021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹی وی نصب کرنےپراجرت لینا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

حوالہ نمبر:39/6146 فتویٰ نمبر: /57 سائل:مولاناعالمگیر مجیب: عبداللطیف مفتی : محمد مفتی:ابو لبابہ شاہ منصور مفتی:شہبازعلی مفتی: کتاب: اجارہ یعنی کرایہ داری کے احکام و مسائل باب: کرایہ داری کے متفرق احکام تاریخ:‏2018‏-08‏-26 اگرالیکٹریشن کسی گھرمیں وائرنگ کرتاہےاورکچھ کمروں میں ٹی وی (LCD) کی فٹنگ اورکنکشن بھی کرتاہےتواس کام کےپیسےلیناجائزہے؟

o

جب ایل سی ڈی کاصحیح استعمال زیادہ ہوتواسےنصب کرنافی نفسہ جائزہے،اس کاجواستعمال غلط ہوگاوہ لگوانےوالااپنےاختیارسےکرےگا،لگانےوالےپراس کاگناہ نہیں،لیکن جب اس کازیادہ استعمال غلط ہواورلگانےوالےکومعلوم ہوکہ اس کازیادہ استعمال غلط ہوگاتوایسی صورت میں اس کے بقدراجرت صدقہ کردے۔

حوالہ جات

قال العلامۃابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه؛ليعمل في الكنيسة ،ويعمرها لا بأس به؛ لأنه لا معصية في عين العمل. (رد المحتار:6/ 391) قال العلامۃالکاسانی رحمہ اللہ: وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح ؛لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا،كاستئجار الإنسان للعب واللهو ، وكاستئجار المغنية ، والنائحة للغناء والنوح، بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء ، والنوح لا كتابتهما. (بدائع الصنائع:9/ 363) قال العلامۃ بدر الدين العينى رحمہ اللہ: ولو استأجر على كتابة الغناء والنوح يجوز. نص عليه شيخ الإسلام؛ لأن المعصية في القراءة، وقد يقرأ وقد لا يقرأ. (منحة السلوك :ص 97)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔