021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے ترکہ کی رقم سے بیٹوں کی زمین پرتعمیر کیے گئے مکان کی تقسیم کیسے ہوگی؟
63455میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بندہ کے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے جن کے ورثہ میں دو بیٹے،پانچ بیٹیاں اور ایک بیوہ ہےاور ان کی جائیداد کی تفصیل درج ذیل ہے: والد صاحب کی ملک میں دو مکان تھے جن میں سے ایک والد صاحب ہی کے نام تھا اور دوسرا صرف ڈاکومنٹس کی حد تک والد صاحب نے والدہ کے نام کروایا تھا،بقیہ تمام اختیارات انہی کے پاس تھے۔ پہلا مکان جو والد صاحب کے نام تھا بارہ لاکھ میں فروخت ہوا جس سے والد صاحب نے اپنی خوشی سے ایک پلاٹ اپنے دونوں بیٹوں کے لیے خریدی اور ان کے نام کروا کر ان کے حوالے کردی،اس پلاٹ کی قیمت دس لاکھ چونتیس ہزار تھی،بقیہ رقم سے والد صاحب نے عمرہ ادا کیا۔ دوسرا مکان جو ڈاکومنٹس کی حد تک والدہ کے نام تھا 4350000 میں فروخت ہوا جس میں سے پچاس ہزار ایجنٹ کو فیس دی گئی اور 4300000 میں سے چار لاکھ والد کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی،جبکہ بقیہ 3900000 والدہ کے نام ایک اکاؤنٹ بنوا کر اس میں رکھے گئے،والدہ کے نام اکاؤنٹ بنوا کر اس لیے اس میں جمع کروائی گئی کہ بیچے گئے مکان کی بقیہ پیمنٹ آنے سے پہلے والد صاحب کا ایک حادثے میں اچانک انتقال ہوگیا،جس کے بعد گھر کی سربراہ والدہ ہی تھی۔ پھر والدہ کے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم نئے گھر کی تعمیر میں لگائی گئی جسے والد صاحب نے اپنی تمام اولاد کی رضامندی سے اس زمین پر تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تھا جو انہوں نے پہلا مکان بیچ کر دس لاکھ چونتیس ہزار میں دونوں بیٹوں کے لیے خریدی تھی۔ اب نئے مکان کی قیمت تقریبا ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے،برائے مہربانی یہ بتائیں کہ اولاد کا جائیداد میں جو شرعی حصہ ہے وہ موجودہ رقم کے حساب سے ہوگا یا پھر والد صاحب کی زندگی میں جو سابقہ قیمت تھی اس حساب سے بنے گا اور ادا کیا جائے گا؟ نوٹ: سائل سے فون پر تنقیح کے ذریعے معلوم ہوا کہ جس وقت والد نے ان دونوں بھائیوں کو پلاٹ لے کر دیا تھا اس وقت وہ دونوں صاحب نصاب نہ تھے،یعنی ان کی ملک میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر سونا،نقدی،مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان نہیں تھا۔

o

چونکہ دوسرا مکان آپ کے والد فقط ڈاکومنٹس کی حد تک والدہ کے نام کروایا تھا،بقیہ تمام مالکانہ اختیارات اپنے پاس رکھے تھے، اس لیے اس مکان کی قیمت سمیت آپ کے والد نے وفات کے وقت جو رقم،سونا،چاندی،جائیداد اور اس کے علاوہ چھوٹابڑا جوبھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے جسے شرعی حصوں کے مطابق ورثہ میں تقسیم کرنا ضروری ہے،جس میں سے 12.5%آپ کی والدہ کو،19.444%دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو اور 9.722ہرہر بیٹی کو ملے گا۔ البتہ نیا مکان جووالدکی طرف سے بیٹوں کودی گئی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے،جس کی قیمت اندازا ایک کروڑ لکھی گئی ہے،اس میں تعمیر کے علاوہ صرف پلاٹ کی قیمت والد کے ترکہ میں تقسیم نہیں ہوگی،بلکہ وہ دونوں بھائیوں میں آدھی آدھی تقسیم ہوگی،اس کے علاوہ اسے بیچ کر حاصل ہونے والی بقیہ رقم والد کے ترکہ میں شامل ہوگی اور دونوں بھائیوں سمیت بقیہ ورثہ میں تقسیم ہوگی۔ اس لیے اسے بیچتے وقت محتاط اندازے کے مطابق خالی پلاٹ کی قیمت بھی الگ سے لگوالی جائے کہ تعمیر کے بغیر اس پلاٹ کی موجودہ قیمت کتنی ہے،تاکہ بھائیوں کے حق اور والد کے ترکہ کی قیمت الگ الگ معلوم ہوجائے اور تقسیم میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 688): "(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح". "الفتاوى الهندية" (4/ 378): "ولو وهب من اثنين إن كانا فقيرين يجوز بالإجماع كالصدقة". "الدر المختار "(5/ 697): "(وهب اثنان دارا لواحد صح) لعدم الشيوع (وبقلبه) لكبيرين (لا) عنده للشيوع فيما يحتمل القسمة أما ما لا يحتمله كالبيت فيصح اتفاقا". قال ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله لكبيرين) أي غير فقيرين، وإلا كانت صدقة فتصح كما يأتي".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔