03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی یک طرفہ خلع کے بعد مہر وصول کرنے کا شرعی اثر
90808طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

مسماۃ ............دختر ................. احمد ندیم مرحوم کی شادی 2019ء میں .......بن  .............. احمد سے ہوئی تھی۔ تاہم، کچھ عرصے بعد گھریلو تنازعات شروع ہو گئے جس پر مذکورہ خاتون اپنے میکے چلی گئیں۔ برادری اور معززینِ علاقہ کے سمجھانے پر مذکورہ خاتون واپس سسرال چلی گئیں، تاہم دوبارہ تنازعات شروع ہو گئے۔ جس پر وہ دوبارہ میکے چلی گئیں اور اختلافات بڑھتے گئے۔ اسی اثنا میں فریقِ ثانی نے 2021ء میں دوسری شادی کر لی۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر فریقِ اول نے عدالت میں مورخہ 28/7/22ء کو تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا۔ عدالت نے متعدد بار فریقِ ثانی کو بذریعہ نوٹس طلب کیا۔ فریقِ ثانی کو عدالتی نوٹس ملنے کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے وکلا سے مشورے بھی کیے، تاہم کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا۔ فریقِ ثانی نہ صرف طلبی کا نوٹس وصول کرنے سے انکاری رہے بلکہ عدالت میں پیش بھی نہ ہوئے۔ عدالت نے فریقِ ثانی کے مسلسل حاضر نہ ہونے پر یکطرفہ طور پر مورخہ 26/9/22ء کو تنسیخِ نکاح کی ڈگری بصورتِ خلع جاری کر دی۔ عدالتی فیصلے کے بعد فریقِ ثانی نے فریقِ اول سے حق مہر میں دیے گئے طلائی زیورات و دیگر متفرق سامان طلب کر کے وصول کر لیا۔ فریقِ اول نے یونین کونسل آفس میں عدالتی ڈگری برائے اندراج و اجراے طلاق نامہ مورخہ 17/8/24ء کو جمع کرائی۔ یونین کونسل آفس سے بھی فریقِ ثانی کو متعدد مرتبہ طلب کیا گیا مگر یہاں بھی فریقِ ثانی حاضر نہیں ہوئے۔ جس پر یونین کونسل آفس نے بھی فریقِ ثانی کی غیر حاضری میں طلاق کا سرٹیفکیٹ مورخہ 03/6/25ء کو جاری کر دیا۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ صورتِ مذکورہ میں عدالتی فیصلے اور یونین کونسل کے سرٹیفکیٹ کے اجرا کے بعد مسماۃ شمائلہ ارم کو شرعاً طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ اور مذکورہ خاتون دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 خلع دیگر معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے۔ یکطرفہ عدالتی خلع میں شوہر کی رضامندی شامل نہیں ہوتی، اس لیے وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر بتائی گئی معلومات واقعے کے مطابق ہیں کہ عدالت کی طرف سے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے بعد شوہر نے مہر کا مطالبہ کر کے اسے وصول کیا، تو یہ اس کے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے اور رضامندی کی  علامت ہے۔ لہذا جس دن اس نے مہر کی وصولی کے لیے درخواست دی ہے،اس دن سے خلع معتبر  سمجھی جائے گی اور اسی تاریخ کے مطابق وہ عدت گزارنے کے بعد کسی  دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

 سورۃ البقرۃ رقم الأیۃ: (223)

  "ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله  فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون "

   فتح القدیر:(4/211)

 (وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم ''الخلع تطليقة بائنة'' .

ردالمحتار علی الدر المختار:(3/449)

 قال الزيلعي: ولا بد من قبولها لأنه عقد معاوضة، أو تعليق بشرط، فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول ولا ينزل المعلق بدون الشرط إذ ‌لا ‌ولاية ‌لأحدهما ‌في ‌إلزام ‌صاحبه ‌بدون رضاه، والطلاق بائن لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة.

الدرالمختار مع ردالمحتار: (3/441)

(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.

 بدائع الصنائع :(3/145)

  وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض  بدون القبول.                                                       

 احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   5 /1/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب