021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جائیدادپرکسی بھائی کاقبضہ کرلیناجائزنہیں، شریعت کے مطابق تقسیم ضروری ہے
57214میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال :کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں ہم آٹھ بہن بھائی ہیں،ہمارے والدصاحب کاانتقال ہوگیاہے،والدصاحب نے ترکہ میں ایک مکان اورکچھ نقدی تقریبا آٹھ لاکھ روپے چھوڑے ہیں،ہماری ایک بہن اورہم آٹھ بھائی ہیں،لیکن ہمارے دوبھائی پوری جائیدادپرقابض ہیں،وہ باقی بہن بھائیوں کاحصہ نہیں دے رہے،کہتے ہیں کہ والدصاحب نے یہ جائیداد ہمارے نام کی ہے ،اس میں تم لوگوں کاکوئی حصہ نہیں ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلے کاحل بتائیں،ہمارے ان دوبھائیوں کارویہ دین کے خلاف ہے یانہیں ؟

o

صورت مسئولہ میں اگروالد نےمکان اورنقدی ان دوبیٹوں کے نام کرنے کےبعدالگ الگ تقسیم کرکےان کے قبضہ میں بھی دیدیا تھا اوربھائیوں کے پاس اس کاشرعی ثبوت بھی موجودہےیابقیہ ورثہ ان دونوں کی تصدیق کردیں،تویہ جائیدادصرف ان دوبھائیوں کی ہوگی،باقی کسی کابھی اس میں حق نہ ہوگا،لیکن اگروالد نے جائیداد ان کے نام ہی نہیں کی یانام توکی ہے،لیکن ان کوالگ الگ تقسیم کرکے قبضہ میں نہیں دی توان دونوں صورتوں میں چونکہ والد کی طرف سے ہبہ مکمل نہیں ہوا،اس لئےجائیدادبطورمال وراثت تمام ورثہ کوملےگی،بھائیوں کاپوری جائیدادپرقبضہ کرناجائزنہیں ہوگا، اس میں تمام بہن بھائی شریک ہوں گے،اس طرح کہ مکمل جائیداد کی قیمت لگائی جائے گی اورہربھائی کوبہنوں کے حصے کادوگناملے گا۔ حقیت مال سے توآپ حضرات ہی واقف ہوسکتے ہیں،لیکن یاد رہے کہ کسی کاحق روکنایاکسی کی زمین پر ناجائزقبضہ کرناہرگزجائزنہیں،قرآن وحدیث مین اس پرسخت وعیدیں آئی ہیں،قرآن مجید میں ہے کہ"اے ایمان والوایک دوسرے کامال ناحق نہ کھایاکرو،مگریہ کہ ہوخریدوفروخت تمہاری آپس کی رضامندی سے"مسلم شریف کی ایک حدیث کے آخرمیں ہے کہ"ہرمسلمان پردوسرے مسلمان کاخون بہانا،مال اورعزت کونقصان پہنچانا حرام ہے"اسی طرح حدیث میں ہےکہ کسی نے ایک بالشت زمین بھی ناحق کسی سے لی توقیامت کے دن اس کو سات زمینوں کاطوق پہنایاجائے گا ،ایک اور حدیث میں ہے کہ کسی کامال اس کی رضامندی کے بغیرلیناجائزنہیں۔

حوالہ جات

" سورۃ النساء " الآية 29 : یاأیھاالذین آمنوالاتأکلواموالکم بینکم بالباطل الاأن تکون تجارۃ عن تراضی منکم ۔ "سورۃ البقرۃ الآية" 188 : {ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالأثم وأنتم تعلمون۔ "الجامع لأحكام القرآن للقرطبي "2 / 338: الثانیۃ:الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى اللّه عليه وسلم ، والمعنى : لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا : القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ، وما لا تطيب به نفس مالكه۔۔۔ الثالثة : من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل۔ "صحيح مسلم " 8 / 10: عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم ،كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه۔ "صحيح مسلم "ج 5 / 58: حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا يحيى بن زكرياء بن أبى زائدة عن هشام عن أبيه عن سعيد بن زيد قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔ " البيهقي فی شعب الایمان " 4 / 387: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل مال امرىء مسلم إلا بطيب نفس منه۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔