرف clarity اور انصاف ہے تاکہ دونوں طرف کوئی حق ضائع نہ ہو۔
جزاکم اللہ خیراً۔بیان ختم
دوسرے فریق فرحان کا موقف
آپ کی طرف سے اٹھائے گئے ضروری سوالات کے جواب میں میں مکمل وضاحت پیش کر رہا ہوں تاکہ معاملہ واضح اور منصفانہ انداز میں سمجھا جا سکے:
*1. معاہدے کی نوعیت (%20 کی پیشکش):*
ہمارے درمیان جب یہ بات طے ہوئی تھی تو واضح طور پر یہ کہا گیا تھا کہ:
ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی ماہانہ فیس میں سے تمام اخراجات نکالنے کے بعد جو خالص منافع ہوگا، اس میں سے *%20 میرا اور% 80 ضیاء صاحب کا ہوگا*۔
یہ کوئی “استحسانی” یا خوشی سے دینے والی رقم نہیں تھی بلکہ ایک واضح منافع کی تقسیم (profit-sharing model) تھا، جس کی بنیاد پر میں نے کام شروع کیا۔
*2. سورس کوڈ کی ملکیت کی شرط:*
میں نے ابتدا میں واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ:
* سورس کوڈ کی ملکیت ہمیشہ میرے پاس رہے گی
* میں یہ کوڈ کسی کو ٹرانسفر نہیں کروں گا، بشمول ضیاء صاحب کے
اس بات پر نہ صرف گفتگو ہوئی بلکہ اس کا ثبوت بھی موجود ہے:
* میرے بڑے بھائی *فیضان* اس بات کے گواہ ہیں
* مزید برآں، ضیاء صاحب نے خود وائس میسج میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ:
> "ہاں، یہ بات ہوئی تھی کہ سورس کوڈ ہمیشہ فرحان کے پاس رہے گا اور وہ کسی کو نہیں دے گا"
یہ وائس میسج بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔
*3. اجازت کی نوعیت (پروجیکٹ خود چلانے کی اجازت):*
جب میں نے بار بار تاخیر کے بعد ضیاء صاحب سے پوچھا کہ اگر وہ پروجیکٹ شروع نہیں کر سکتے تو کیا میں اسے خود شروع کر لوں، تو انہوں نے واضح طور پر اجازت دی کہ "آپ چلا لیں"۔
اس اجازت کے بعد میں نے:
* ایک نیا سیٹ اپ شروع کیا
* نیا ڈومین خریدا
* نئی برانڈنگ کی
اور اس نئے سیٹ اپ میں:
* نہ ضیاء صاحب کی کوئی سرمایہ کاری شامل تھی
* نہ ان کا نام
* نہ کوئی عملی شمولیت
یہ مکمل طور پر میری محنت، میرے وسائل اور میری ذمہ داری پر مبنی ایک نیا آغاز تھا۔
*اہم وضاحت (ملکیت کے دعوے کی اصل وجہ):*
یہ بات بطور خاص واضح کرنا ضروری ہے کہ ضیاء صاحب اس پروجیکٹ کو اپنی ملکیت اس بنیاد پر سمجھ رہے ہیں کہ:
* ابتدائی آئیڈیا (آن لائن پڑھانے والی ویب سائٹ) ان کی طرف سے آیا تھا
* اور ابتدائی طور پر مالی اخراجات کی ذمہ داری بھی انہوں نے لی تھی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
* یہ آئیڈیا ایک عمومی (general) نوعیت کا تھا جو دنیا بھر میں عام ہے
* جبکہ اس آئیڈیا کو ایک مکمل، پیچیدہ اور قابلِ استعمال LMS سسٹم میں تبدیل کرنا مکمل طور پر میری محنت، سوچ، تجربے اور مسلسل ڈیویلپمنٹ کا نتیجہ ہے
لہٰذا صرف ابتدائی آئیڈیا یا مالی نیت کی بنیاد پر مکمل ملکیت کا دعویٰ کرنا درست اور مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔
*4. لیپ ٹاپ اور اخراجات:*
* لیپ ٹاپ ضیاء صاحب کی ملکیت تھا
* مجھے صرف کام کے لیے بطور عاریت (Loan) دیا گیا تھا
* میں نے کام مکمل ہونے سے پہلے ہی اسی حالت میں واپس کر دیا
لہٰذا لیپ ٹاپ پر میری ملکیت کبھی نہیں رہی۔
جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے:
* ابتدائی طور پر ڈومین اور ہوسٹنگ کی ذمہ داری ضیاء صاحب کی تھی
* تاہم متعدد مواقع پر ان کی مالی مجبوری کی وجہ سے مجھے سسٹم میں تبدیلیاں کرنی پڑیں (جیسے Cloudinary اور manual payment وغیرہ)
*5. سورس کوڈ کی تیاری:*
یہ ویب سائٹ کسی اوپن سورس پلیٹ فارم (جیسے WordPress) پر مبنی نہیں ہے بلکہ:
* مکمل طور پر custom coding کے ذریعے تیار کی گئی ہے
* اس کا آرکیٹیکچر، لاجک، اور امپلیمینٹیشن مکمل طور پر میری اپنی محنت اور مہارت کا نتیجہ ہے
*6. کورسز سے متعلق معاہدہ (اہم نکتہ):*
ابتدائی گفتگو میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ:
* میں اپنے کورسز اس پلیٹ فارم پر لانچ کر سکتا ہوں اور ان کا مکمل منافع میرا ہوگا
* جبکہ ضیاء صاحب کے کورسز میں سے مجھے% 20 ملے گا
بعد میں ضیاء صاحب نے خود وائس میسج میں اس بات کا اقرار کیا کہ:
> "میں مانتا ہوں کہ میں نے آپ سے یہ بات کہی تھی، لیکن اب میں اپنی بات سے مکر رہا ہوں"
اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ:
> "آپ نے ویب سائٹ کا نام تبدیل کر دیا ہے، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ کسی اور کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہو"
یہ وائس میسج بھی بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔
*خلاصہ:*
مندرجہ بالا تمام نکات سے واضح ہوتا ہے کہ:
* معاہدہ باقاعدہ منافع کی تقسیم پر مبنی تھا
* سورس کوڈ کی ملکیت شروع سے میرے پاس رکھنے کی شرط موجود تھی اور اس کا اقرار بھی کیا گیا
* پروجیکٹ کو خود چلانے کی اجازت کے بعد نیا سیٹ اپ مکمل طور پر میری بنیاد پر قائم کیا گیا
* ضیاء صاحب کا ملکیت کا دعویٰ بنیادی طور پر ابتدائی آئیڈیا اور مالی نیت پر مبنی ہے، نہ کہ مکمل تیار شدہ سسٹم پر
* متعدد اہم شرائط بعد میں یکطرفہ طور پر تبدیل یا مسترد کی گئیں
میں امید کرتا ہوں کہ ان وضاحتوں کی روشنی میں معاملہ حقیقت کے قریب ہو کر سمجھا جا سکے گا اور ایک منصفانہ شرعی فیصلہ ممکن ہو سکے گا۔
آپ کے اس سوال کے جواب میں کہ میں صلح چاہتا ہوں یا باقاعدہ فیصلہ، میں اپنی بات واضح کرنا چاہتا ہوں:
میری اولین ترجیح ہمیشہ صلح، باہمی رضامندی اور خوش اسلوبی سے معاملہ حل کرنا ہے، تاکہ نہ تعلقات مزید خراب ہوں اور نہ ہی غیر ضروری تنازع پیدا ہو۔
تاہم یہ صلح اسی صورت میں ممکن ہے جب ضیاء صاحب ان بنیادی باتوں کو تسلیم کریں جن پر ابتدا میں اتفاق ہوا تھا اور جن کا ثبوت بھی موجود ہے۔
اگر ضیاء صاحب اپنے موجودہ مؤقف پر ہی قائم رہتے ہیں اور ان حقائق کو تسلیم نہیں کرتے، تو پھر میرے لیے یہ مناسب ہوگا کہ اس معاملے کا باقاعدہ اور منصفانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ ہر فریق کو اس کا حق مل سکے۔ بیان ختم
گزارش
ان بیانات کو سامنے رکھ کرشرعی حکم واضح فرمائیں۔وأجرکم علی اللہ ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ معاملہ شرعی اعتبار سے شرکت نہیں بلکہ اجارہ فاسدہ کے حکم میں آتا ہے ، کیونکہ اس میں اجرت ابتدا ہی سے متعین نہیں کی گئی بلکہ آمدنی کے فیصد (بیس فیصد) پر موقوف رکھی گئی، اور عمل سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی کو اجرت بنانا فقہاء کے نزدیک "قفيز الطحان" کی صورت ہے جو نا جائز ہے ۔ لہٰذا ضیاء الرحمن پر لازم ہے کہ وہ ویب سائٹ بنانے کے عوض فرحان کو فیصد کے بجائے اجرت مثل ادا کرے ، یعنی مارکیٹ میں رائج الوقت کے مطابق مناسب معاوضہ ۔ جہاں تک سورس کوڈ کی ملکیت کے تنازع کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ہمارے ہاں کے عرف میں اختلاف پایا جاتا ہے، کلائنٹ ادائیگی کے بعد خود کو مالک سمجھتا ہے جبکہ پرو گرامر صرف قابل استعمال سافٹ ویئر دینے کا اپنے آپ کو پابند سمجھتا ہے ، اسی وجہ سے اس نوعیت کے تنازعات پیدا ہوتے ہیں، اور موجودہ صورت میں بھی یہی اختلاف سامنے آیا ہے، بالعموم کوڈ ڈیویلپر کا سمجھا جاتا ہے اور کلائنٹ کو صرف استعمال کا حق دیا جاتا ہے اور پاکستانی قوانین کا بھی یہی تقاضہ ہے (1[1]) نیز قرائن ایک گواہ ، ضیاء الرحمن کا وائس میسج سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، لہذا سورس کوڈ فرحان کی ملکیت ہوگا ۔ اور ضیاء الرحمن کو اجرت مثل کے بدلے صرف چلتا ہوا سافٹ ویئر (Live Website) لینے کا حق حاصل ہوگا ۔ فرحان نے جو علیحدہ پراجیکٹ ضیاء الرحمن کی اجازت سے بنایا ہے اگر وہ واقعہ اس نے اپنی ذاتی محنت او محنت اور سرمایہ سے بنایا ہے ، تو وہ مکمل طور پر فرحان کی ملکیت ہے ، اس پر ضیاء الرحمن کا دعوی شرعاً درست نہیں ہے ۔ لیپ ٹاپ چونکہ بطور عاریت (استعمال کے لیے ادھار ) دیا گیا تھا، اس لیے وہ بدستور ضیاء الرحمن کی ملکیت رہے گا اور وہ ضیاء الرحمن کو فرحان کی طرف سے مل چکا ہے ۔ ضیاء الرحمن والے کورسز کی آمدنی سے متعلق اختلافات چونکہ کورسز شروع ہونے سے پہلے ہی پیدا ہو چکے ہیں، نیز اصل اجارہ بھی فاسد ہو کر اجرت مثل کی طرف معاملہ جاچکا ہے، لہذا یہ معاہدہ ختم کر دیا جائے گا، اور اب ہر فریق اپنی الگ حیثیت سے کام کرنے کا مجاز ہو گا، اور اس ضمن میں ایک کی دوسرے پر کسی قسم کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ۔
مخلصانه مشوره چونکہ یہ تنازع کسی بدنیتی کے بجائے آپس کے معاملات کو مہم رکھنے اور قرآنی حکم کہ " جب کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ، اس لیے دونوں فریقوں کو چاہیے کہ اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے باہمی صلح اور در گزر کا راستہ اختیار کریں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے : (وَالصَّلْحُ خَيْرٌ) (اور صلح بہتر ہے)، لہٰذا بہتر صورت یہ ہے کہ طرفین پچک دکھائیں، ضیاء الرحمن فرحان کی محنت اور وقت کا لحاظ کرتے ہوئے خوش دلی سے مناسب اجرت مثل ادا کرے، اور فرحان بھی نرمی اور لچک کا مظاہرہ کرے اور سورس کوڈ اپنے پاس رکھنے کے ساتھ ساتھ ضیاء الرحمن کو بھی اس کی ایک کاپی دے، اور دونوں باہم خوش اسلوبی سے علیحدگی اختیار کریں ۔ اور پھر ہر ایک اپنے ڈومین اور ہوسٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اس ویب سائٹ سے استفادہ کرے، اس طرح کرنے سے ضیاء الرحمن کو چلانے کے لیے پوری ویب سائٹ (سورس کوڈ کی کاپی کے ذریعے مل جائے گی اور اس کا نقصان نہیں ہو گا اور وہ اپنا کام جاری رکھ سکے ، جبکہ فرحان کے پاس بھی موجد ہونے کی حیثیت سے کوڈ کا حق ملکیت محفوظ رہے گا۔ اس طرح دونوں فریقین اجرت اور محنت کے منصفانہ تبادلے کے بعد اپنا اپنا فائدہ اٹھا سکیں گے۔۔ اور اگر آئندہ ساتھ کام کرنا مقصود ہو تو نیا معاہدہ کریں اور اجرت سمیت ہر معاملہ بالکل واضح تحریری شرائط کے ساتھ طے کریں تا کہ آئندہ کسی قسم کی غلط فہمی اور نزاع سے بچا جا سکے ۔
[1] "1) ملاحظہ ہو: کاپی رائٹ آرڈیننس 1962، دفعہ 2 (p) اور دفعہ 13۔ [2] کاپی رائٹ آرڈیننس 1962 کی دفعہ 14"
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (60/2)( ومن استأجر دابة ليحمل عليها طعاما بقفيز منه فهو فاسد ) لأنه جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله فصار كقفيز الطحان، وقد نهى النبي - صلى الله عليه وسلم - عن قفيز الطحان»، وهو أن يستأجر ثورا أو رحى ليطحن له حنطة بقفيز منها ۔ وينبني على هذا مسائل كثيرة تعرف بالتأمل : منها إذا دفعه إلى حائك غز لا لينسجه بالنصف، والمعنى فيه أن المستأجر عجز عن الأجرة وهو بعض المنسوج والمطحون، لأن ذلك إنما يحصل بفعل الأجر فلا يكون قادرا بقدرة غيره ۔
الاختيار لتعليل المختار (57/2) اعلم أن الإجارة تفسد بالشروط كما يفسد البيع، وكل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة من جهالة المعقود عليه أو الأجرة أو المدة لما عرف أن الجهالة مفضية إلى المنازعة ۔ والأصل قوله - عليه الصلاة والسلام -: «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» شرط أن تكون الأجرة معلومة كما شرطه في البيع ... ( وإذا فسدت الإجارة يجب أجر المثل لأن التسمية إنما تجب بالعقود الصحيحة. أما الفاسدة فتجب فيها قيمة المعقود عليه كما في البيع . وقال - عليه الصلاة والسلام - في النکاح بغير مهر : فإن دخل بها فلها مهر مثلها لا وکس ولا شطط » فدل على وجوب القيمة في العقد الفاسد ۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (5077/7) قرار مجمع الفقه الإسلامي المنظمة المؤتمر الإسلامي القرار رقم (5) د 5/09/88 بشأن الحقوق المعنوية إن مجلس مجمع الفقه الإسلامي المنعقد في دورة مؤتمره الخامس بالكويت من 1 إلى 6 جمادى الأولى 10 1409 إلى 15 كانون الأول (ديسمبر) 1988م ۔ بعد اطلاعه على البحوث المقدمة من الأعضاء والخبراء في موضوع (الحقوق المعنوية ) واستماعه للمناقشات التي دارت حوله ۔ قرر أولا: الاسم التجاري، والعنوان التجاري، والعلامة التجارية، والتأليف والاختراع أو الابتكار هي حقوق خاصة لأصحابها، أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها ۔ وهذه الحقوق يعتد بها شرعاً فلا يجوز الاعتداء عليها ۔ ثانيا: يجوز التصرف في الاسم التجاري أو العنوان التجاري أو العلامة التجارية ونقل أي منها بعوض مالي إذا انتفى الغرر والتدليس والغش باعتبار أن ذلك أصبح حقاً مالياً ۔ ثالثاً: حقوق التأليف والاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً، ولأصحابها حق التصرف فيها، ولا يجوز الاعتداء عليها . والله أعلم ...
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (547/4) ( كل ما كان في الدار من البناء المعنى كل ما هو متناول اسم المبيع عر فا يدخل بلا ذکر وفي الشامية (قوله: يعني كل ما هو متناول اسم المبيع) أشار به إلى أن البناء في كلام المصنف مثال لا قيد و كذا الدارط
القرآن الكريم، وَالصَّلْحُ خَيْر سورة النساء، الآية 128 سنن أبي داودت الأرنؤوط (446/5) عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " الصلح جائز بين المسلمين - زاد أحمد - إلا صلحا أحَلَّ حراما أو حَرَّمَ حَلالاً" ۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


