| 92142 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
ہمارے ایک دوست کے گھر میں کچھ جھگڑے و فساد چل رہے تھے۔ انہوں نے اس ماحول میں یہ قسم کھائی کہ میری بیوی (کا نام لے کر بولا) اگر تنواہ (جگہ کا نام ہے) گئی تو اس پر طلاق ہے۔
تقریباً ایک ڈیڑھ سال تک، یا اس سے بھی زیادہ مدت، بیوی اس علاقے میں نہیں گئی۔ البتہ گزشتہ دن اس کی بیوی کی پھوپھی فوت ہوئی تو اس وقت انہوں نے ایک مولوی صاحب سے فتویٰ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ طلاق زمان و مکان سے متعلق نہیں ہوتی، اور آپ نے یہ قسم اس وقت حالات سے مغلوب ہو کر کھائی تھی۔ اس وجہ سے ان حالات کے پیش نظر آپ کے ذہن اور دماغ میں اس وقت یہی تھا کہ جن گھروں سے آپ کا فساد چل رہا ہے، انہی گھروں میں جانے سے روکنا مقصود ہے۔ لہٰذا پورے علاقے میں جانے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ جن گھروں سے آپ کا پھڈا چل رہا ہے، ان گھروں میں آپ کی بیوی نہیں جا سکتی، ان گھروں میں جانے سے طلاق واقع ہوجائے گی۔
1۔ مذکورہ بالا مسئلے کا کیا حکم ہے؟ اب اس کی بیوی اس علاقے میں چلی گئی ہے۔ آیا اس پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
2۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ قسم تو صریح الفاظ سے کھائی ہے، اس میں تو کسی قسم کی نیت کا اعتبار بھی نہیں، اور ان مفتی صاحب نے یہ کہا کہ آپ کی نیت میں اس وقت یہ تھا کہ مذکورہ بالا جن گھروں سے جھگڑا ہے، ان گھروں سے روکتا ہوں، تو کیا اس قسم کی نیتوں کا اعتبار ہوتا ہے؟
3۔ ان مفتی صاحب نے پہلے یہ کہا کہ طلاق زمان و مکان سے متعلق نہیں ہوسکتی، تو پھر انہوں نے خود یہ چار گھروں (مکان) سے متعلق کردی۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اپنی بیوی کے "تنواہ" (علاقے کا نام) جانے پر طلاق معلق (مشروط) کی تھی۔ لہٰذا جب بیوی اس علاقے کی حدود (آبادی) میں داخل ہوئی تو شرط پوری ہو گئی اور اس پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی۔
طلاقِ رجعی کے بعد اگر ابھی تک عدت مکمل نہیں ہوئی، یعنی عورت حاملہ نہ ہو تو تین ماہواریاں مکمل نہ ہوئیں ہوں، اور اگر حاملہ ہو تو ابھی تک بچے کی پیدائش نہ ہوئی ہو، تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے،رجوع کرنے کے بعد سابقہ نکاح برقرار ہے گا اور عورت بدستور اسی شوہر کے نکاح میں سمجھی جائے گی ۔
رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر زبان سے کہہ دے: "میں نے رجوع کر لیا۔" یا کچھ کہے بغیر بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرے تو اس سے بھی رجوع ہو جاتا ہے۔ البتہ زبان سے رجوع کرنا اور اس پر گواہ بنا لینا مستحب (بہتر)ہے۔
اگر عدت گزر جائے تو رجوع کا حق ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ رجوع یا نئے نکاح دونوں صورتوں میں شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
2۔ یہ بات کہ طلاق مکان یا زمان سے معلق نہیں ہو سکتی، شرعا درست نہیں؛کیونکہ طلاق کو کسی خاص جگہ جانے یا وقت کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے۔ اور صورت مسئولہ میں بھی شوہر نے"تنواہ" جیسے متعین علاقے میں جانےپر طلاق معلق کی ہے۔
البتہ شوہر نے "تنواہ" یعنی پورے علاقے کا نام لے کر اس کے ساتھ الفاظ میں کوئی قید ذکر نہیں کی تو بعد میں اس کا یہ کہنا کہ میری نیت صرف ان چند گھروں کی تھی جن سے میرا جھگڑا تھا، قابلِ قبول نہیں؛ کیونکہ أیمان اور طلاق میں شرعی حکم ظاہری الفاظ کی بنیاد پر لگایا جاتاہے،اس میں باطنی نیتوں کا اعتبار نہیں ہوتا ۔
3۔ مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ "طلاق زمان اور مکان سے متعلق نہیں ہوتی" فقہی طور پر ایک غلط فہمی اور قاعدے کی غلط
تشریح پر مبنی ہے۔ طلاق کو کسی بھی مکان (جگہ) یا زمان (وقت) پر معلق (مشروط) کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ شرط پائےجانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
مفتی صاحب کو جس قاعدے سے غلط فہمی ہوئی ہے،وہ غالباً یہ ہے: "الطلاق لا يتخصص بمكان دون مكان"(طلاق ایک جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہوتی)۔ اس قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق دیتے وقت یہ کہے کہ "تجھے اس گھر میں طلاق ہے"، تو وہ عورت صرف اس گھر میں مطلقہ نہیں ہوتی ،بلکہ وہ کائنات کے ہر حصے میں مطلقہ ہی رہتی ہے، یعنی طلاق کا اثر(طلاق کا واقع ہو جانا) جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہوتا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی جگہ جانےکو بھی شرط نہیں بنایا جا سکتا۔
حوالہ جات
(الفتاوى الهندية:1/488)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق.
(المحيط البرهاني لبرھان الدین ابن مازہ: 3/ 480):
قال لامرأته: إن ذهبت إلى قرية كذا فأنت طالق ...ومرت بضياع تلك القرية ولم تدخل عمران تلك القرية لا تطلق؛ لأن القرية اسم للعمران وهو الدور والبيوت خاصةً.
(الجوهرة النيرة: 2 /39)
(وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) هذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت فإذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاق ھ .
)الدر المختار مع رد المحتار: (401/3)
وندب اعلامھا بھا۔۔۔وندب الاشھاد بعدلین (قولہ ولو بعد الرجعة بالفعل۔۔۔ فالسنی ان یراجعھا بالقول ویشھد علی رجعتھا ویعلمھا .
(البناية شرح الهداية: 5/24)
ولو قال: أنت طالق إذا دخلت مكة لم تطلق حتى تدخل مكة لأنه علقه بالدخول... ولو قال في دخولك الدار يتعلق بالفعل.
(فتح باب العناية: 2/113):
(وفي دخولك مكة) كما إذا دخلت مكة... (تعليق) فلا تطلق حتى يوجد ذلك الفعل.
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 228):
«ولو قال أنت طالق بمكة أو في مكة فهي طالق في الحال في كل البلاد وكذلك لو قال أنت طالق في الدار " لأن الطلاق لا يتخصص بمكان دون مكان وإن عنى به إذا أتيت مكة يصدق ديانة لا قضاء لأنه نوى الإضمار وهو خلاف الظاهر وكذا إذا قال أنت طالق وأنت مريضة وإن نوى إن مرضت لم يدين في القضاء.
" ولو قال أنت طالق إذا دخلت مكة لم تطلق حتى تدخل مكة " لأنه علقه بالدخول ولو قال أنت طالق في دخولك الدار يتعلق بالفعل»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


