| 91029 | جائز و ناجائزامور کا بیان | غیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان |
سوال
اگر کسی شخص نے کوئی گھر مارکیٹ ریٹ پر خریدا ہو، لیکن رجسٹری کے وقت رجسٹری فیس اور ٹیکس کم ادا کرنے کے لیے اصل قیمت خریدکے بجائے سرکاری ریٹ درج کروائے، تو کیا رجسٹری میں اصل قیمت چھپا کر کم قیمت لکھوانا اور اس بنیاد پر کم ٹیکس و فیس ادا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت میں صریح جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،کیوں کہ جھوٹ بالکلیہ حرام ہے البتہ بعض حالات میں فقہا ء نےتوریہ کرنے کی گنجائش دی ہے۔اصطلاحی معنی کے لحاظ سے ایسی بات کو توریہ کہا جاتا ہے جس میں کہنے والا ایک ایسی بات کرتا ہےجس سے سننے والا کچھ سمجھے لیکن بات کرنے والا اس سے کوئی اور ممکنہ معنی مراد لیتا ہو، توریہ اپنے جائز حق کی وصولی یا کسی ظلم سے بچنے کیلئے کیا جا سکتا ہے ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے پاس دو اختیار ہیں : ایک تو یہ کہ حکومت کے ساتھ باہمی گفت و شنید سےایسا راستہ اختیار کیا جائے جو آپ اور حکومت دونوں کے لیے مناسب ہو ،لیکن اگر اُس کی کوئی صورت نہیں بنتی اور یہ ٹیکس ظالمانہ ہے(جو کہ آج کل ہیں) تو آپ کو توریہ کے طور پر اصل قیمت خرید کم بتانے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (5/ 339):
رجل قال لآخر: كم أكلت من تمري؟ فقال: "خمسة" وهو قد أكل العشرة لا يكون كاذباً، وكذا لو قال: بكم اشتريت هذا الثوب ؟ فقال: "بخمسة" وهو قد اشترى بعشرة لا يكون كاذباً كذا في الخلاصة.
الأشباه والنظائر (ص: 149):
القاعدة الخامسة : تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة. وقد صرحوا به في مواضع.
حاشية ابن عابدين (2/ 336):
قوله ( دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى الخ ) النائبة ما ينوبه من جهة السلطان من حق أو باطل أو غيره كما في القنية عن البزدوي والمراد دفع ما كانت بغير حق ولذا عطف الظلم تفسيرا وفيها عن شمس الأئمة السرخسي توجه على جماعة جباية بغير حق فلبعضهم دفعها عن نفسه إذا لم يحمل حصته على الباقين وإلا فالأولى أن لا يدفعها عن نفسه ثم نقل صاحب القنية عن شيخه بديع أن فيه إشكالا لأن إعطاءه إعانة للظالم على ظلمه فإن أكثر النوائب في زماننا بطريق الظلم فمن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فذلك خير له اه ملخصاً. وعليه مشى ابن وهبان في منظومته وأجاب ابن الشحنة بأن الإشكال مدفوع بما فيه من أنواع الظلم على الضعيف العاجز بواسطة دفعه عن نفسه اه. قلت: فيه نظر؛ فإن ما حرم أخذه حرم إعطاءه كما في الأشباه أي إلا لضرورة فإذا كان الظالم لا بد من أخذه المال على كل حال لا يكون العاجز عن الدفع عن نفسه آثما بالإعطاء بخلاف القادر فإنه بإعطائه ما يحرم أخذه يكون معينا على الظلم باختياره تأمل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427):
"الكذب مباح لإحياء حقّه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض؛ لأنّ عين الكذب حرام، قال: وهو الحق قال تعالى: {قتل الخراصون} [الذاريات: 10] الكل من المجتبى وفي الوهبانية قال:
وللصلح جاز الكذب أو دفع ظالم ... وأهل الترضي والقتال ليظفروا.
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13 /محرم الحرام /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


