021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمتِ مصاہرت
62110/57نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

ایک آدمی نے نا محرم عورت کے ساتھ دخول کے علاوہ بوس وکنار اور لمس وغیرہ سب کچھ کیا، تو کیا اب وہ آدمی اس عورت کی بہن، بیٹی، بھتیجی ، بانجھی، خالہ، پھوپھی، رضاعی بہن ،رضاعی ماں اور حقیقی ماں سے نکاح کر سکتا ہے؟

o

قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غیر محرم خاتون کو شہوت کے ساتھ چھو لے، اور محض اس چھونے سے اس کو انزال نہ ہوا ،تو ان دونوں کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس شخص کا اس خاتون کے اصول(ماں، دادی وغیرہ) اور فروع (بیٹی، پوتی وغیرہ) سے نکا ح حرام ہو جاتا ہے۔ اس قاعدے کی رو سے سوال ِمذکور میں اگر بوس و کنار سے اس شخص کو انزال نہ ہوا ہو تو اس خاتون کی بہن، بھتیجی ، بانجھی، خالہ، پھوپھی اور رضاعی بہن سے اس کا نکاح جائز ہے جبکہ بیٹی ،رضاعی ماں اور حقیقی ماں سے نکاح ناجائز ہے۔ اور اگر انزال ہو گیا ہو تو مذکورہ بالاتمام خواتین کے ساتھ اس کا نکا ح جائز ہے۔ لیکن واضح رہے کہ ایسا فعل گناہ کبیرہ ہے جو کہ اللہ کے غضب کا سبب ہے، اس لئے توبہ ،استغفار ضروری ہے۔

حوالہ جات

الهداية - (ج 1 / ص 186) "ولو مس فأنزل فقد قيل إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنهن بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء" الدر المختار للحصفكي - (ج 3 / ص 35) "(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا، والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته، به يفتى. وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قلبه أو زيادته." رد المحتار - (ج 9 / ص 268) "( قوله : وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته ) قال في البحر : أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال "
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔