021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہندوستانی مسلمانوں کا یوم آزادی کی تقریب مسجد میں منانا
77713جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 ہمارے محلے میں مسجد کے اوپر مکتب چلتا ہے، وہاں اس طرح یوم آزادی منایا گیا‌( کہ مسجد کی چھت پر قائم مکتب میں بھارتی پرچم کی ایک تقریب میں پرچم کشائی کی گئی جس میں بھارت اور اس کے پرچم کی تعریفی کلمات پر مشتمل نظم پڑھی گئی اور اس دوران سب حاضرین کھڑے رہے اور پرچم کودیکھتے ہوئے اسےسیلوٹ کی صورت میں سلام کا اشارہ دیتے رہے۔) آیا یہ مسجد کی توہین تو نہیں ہے ؟

o

غیر عبادات (مباحات محضہ )مثلا مختلف جائز تقاریب کا  مسجد میں انعقاد بناء مسجد کے مقصداور تعظیم مسجد کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز و مکروہ ہے،یوم آزادی کی تقریب بھی چونکہ امور مباحہ میں سے ہے،لہذا مسجد میں ان کا انعقاددرست نہیں، مزید یہ کہ ایک بار انعقاد کے بعد آئندہ کے لیے عادت بننے کا قوی اندیشہ ہے جس کی قباحت واضح ہے۔(فتاوی رحیمہ:ج۹،ص۱۱۱)

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 624)
وعن مالك رضي الله عنه، قال: بنى عمر رحبة في ناحية المسجد تسمى البطيحاء، وقال: من كان - يريد أن يلغط، أو ينشد شعرا أو يرفع صوته ; فليخرج إلى هذه الرحبة، رواه في الموطأ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 662)
والكلام المباح؛ وقيده في الظهيرية بأن يجلس لأجله لكن في النهر الإطلاق أوجه
 (قوله بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا. وفي صلاة الجلابي: الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى، كذا في التمرتاشي هندية وقال البيري ما نصه: وفي المدارك - {ومن الناس من يشتري لهو الحديث} [لقمان: 6] المراد بالحديث الحديث المنكر كما جاء «الحديث في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل البهيمة الحشيش» ، انتهى. فقد أفاد أن المنع خاص بالمنكر من القول، أما المباح فلا. قال في المصفى: الجلوس في المسجد للحديث مأذون شرعا لأن أهل الصفة كانوا يلازمون المسجد وكانوا ينامون، ويتحدثون، ولهذا لا يحل لأحد منعه، كذا في الجامع البرهاني.
أقول: يؤخذ من هذا أن الأمر الممنوع منه إذا وجد بعد الدخول بقصد العبادة لا يتناوله اهـ (قوله الإطلاق أوجه) بحث مخالف للمنقول مع ما فيه من شدة الحرج ط
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 663)
وجعل المسجدين واحدا وعكسه لصلاة لا لدرس، أو ذكر
 (قوله لا لدرس أو ذكر) لأنه ما بني لذلك وإن جاز فيه، كذا في القنية

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۹صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔