021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں جنازہ کا اعلان کرنا جائز ہے
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

١۔محلہ میں کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے توائمہ کرام فرض نماز کے بعد مرنے والے کا نام پتہ بتاکر موت کا اعلان کرتے ہیں کہ فلان بن فلا ں ،فلاں گلی کا رہائشی انتقال کرگیا ہےاور ابھی ان کا جنازہ ہوگا ۔ اس طرح اعلان کی شرعی حیثیت کیا ہے مستحب ،مباح ،مکروہ یاحرام ہے ؟

o

محلہ میں کسی کا انتقال ہوجائے تو محلہ والے اور عزیز واقارب کو موت کی خبر دینا تاکہ عزیز واقارب جنازہ میں حاضر ہوکر میت کا حق اداکریں ،یہ جائز ہے بلکہ بعض فقہا ء نے اس کو مستحب قرار دیا ہے ،نماز کے بعد ائمہ کرام کا جنازہ کی نماز کا اعلان کرنا بھی جائز ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 239) (قوله وبالإعلام بموته) أي إعلام بعضهم بعضا ليقضوا حقه هداية. وكره بعضهم أن ينادى عليه في الأزقة والأسواق لأنه يشبه نعي الجاهلية والأصح أنه لا يكره إذا لم يكن معه تنويه بذكره وتفخيم، بل يقول: العبد الفقير إلى الله - تعالى - فلان ابن فلان الفلاني، فإن نعي الجاهلية ما كان فيه قصد الدوران مع الضجيج والنياحة، وهو المراد بدعوى الجاهلية في قوله - صلى الله عليه وسلم - «ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 213) "ولا بأس بإعلام الناس بموته" بل يستحب لتكثير المصلين عليه لما روى الشيخان أن صلى الله عليه وسلم نعى لأصحابه النجاشي في اليوم الذي مات فيه وأنه نعى جعفر بن أبي طالب وزيد بن حارثة وعبد الله بن رواحة. وقال في النهاية إن كان عالما أو زاهدا أو ممن يتبرك به فقد استحسن بعض المتأخرين النداء في الأسواق لجنازته وهو الأصح اهـ. وكثير من المشايخ لم يرو بأسا بأن يؤذن بالجنازة ليؤدي أقاربه وأصدقاؤه حقه لكن لا على جهة التفخيم والإفراط في المدح "
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔