021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فریادی شخص کاصاحب حیثیت شخص کے گھر جانور ذبح کرنےیازندہ چھوڑنے کی رسم
..سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں دنبہ ذبح کرنے کی چند صورتیں رائج ہیں: 1- جب دو فریقوں کا تنازع ہوتا ہے تو کمزور فریق کسی طاقت ور آدمی سے تعاون کی درخواست کرتا ہے اور اس کے گھر کے سامنے دنبہ ذبح کرتا ہے۔ 2- مقروض شخص کسی مالدار سے مدد طلب کرتا ہے اور اس کے گھر کے پاس دنبہ ذبح کرتا ہے۔ 3- کبھی کبھی مظلوم شخص دنبے کو نواب کے گھر کے دروازے پر زندہ چھوڑ جاتا ہے،ذبح نہیں کرتا۔ کیا اس دنبے کا گوشت حلال ہے یا حرام؟نیز آخری صورت میں نواب کے لیے اس دنبے کو ذبح کرنا یا فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

o

اِن تمام صورتوں میں گھر کے پاس ذبح کرنا متعلقہ شخص کی تعظیم کے لیے ہوتا ہے،جس سے ذبیحہ حرام ہوجاتا ہے،لہذا اِس سے ہر صورت میں احتراز لازم ہے اور ذبح کیے بغیر دینے سے اگرچہ وہ حرام نہیں ہوتا،لیکن وہ محتاج مجبوری میں دیتا ہے اور قرض کی صورت میں سود کا احتمال بھی ہے،لہذا اس کے لینے سے بھی اجتناب کریں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل به لغير الله،فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه،إن الله غفور رحيم. (آیت: 173) قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (ذبح لقدوم الأمير) ونحوه ،كواحد من العظماء (يحرم) ؛لأنه أهل به لغير الله (ولو) وصلية (ذكر اسم الله تعالى) (ولو) ذبح (للضيف) (لا) يحرم. والفارق أنه إن قدمها ؛ليأكل منها كان الذبح لله ،والمنفعة للضيف أو للوليمة أو للربح، وإن لم يقدمها ،ليأكل منها، بل يدفعها لغيره كان لتعظيم غير الله، فتحرم، وهل يكفر؟ قولان،بزازية وشرح وهبانية.قلت: وفي صيد المنية أنه يكره ولا يكفر؛لأنا لا نسيء الظن بالمسلم أنه يتقرب إلى الآدمي بهذا النحر. وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:(والفارق) أي بين ما أهل به لغير الله بسبب تعظيم المخلوق وبين غيره، وعلى هذا فالذبح عند وضع الجدار أو عروض مرض أو شفاء منه لا شك في حله ؛لأن القصد منه التصدق، حموي. (الدر المختار مع رد المحتار :6/ 309) وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وفي الأقضية قسم الهدية ،وجعل هذا من أقسامها، فقال: حلال من الجانبين،كالإهداء للتودد وحرام منهما، كالإهداء؛ ليعينه على الظلم، وحرام على الآخذ فقط، وهو أن يهدى ؛ليكف عنه الظلم …هذا إذا كان فيه شرط، أما إذا كان بلا شرط ،لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي؛ ليعينه عند السلطان، فمشايخنا على أنه لا بأس به.ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع،فأهدى إليه بعد ذلك ،فهو حلال، لا بأس به،وما نقل عن ابن مسعود من كراهته فورع. في الفتح: ويجب أن تكون هدية المستقرض للمقرض، كالهدية للقاضي إن كان المستقرض له عادة قبل استقراضه ،فللمقرض أن يقبل منه قدر ما كان يهديه بلا زيادة اهـ. قال في البحر: وهو سهو والمنقول كما قدمناه آخر الحوالة أنه يحل حيث لم يكن مشروطا مطلقا اهـ، وأجاب المقدسي بأن كلام المحقق في الفتح مبني على مقتضى الدليل. (الدر المختار مع رد المحتار :5/ 374،362)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔