021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بھائی،دوبہنیں اوروالدہ کے درمیان میراث کی تقسیم
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرےابوبہت بیمارتھےاورکئی مہینےہسپتال میں ایڈمٹ رہے،اوراس بیماری میں اس کاکچھ عرصہ پہلےانتقال ہوا۔میرےابوکواللہ تعالی نےبہت نوازاتھا۔میرےابوکی گاؤں میں زمینیں ہیں اوریہ زمینیں بہت قیمتی اور مہنگی ہیں اورکراچی میں بھی ایک گھرہےجس میں ہم رہتےہیں۔اب ہم یہ جائیداداسلامی طریقےپرتقسیم کرناچاہتےہیں ۔ جوابِ تنقیح:ہم تین بھائی اوردوبہنیں ہیں۔والدہ بھی زندہ ہے۔دادا اوردادی ابو سے پہلےفوت ہوچکےہیں۔

o

صورت مسئولہ میں مرحوم نےانتقال کےوقت اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال اورجائیداد، جیسےمکان، پلاٹ، نقدروپے،کپڑے غرض ہرقسم کا چھوٹابڑا سامان چھوڑاتھا،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سےپہلےمرحوم کےکفن دفن کے اخراجات نکالےجائیں گے۔پھراگرمرحوم پر کسی کاقرض ہو، وہ اداکیا جائے گا۔نیزمرحوم نےاگرکوئی وصیت کی ہوتوبچےہوئے مال میں سےایک تہائی (3/1) تک اسے پوراکیا جائےگا۔اس کےبعدباقی مال ورثہ میں درج ذیل طریقے کےمطابق تقسیم کیا جائےگا: مرحوم کی بیوی کو12.5% ،ہر بیٹےکو21.87% اور ہر بیٹی کو10.94%, ملےگا ۔ ميـ ـ□8تصح64ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ100ـــ زوجہ 3بیٹے 2بیٹیاں □(1/8) 42 7/56 14 ہرفردکاحصہ 14 7 فیصدی حصہ 12.5% 21.87% 10.94%

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:( يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني بتجهيزه ) يعم التكفين ( من غير تقتير ولا تبذير ثم ) تقدم ( ديونه التي لها مطالب من جهة العباد ) ،ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه ،وإلا فسيان كما بسطه السيد . ( وأما دين الله تعالى ،فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي ،وإلا لا، ثم ) تقدم ( وصيته ) ،ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار، ( من ثلث ما بقي ) بعد تجهيزه وديونه. وإنما قدمت في الآية اهتماما؛لكونها مظنة التفريط ( ثم ) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي ) بعد ذلك ( بين ورثته ) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة. (رد المحتار :10/ 528 دارالمعرفۃ) قال العلامۃ أبوالبرکات النسفی رحمہ اللہ :يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته .....وللزّوجة الربع،ومع الولد أو ولد الابن وإن سفل الثمن .وللبنت النّصف، وللأكثر الثّلثان ،وعصبها الابن ،وله مِثلا حظّها. (كنز الدقائق :ص 696) .
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔