021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر فطری طور پر منی خارج کرنا کبیرہ گناہ ہے
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

محترم جناب مفتی صاحب میری شادی کو 4سال ہوئے ہیں میرے شوہر میرے پاس کبھی نہیں آئے ہیں ،پہلے تو میں کچھ اور سمجھی تھی کہ شاید یہ نامرد ہے ، لیکن جیسے وقت گذرتا گیا تو میں نے دیکھا کہ جب بھی ان کو ضرورت محسوس ہوتی ہے ، میرے ہونے کے باوجود وہ اکیلے زمین پر اوندھے منہ لیٹ کر زمین کاسہارا لیکر زمین کی گرمی سے فارغ ہوتے ہیں توکیا یہ گناہ ہے ؟ اگر ہے تو کس درجے کا ہے ؟ شوہر کے اس حرکت کی وجہ سے میں گناہگار ہونگی یا نہیں ؟

o

جنسی خواہش پوری کرنے کیلئے شریعت نے دوجائز راستے رکھیں ہیں ایک منکوحہ بیوی ،دوسرا شرعی باندی ،ان دوراستوں کے علاوہ کسی غیر فطری طریقہ سے شہوت رانی کرنا بڑا گناہ ،خصوصا منکوحہ کے ہوتے ہوئے سوال میں مذکور غیر شرعی طریقہ سے شہوت پوری کرنا انتہائی قبیح حرکت ہے ،قرآن وحدیث نے ایسے شخص کو ظالم اور فاسق قرار دیا ہے ،

حوالہ جات

{ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (7)} [المؤمنون: 5 - 7] تفسير البغوي - إحياء التراث (3/ 360) فمن ابتغى وراء ذلك، أي: التمس وطلب سوى الأزواج والولائد المملوكة، فأولئك هم العادون، الظالمون المتجاوزون من الحلال والحرام، وفيه دليل على أن الاستمناء باليد حرام، وهو قول أكثر العلماء. قال ابن جريج: سألت عطاء عنه فقال: مكروه، سمعت أن قوما يحشرون وأيديهم حبالى فأظن أنهم هؤلاء. وعن سعيد بن جبير قال: عذب الله أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم. أحكام القرآن للشافعي (1/ 195) فكان بينا في ذكر حفظهم لفروجهم إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم تحريم ما سوى الأزواج وما ملكت الأيمان وبين أن الأزواج وملك اليمين من الآدميات دون البهائم ثم أكدها فقال فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون فلا يحل العمل بالذكر إلا في زوجة أو في ملك اليمين ولا يحل الاستمناء والله أعلم سوال کی تحریر کے مطابق بیوی شوہر کے اس گناہ میں شریک نہیں ہیں یعنی شوہرکے اس غلط حرکت کاگناہ بیوی کونہ ہوگا ۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔