021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیشن کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

: آج کے دور میں انٹرنیٹ کے زریعے تجارت میں کافی آسانی ہورہی ہے، ایک ملک سے دوسرے ملک رابطہ کرنا، معاملات کرنا آسان ہے۔ ایک کمپنی اپنا سامان بیچنا چاہتی ہے اور دوسری طرف خریدنے والے بھی موجود ہیں، دونوں فریقین سے رابطہ کرکے معاملہ کروایا جاتا ہے، پھر اس پر کمیشن لیا جاتا ہے، کیا ایسے پیسے کمانا درست ہے؟

o

اگر ایجنٹ عقد کے دونوں فریقین کے درمیان خریدوفروخت کا جائزمعاملہ طے کرائے اور اپنی اجرت متعین کردےاور عاقدین کو کوئی دھوکہ نہ دے تو اس کے لیے کمیشن لینا جائز ہے۔ "

حوالہ جات

إذا باع الدلال مالاً لآخر بنفسه تجب أجرة الدلال على البائع لا على المشتري ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما." (مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان (ص: 85)المطبعۃ الكبری الامیریۃ) "وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف، وتمامه في شرح الوهبانية" (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 400)دارالكتب العلمیۃ) الدلال لو باع العين بنفسه بإذن مالكه ليس له أخذ الدلالة من المشتري إذ هو العاقد حقيقة وتجب الدلالة على البائع إذا قبل بأمر البائع ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع أو على المشتري أو عليهما بحسب العرف (مجمع الضمانات (ص: 54)ط دارالكتاب الاسلامی) "وقال (إن غره) أي غر المشتري البائع أو بالعكس أو غره الدلال فله الرد (وإلا لا) وبه أفتى صدر الإسلام وغيره" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)5/143ط:دارالفکر بیروت)
..

n

مجیب

محمد کامران

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔