03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دفاتر، مساجد اور مدارس میں ذاتی موبائل چارج کرنے کا حکم
92819جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

         کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱)دفاتر، مساجد، مدارس اور فیکٹریوں میں اپنے موبائل فون چارج کر سکتے ہیں ؟ اور اب تک جتنے موبائل فون چارج کیے گئے ہیں، ان کے  چارجز اداروں کو واپس کرنا چاہیے یا نہیں?            

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  عام طور پر مسجد کی بجلی کے اخراجات عام چندے سے پورے کیے جاتے ہیں، اور تمام چندہ دینے والوں کی طرف سے موبائل چارج کرنے کی اجازت معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے مسجد کی بجلی کو عبادات، مثلاً نماز، تلاوت کی ضروریات وغیرہ، نیز مسجد سے متعلق دیگر ضروریات، مثلاً امام، مؤذن ،معتکف اور خدام کی ضروریات وغیرہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔ البتہ عام نمازی کے لیے مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کرنا ناجائز ہے۔ اگر کسی شخص نے مسجد کی بجلی سے موبائل چارج کیا ہو تو اندازے کے مطابق اس پر آنے والے اخراجات مسجد کے فنڈ میں جمع کر دیے جائیں۔

         مدرسے کی بجلی مدرسے میں پڑھنے، پڑھانے اور دیگر متعلقہ مصالح کے لیے ہے، لہٰذا اگر منتظمین جس کسی کو مدرسہ کی مصلحت کے تحت موبائل چارج کرنے کی اجازت دیتے ہوں تو موبائل چارج کرنا جائز ہے۔اسی طرح دفاتر، فیکٹریوں اور دیگر اداروں میں بھی اگر مالکان یا ان کے نمائندہ منتظمین موبائل چارج کرنے کی اجازت دیتے ہوں یا عرفا اجازت سمجھی جاتی ہو  تو موبائل چارج کرنا جائز ہے۔               

حوالہ جات

الفتاوی الهندية : الوقف،الباب الحادي عشر، ۶/۴۵۹

 ولو وقف على دهن السراج للمسجد لایجوز  وضعه جميع الليل بل لقدر حاجة المصلين ويجوز إلى ثلث الليل أو نصفه إذا احتيج إليه للصلاة فيه - ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل إلا في موضع جرت العادة فيه بذلك  أوشرط الواقف تركه فيه كل الليل كما جرت به العادة في ز ماننا ،كذا في البحر الرائق۔                                 

حاشیہ ابن عابدین: کتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج4،ص366،، ط: سعید

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔أنهم صرحوا بأن مراعاة ‌غرض ‌الواقفين واجبة.

  شرح المجله :۱/۶۱ بيروت ۔المادة:         ۹۶

لا يجوز لأحد أن یتصرف في ملك غيره بلاإذنه أو وكالة منه أو ولاية عليہ وان فعل كان ضامنا     ۔

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

۲۴/ربیع الاخر /۱۴۴۸ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب