021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح میں لے پالک لڑکی کےباپ کی جگہ ماموں کانام ذکرکرنا
..نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

ماموں نےاپنی بھانجی کوبچپن سے گودلیاتھا،شناختی کارڈ،بےفارم وغیرہ جتنے کاغذات ہیں سب جگہ پرباب کی جگہ ماموں کانام ہے،پھراس لڑکی کی شادی ہوگئی،بعدمیں لڑکے والوں کو پتہ چلا کہ یہ توماموں ہیں ،اصل باپ کوئی اورہے تویہ کہہ رہے ہیں کہ یہ نکاح صحیح نہیں ہوا ہے۔یہ پوچھناہے کہ ماموں کانام باپ کی جگہ لکھنے سے صحت نکاح پرفرق پڑتاہے۔ o

o

نکاح کے صحیح ہونے کے لئے لڑکی کے نام وغیرہ کااتناذکرجس سے گواہوں کواس کی پہچان ہوجائے کافی ہے،لڑکی کے نام کے ساتھ باپ کے نام کاذکرلڑکی کی معرفت کے لئے کیاجاتاہے،جبکہ صورت مسؤولہ میں لڑکی کی معرفت ماموں کے نام کے ساتھ زیادہ ہوتی ہے،لہذاصورت مسوؤلہ میں باپ کی جگہ ماموں کے نام لینے سے نکاح کی صحت پرکوئی اثرنہیں ہوا،نکاح صحیح ہے،البتہ کسی کواس کے باپ کے علاوہ کسی سےمنسوب کرناجائزنہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 3 / ص 16): ”قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد، وهي واقعة الفتوى، لان المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود وإن لم يصرح باسمها، كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها: فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الاب والجد أيضا. “
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔