021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعت کے مطابق میراث تقسیم کرنےکی اہمیت
53157.8میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے علاقے میں لوگ میراث کی تقسیم کے حوالے سے غفلت کرتے ہیں اکثر تو کرتے ہی نہیں اور اگر کوئی کرتا بھی ہےتو عورتوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا جاتا،بہنوں کو بہلا پھسلا کر اپنے حق میں بیان دلوا کر ان کا حصہ بھی لے لیا جاتاہے،حالانکہ بسا اوقات وہ خود بھی ضرورتمند ہوتی ہیں لیکن مروت میں آکر معاشرے میں باتوں اور طعنوں سے بچنے کے لیے مجبورا بھائیوں کے حق میں اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں۔آپ حضرات سے گزارش ہےکہ میراث کی تقسیم کی اہمیت اور خصوصا عورتوں کو محروم کرنےکے حوالے سے قرآن وسنت سے رہنمائی فرمائیں۔

o

شریعت کے مطابق تقسیم کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے،میت کے انتقال کےبعد،اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اور اس کی وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی وارثوں کا حق بن جاتا ہے ،لہذا اگر کوئی وارث اپنے حق سے زیادہ لیتا ہےیا کسی وارث کو محروم کر دیا جاتا ہےیا میراث کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سےہٹ کر تقسیم کر جاتا ہے تو یہ تمام کام گناہ ہیں اور قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کو جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 9] ترجمہ:"یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،اور جلد ہی انہیں دہکتی ہوئی آ گ میں داخل ہونا ہو گا۔" دوسری جگہ ارشاد فرمایا: { لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]"ترجمہ:آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ۔" تیسری جگہ ارشاد فرمایا: { وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا } [الفجر: 19]"ترجمہ :اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"اس کے بعد کی آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا کہ ان ناجائز کاموں سے باز آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں میراث کے ذیلی احکام میں وارثوں کےحصوں کو جس تفصیل سے واضح طور پر بیان کیا ہے اس تفصیل سے کسی اور حکم کے ذیلی احکام بیان نہیں فرمائے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کو انہی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: {لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7] "ترجمہ : مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،اورعورتوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے )مقرر ہے۔" یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ اگر فلاں وارث کو اتنا حصہ ملتا تو اچھا ہوتا،یا فلاں کوکم ملنا مناسب تھا،اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے،اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرمادیا ہے وہی مناسب ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن:ص۱۸۸)۔ لہذا بہنوںکو ان کے حق سے محروم کرنا یا معاشرتی دباؤ میں لاکر ان سے زبردستی حق لینا حرام ہے ،معاشرتی دباؤکی وجہ سے اگر عورتیں اپنا حق چھوڑ دیں تو بھی بھائیوں کے لئے اس کا استعمال ناجائزہی ہوگا کیونکہ دلی رضامندی کے بغیر کسی کا مال لینا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

واللہ تعالیٰ اعلم
..

n

مجیب

ارشد بنگش صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔