021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندہ جانور تول کر فروخت کرنے کا حکم
56844خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں قصائی کا کام کرتا ہوں اور گاہکوں کو زندہ گائے تول کر بھی فروخت کرتا ہوں مثلاً ڈھائی من گائے فی کلو 250 روپے کے حساب سے فروخت کرتا ہوں، اس طرح میں ڈھائی من گائے کی قیمت 25 ہزار وصول کرتا ہوں۔ میرے لیے اس طرح سودا کرنا جائز ہے۔

o

زندہ جانور عددی متفاوت ہیں، موزونات میں سے اس کا ہونا ممکن نہیں کیونکہ موزون وہ چیز ہوتی ہے جس کی اکائیاں ایک جیسی ہوں جس کی وجہ سے ان کے اکائیوں کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوتا جیسا کہ آٹا اورچینی،جبکہ جانوروں کی اکائیاں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے اکائیوں کی قیمتوں میں فرق ہوتا ہے، لہذا جب جانور عددی متفاوت ہیں تو ان کی قیمت طے کرنے میں کسی بھی چیز کو ملحوظ رکھا جاسکتا ہے، اگر فریقین اس پر متفق ہوں کہ ہم اس کے وزن کے مطابق قیمت لگائیں گے تو فریقین کے اتفاق کے بعد اس میں حرج نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں ڈھائی من گائے فی کلو 250 روپے کے حساب سے 25 ہزار روپے کے عوض فروخت کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

"وبخلاف الثياب والعدديات المتفاوتة؛ لأن القدر فيها ملحق بالصفة، ألا ترى أنه لو قال: أسلمت إليك هذا الثوب على أنه عشرة أذرع فوجده المسلم إليه أحد عشر سلمت الزيادة له فثبت أن الزيادة فيها تجري مجرى الصفة،" (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 12/95ط:دار الکتب العلمیۃ) "ومن اشترى ثوبا على أنه عشرة أذرع بعشرة دراهم أو أرضا على أنها مائة ذراع بمائة درهم فوجدها أقل فالمشتري بالخيار، إن شاء أخذها بجملة الثمن، وإن شاء ترك"؛ لأن الذراع وصف في الثوب؛ ألا يرى أنه عبارة عن الطول والعرض، والوصف لا يقابله شيء من الثمن كأطراف الحيوان فلهذا يأخذه بكل الثمن (الهداية في شرح بداية المبتدي3/25 ط:دار احیاء التراث العربی) "معناه إذا كان المبيع من ذوات القيم كالحيوان والعدديات المتفاوتة ، فأما في ذوات الأمثال كالمكيلات والموزونات والعددياتالمتقاربة فيجب المثل لأنه مضمون بنفسه بالقبض فشابه الغصب" (العناية شرح الهداية9/194 ط:دار الفکر) "وإنما قلنا إن الحيوان ليس بموزون (لأنه لا يوزن عادة) فليس فيه أحد المقدرين الشرعيين الوزن أو الكيل، لأن الحيوان لا يعرف قدر ثقله بالوزن لأنه يثقل نفسه ويخففها فلا يدرى حاله، "(فتح القدير للكمال ابن الهمام7/27 ط:دار الفکر)
..

n

مجیب

محمد کامران

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔