021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کی طرف سے قربانی کاحکم
60418/56قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے نانا محترم کا انتقال گذشتہ دنوںہوا ہے،مجھے ان سے بہت محبت تھی،اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان کی طرف سے بھی ایک قربانی کروں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اپنے نانا مرحوم کی طرف سے قربانی کرسکتا ہوں؟یعنی ان کو اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

o

یہ آپ کی طرف سے نفل قربانی ہوگی،جس کاثواب آپ اپنے نانا یاکسی بھی میت کو بھجوا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326) قال في البدائع لأن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته» وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح اهـ لأن له - صلى الله عليه وسلم - ولاية عليهم أتقاني. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 72) (وجه) الاستحسان أن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته - وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح - فدل أن الميت يجوز أن يتقرب عنه فإذا ذبح عنه صار نصيبه للقربة فلا يمنع جواز ذبح الباقين.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔