021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رہائش کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر تجارت کی نیت کرنے سے زکوٰۃکا حکم
60522زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ہم نے بلوچ کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک پلاٹ 600 گز کا خریدا تھا،خریدتے وقت نیت کی تھی اپنی رہائش کے لیے گھر بنائیں گے، اب ارادہ بدل گیا ہے،ارادہ یہ بنا ہے کہ اچھے ریٹ ملے تو بیچ دیں گے،ایسی صورت میں مذکورہ پلاٹ میں نیت اور ارادہ بدل جانے کی وجہ سے زکوٰۃ کی ترتیب کیا ہوگی؟یعنی اب تجارت کی نیت کرلی ہے ؟براہ کرم واضح فرمادیں۔

o

رہائشی ضرورت کے لیے خریدے گئے پلاٹ کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ خریدنے کے بعد بیچنے کی نیت کر لی جائے،کیونکہ شرعاً زکوٰۃ صرف ایسے پلاٹ کی مالیت پر ہوتی ہے جس کو خریدتے وقت آگے بیچنے کا ارادہ ہو۔ مذکورہ صورت میں چونکہ آپ نے خریدنے کے بعد آگے بیچنے کی نیت کی ہے،اس لیے اس پلاٹ کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی،البتہ جب آپ اس کو بیچ دیں گے تو جو رقم حاصل ہوگی اس کو بقیہ اموال تجارت کے ساتھ ملا کر جس دن آپ دیگر اموال کی زکوٰۃ ادا کریں گے تو ساتھ اس کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 272) (لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها. الأشباه والنظائر - حنفي - (1 / 67) وعن محمد فيمن اشترى خادما للخدمة وهو ينوي إن أصاب ربحا باعه لا زكاة عليه۔۔۔۔ فتاوى قاضيخان - (1 / 123) اشترى خادماً للخدمة وهو ينوي أن لو أصاب ربحاً فحال عليه الحول لا زكاة فيه… البناية شرح الهداية (3/ 309) ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها؛ فيكون في ثمنها زكاة؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔