021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عام گزرگاہوں سے پتھارے داروں کو ہٹانا
62042جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

محترم جناب مفتی صاحب، السلام علیکم جو پتھارے دار روڈ کے اوپر کھڑے ہوجاتے ہیں، پھر ان کی وجہ سے عام ٹریفک رک جاتی ہے اور لوگوں کو سخت پریشانی ہوتی ہے تو کیا ایسی صورت حال میں گورنمنٹ آفسران کے لیے ایکشن لے کر ان کے پتھاروں کو روڈ سے طاقت کے بل بوتے پر ہٹانا جائز ہے؟ اگر ہم یہ کام کریں گے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ذمہ داری پوری کریں تو عوام کہتی ہے کہ غریبوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ تو آپ شریعت کی روشنی میں ہمیں بتائیں اس صورت حال میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ والسلام۔ ضلعی انتظامیہ، ضلع شرقی کراچی

o

عام گزرگاہوں میں خلافِ قانون رکاوٹیں لگاکر تنگی پیدا کرنا اور لوگوں کو پریشان کرناجائز نہیں۔ لہذا تجاوزات ہٹانے کے ذمہ دار افسران کے لیے ضروری ہے کہ اولاً وہ حکمت وبصیرت کے ساتھ ان کو سمجھا ئیں تاکہ وہ خود رکاوٹیں ہٹادیں۔ اگر وہ نرمی سے نہیں مانتے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔ خلافِ قانون طاقت کا استعمال کرنا اور اسے رشوت خوری کا ذریعہ بنانا بالکل جائز نہیں۔

حوالہ جات

روی الإمام أحمد رحمہ اللہ: عن أبي ذر رضي اللہ عنہ قال: قلت یا رسول اللہ، أي العمل أفضل؟ قال: إیمان باللّٰہ تعالیٰ وجہاد في سبیلہ. قلت: یا رسول اللّٰہ، فأي الرقاب أفضل؟ قال: أنفسہا عند أھلہا وأغلاھا ثمناً. قلت: فإن لم أجد؟ قال: تعین صانعاً أو تصنع لأخرق. وقلت: فإن لم أستطع؟ قال: کذا کف أذاک عن الناس؛ فإنہا صدقۃ تصدقہا بہا عن نفسك. (المسند للإمام أحمد بن حنبل: ۵؍۱۵۰، دار الحدیث القاهرۃ) قال العلامة الحصكفي رحمہ اللہ تعالی: " (أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء. (ولكل أحد من أهل الخصومة) ولو ذميا (منعه) ابتداء (ومطالبته بنقضه) ورفعه (بعده) أي بعد البناء، سواء كان فيه ضرر أو لا. وقيل إنما ينقص بخصومته إذا لم يكن له مثل ذلك، وإلا كان تعنتا، زيلعي. (هذا) كله (إذا بنى لنفسه بغير إذن الإمام)." (الدر المختار مع رد المحتار: 6/593)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔