021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کاگھرمیں ننگےسررہنا
..جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

مفتی صاحب میری بیوی عالمہ کورس کرچکی ہےاوردن میں ایک دوگھنٹےبچوں کوپڑھاتی ہے،لیکن کئی بارمیں نےدیکھاہےکہ گھرمیں اس کےسرپردوپٹہ نہیں ہوتااورکبھی کبھارتواس کےوالدین اوربھائی بھی گھرمیں ہوتےہیں۔میں نےبہت دفعہ سمجھایااوراس کی وجہ سےلڑائی بھی ہوئی،لیکن وہ کہتی ہےکہ گھرمیں اس طرح رہناکوئی بری بات نہیں،اگرکوئی اجنبی ہوتو اس سےپردہ کرنالازم ہے۔کیاگھر میں دوپٹہ پہننا ضروری نہیں؟

o

اگرگھرمیں کسی اجنبی یانامحرم کےآنےکاخدشہ ہوتوسرپردوپٹہ رکھناچاہیے،لیکن اگرگھرمیں ایسےکام کرنے پڑیں جن میں دوپٹےکےساتھ کچھ مشکلات یادقت ہوتی ہےتوایسی صورت میں اگرکبھی دوپٹہ سرپرنہ بھی ہوتوحرج نہیں،لیکن اس کومستقل عادت بنالینادرست نہیں ہے۔گھرمیں عالمہ کابغیرکسی عذریامعقول وجہ کےسرپرمستقل دوپٹہ نہ رکھناخصوصاًشوہرکےکہنےکےباوجودانتہائی نامناسب بات ہے۔اس عادت کی اصلاح کی کوشش کی جائے ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ شمس الأئمۃالسرخسی رحمہ اللہ:فأما نظره إلى ذوات محارمه ،فنقول: يباح له أن ينظر إلى موضع الزينة الظاهرة والباطنة؛ لقوله تعالى: {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن} [النور: 31]. ولم يرد به عين الزينة ،فإنها تباع في الأسواق، ويراها الأجانب ،ولكن المراد منه موضع الزينة، وهي الرأس والشعر والعنق والصدر والعضد والساعد والكف والساق والرجل والوجه ... ولكن إنما يباح المس والنظر إذا كان يأمن الشهوة على نفسه وعليها ،فأما إذا كان يخاف الشهوة على نفسه أو عليها، فلا يحل له ذلك ؛لما بينا أن النظر عن شهوة والمس عن شهوة نوع زنا ،وحرمة الزنا بذوات المحارم أغلظ ،وكما لا يحل له أن يعرض نفسه للحرام، لا يحل له أن يعرضها للحرام ،فإذا كان يخاف عليها، فليجتنب ذلك. (المبسوط للسرخسي :10/ 149)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔