021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آڑھتی کاباغ والوں سےرقم کے بدلے متعین فیصدی کمیشن لیناسود ہے
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں: میں منڈی میں کاروبارکرتاہوں، کاروبار یہ ہے کہ باغ والے کونقد پیسے دیتا ہوں،باغ والا ان پیسوں سے اپنےباغ کےلیے مٹی،دوائی اوردیگرضروری چیزیں خرید تاہے،اوراپنےگھرکاخرچہ بھی چلاتاہے۔ جب باغ تیار ہوتاہےتوباغ والا پیٹیوں میں فروٹ میرے پاس بھیجتاہےاورمیں اس کومنڈی میں بیچتاہوں اوردس فیصد کمیشن لیتا ہوں،مطلب یہ ہےکہ 10000کامال فروخت ہوتواس میں 1000میراہوتاہے ، جب مال ختم ہوجاتاہے توجوپیسے میں نے پہلے دیےہوتےہیں وہ واپس مجھےمل جاتے ہیں۔یادرہے کہ باغ والے کو نقصان ہو یانفع جوپیسے میں نے اس کودیے ہیں وہ مجھے ملتےہیں،لیکن نقصان کی صورت میں پیسے لیٹ ملتےہیں۔ کیا میرےلیے یہ منافع جائز ہے؟

o

آپ جوپیسےباغ والےکودیتےہیں وہ قرضہ ہےاورقرضے کی بنیاد پرکوئی منفعت حاصل کرنا سود کےزمرےمیں آتاہے،عام طورپرعرف یہ ہے کہ آڑھتی باغ والوں کو مجبورکرتےہیں کہ وہ انہی کے ذریعےسےمال بکوائیں،لہذاایساکرناجائزنہیں۔متبادل صورت یہ ہےکہ آپ یہ رقم قرض کے بجائے بیع سلَم کےطورپردیں اورجب وہ مال لائےتواپنےخریدکردہ مال کےطورپراسےوصول کریں۔پھراس کوبیچ کرنفع کمائیں۔اس کی مزیدتفصیلات سمجھنےکےلیےآپ کسی قریبی مستنددارالافتاءمیں بالمشافہہ رابطہ فرمالیں۔

حوالہ جات

( قوله أو مدة ) إلا فيما استثنى : قال في البزازية : إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة، ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل. (رد المحتار علی الدرالمختار:9/ 78،دارالمعرفۃ) وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة. (رد المحتارعلي الدر المختار:9/ 107دارالمعرفۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔