021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جعلی سرٹیفکٹ پر نوکری کا حکم
56993جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے ایک دوست نے نوکری کے لیے کسی محکمےمیں جعلی سرٹیفکٹ جمع کیے تھےاور اسے اس محکمے میں نوکری بھی مل گئی ہےاور لوگ میرے دوست کو بول رہے ہیں کہ آپ نے اس محکمے سے دھوکا کیا ہے ،اس لیے جو پیسے ملیں گے وہ حرام ہیں،آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ میرے دوست کا اس محکمے میں کام کرنا درست ہے یا نہیں؟

o

آپ کے دوست کانوکری کے لیے جعلی سرٹیفکیٹ جمع کرواناچونکہ جھوٹ اور دھوکاہے ،اس لیے اس کواس کا گناہ ہوگا،اس سے توبہ واستغفاراور آئندہ اجتناب لازم ہے،البتہ اگر وہ اس نوکری کا اہل ہےاور اپنی ذمہ داری دیانتداری سے پوری کرتاہے تو تنخواہ حلال ہوگی،ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن نجيم رحمه الله تعالى:وأما ركنها فهو الإيجاب والقبول والارتباط بينهما، وأما شرط جوازها فثلاثة أشياء: أجر معلوم، وعين معلوم، وبدل معلوم، ومحاسنها دفع الحاجة بقليل المنفعة، وأما حكمها فوقوع الملك في البدلين ساعة فساعة. )البحر الرائق:8/ 3) عن ابى هريرةرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا. (صحيح مسلم :1/ 72) عن أبى هريرةرضي الله عنه، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " آية المنافق ثلاث : إذا حدث كذب وإذا وعد اخلف وإذا ائتمن خان " . هذا حديث حسن. (سنن الترمذي :4/ 130)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔