021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضرِ صحت اشیاء کی فروخت کا حکم
61111 جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

سگریٹ، گٹکا وغیرہ ایسی اشیاء جو صحت کے لیے مضر ہوں ان کو بیچنا کیسا ہے؟

o

سگریٹ اور اس جیسی دیگر وہ مضرِ صحت اشیاء جو فی نفسہ مباح ہیں اور قانوناً منع نہیں ہیں، ان کی خرید وفروخت اگرچہ جائز ہے، لیکن اس سے بچنا بہتر ہے۔ البتہ جو چیزیں قانوناً ممنوع ہیں ان کی خرید وفروخت جائز نہیں، ایسی صورت میں قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار (6/ 454): ( وصح بيع غير الخمر ) مما مر ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون، قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب "لا يجوز"، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل. حاشية ابن عابدين (6/ 454): قوله ( وصح بيع غير الخمر ) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان لكن الفتوى على قوله في البيع وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها . ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية…. قوله ( مما مر ) أي من الأشربة السبعة ، قوله ( ومفاده الخ ) أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك؛ لأنهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة فصحة بيعها يفيد صحة بيعها فافهم قوله ( عدم الحل ) أي لقيام المعصية بعينها ، وذكر ابن الشحنة أنه يؤدب بائعها وسيأتي.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔